چین بھارت کشیدگی میں نیا موڑ ۔۔۔

نئی دہلی (ویب ڈیسک) انڈیا اور چین کے وزرائے دفاع کے درمیان سنیچر کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے دوران ماسکو میں ہونے والی ملاقات کے بعد اب دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان دس ستمبر کو ملاقات ہونے کی توقع ہے۔لداخ کے متنازع علاقے میں ایشیا کی دو جوہری طاقتوں میں تشویشناک کشیدگی کے تناظر میں انڈیا

کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور چین کے وزیر دفاع وے فنگخا کے درمیان ہفتے کو ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کی طرف سے علیحدہ علیحدہ بیانات جاری کیے گئِے جن میں کشیدگی کو پر امن طریقے سے کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔اس سال مئی سے مشرقی لداخ میں جاری فوجی کشیدگی کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ اس سے پہلے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان یہ ملاقات ہفتے کو ماسکو کے ایک ہوٹل میں ہوئی اور دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ ملاقات کے بعد سامنے آنے والے بیانات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں، جس کو چینی حکومت کا ترجمان بھی تصور کیا جاتا ہے، اتوار کو شائع ہونے والے ایک اداریے میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات نے ستمبر کی دس تاریخ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور انڈین وزیر خارجہ سُبرامینیم جیشنکر کی ملاقات کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کر دی ہے۔گلوبل ٹائمز نے اس ملاقات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چین اور انڈیا، جو دو بڑی جوہری طاقتیں ہیں اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی سرحدوں پر تعینات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، انھیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ سرحدوں کا تعین کرنے کے معاملات ایک یا دو ملاقاتوں میں طے نہیں کیے جا سکتے۔اخبار نے صبر اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دو نکات ایسے ہیں کہ جن کی وضاحت ہونا ضروری ہے۔ اول یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد، جسے لائن آف ایکچول کنٹرول کہا جاتا ہے، کا تعین نہیں ہو سکا ہے اور اس میں روز رد و بدل نہیں ہونی چاہیے۔اس ضمن میں سب سے اہم بات جو اس اخبار کی طرف سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ سات نومبر 1959 کی سرحد کو بنیاد بنا کر اس سرحدی تنازع کو حل کیا جانا چاہیے۔اخبار نے خبر دار کیا کہ اگر دونوں ملک اپنی مرضی سے ایل اے سی میں تبدیلیاں کرتے رہیں گے تو پھر تصادم کا خطرہ پیدا ہو گا جس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔اس اداریے میں سرحدی تنازع کی سنگینی اور پیچیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دوسری اہم بات اور نکتہ یہ ہے کہ چین اور انڈیا دو ترقی پذیر معیشتیں ہیں جو اپنی اقتصادی ترقی کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔ اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت سے ان کی معاشی ترقی پر گہرے اثرات پڑیں گے۔اداریے میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو صرف سرحدی تنازع کی روشنی میں نہیں دیکھا جانا چاہیے اور دانشمندی سے کام لیا جانا چاہیے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.