چیئرمین سینیٹ کے الیکشن والے روز ارشاد بھٹی کو بیرون ملک سے کیسے کیسے پیغامات موصول ہوئے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سینیٹ مقابلہ تھا، یہ ایوانِ بالا دنگل تھا،ذرا سوچئے جو کروڑوں خرچ کرکے سینیٹر بنے گا کیا وہ اربوں نہیں کمائے گا، وہ سادھو تو نہیں کہ کروڑوں خرچ کرکے صرف ملک وقوم کی خدمت کرنے آئے،

ذرا سوچئے، کیاایوانِ بالا کا یہی تقد س ہے، یہ سب کچھ دیکھ کرکون عزت کرے گا، ذرا سوچئے، ایسے انتخاب کا کیا فائدہ، ایسے منتخب شدہ کا کیا مصرف،ذرا سوچئے، جو کچھ ہمارے سامنے ہوچکا، جو کچھ ہم نے دیکھا، جو کچھ ہم نے سنا، یہ سب کچھ دیکھنے، سننے کے بعد ہمیں اپنی جمہوریت اور جمہوریت کو نچوڑ نچوڑ کر اپنی پیاسیں بجھاتے ازلی پیاسوں سے پیا رہوگا، ذرا سوچئے، ہر شے بکاؤ، ہر شے کی اک قیمت، ہر شے خریدی، بیچی جا سکے،سب سے بڑا روپیہ،ہم اپنی اگلی نسلوں کو کیا دیئے جارہے، چیئرمین سینیٹ انتخاب والے دن خصوصی ٹرانسمیشن وقفے کے دوران امریکہ، ناروے اور کراچی سے آئے موبائل میسجز، ایک دوست کا پیغام تھا،یہ ملک نواز،زرداری کے لائق، یہاں تبدیلی نہیں آسکتی، ایک صاحب نے لکھا، کیا ہماری ہر چیزفار سیل ہے، ایک صاحب کا کہنا تھا، بس یہی ہے عمران خان کی تبدیلی،ایک سینئر سفارتکار دوست کا میسج تھا، براہِ مہربانی پریشان نہ ہوں، یہ سینیٹ مقابلہ ہے، یہ ایوانِ بالا دنگل ہے، بڑے بڑے شہروں میں ایسا ہوتا رہتا ہے، دوستو، یہ تو پاکستان سے محبت کرنے والوں کے جذبات، ان کے احساسات، سب سچے، سیاست میں بڑی بے رحمی، بڑی بے دردی سے اصول، قاعدے نکالے جا چکے، یقین جانئے، سینیٹ انتخابات کے پچیس تیس دنوں میں جو کچھ جھوٹ، سچ سنا، بس رہنے دیں، کبھی سوچا نہ تھا کہ ایسا ممکن، بقول سینئر دوست جاوید چوہدری2مارچ کو 178ممبر قومی اسمبلی وزیراعظم کے ساتھ کھانا کھارہے تھے جبکہ حفیظ شیخ کوووٹ پڑے 164، 11مارچ کی رات کو 52سینیٹرز پی ڈی ایم کو اپنی وفاداریوں کا یقین دلارہے تھے لیکن 12مارچ کی دوپہر سات سینیٹرز نے اپنے ووٹ ضائع کرکے گیلانی صاحب کو ہروادیا، جاوید چوہدری کا یہ کہنا نجانے کہاں تک ٹھیک ہے کہ مظفر علی شاہ کا پریزائڈنگ افسر بننا اور سات ارکان کا غلط جگہ پر مہر لگا ناسب طے تھا۔

Comments are closed.