چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے قبل مریم نواز نے کس کی ٹیلی فون کالز ثبوت کے طور پر ریکارڈ کروا لیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی سرکردہ رہنما مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ سینیٹ میں چیئرمین کے انتخاب کے لیے ان کے سینیٹرز کو اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالنے کا کہا گیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے لکھا:

’ہمارے کچھ سینیٹرز کو فون کر کے کہا گیا کہ وہ پی ڈی ایم کے امیدوار کو ووٹ نہ دیں۔ اس میں سے کچھ کالز بطور شواہد ریکارڈ کی گئی ہیں۔‘مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں یہ تو واضح نہیں کیا کہ یہ کالز کس کی جانب سے کی گئیں تاہم حال ہی میں ان کے دو سینیٹرز کو لیجائے جانے کے الزامات کے تناظر میں سوشل میڈیا صارفین ریکارڈ کی جانے والی مبینہ کالز کو نشر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مریم نواز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج جمعہ کو سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہونے والا ہے اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سینیٹ میں حکومت کے حمایتی سینیٹرز کی اقلیت کے ساتھ جیت کو ممکن بنانے سے متعلق سوال پر ایک نجی ٹیلی وژن پر کہا تھا کہ وہ جیت کے لیے ہر ہتھکنڈہ استعمال کریں گے اور پی ڈی ایم کو جیتنے نہیں دیں گے۔اس وقت سب سے اہم سیاسی سرگرمی نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہے۔حکومت نے آج ہونے والے اس انتخاب کے لیے تین سال سے چیئرمین سینیٹ رہنے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔صادق سنجرانی کے خلاف بطور چیئرمین سینیٹ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی جو ناکام رہی تھی۔ اس وقت بھی سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی اور یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ صادق سنجرانی اکثریت نہ رکھنے کے باوجود کن ارکان سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے مگر یہ انتخابات اس قدر دلچسپ ہوتے ہیں کہ یہاں اکثریت رکھنے کے باوجود شکست بھی مقدر بن جاتی ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کا طریقہ ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.