چین میں جب ترقی کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو ایک مفکر نے چینی حکام کو کیا مشورہ دیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مغرب کے بہت سے لوگ یہ خواب دیکھتے ہیں کہ چین مغربی طرز کی جمہوریت اختیار کر لے گا۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ چین کے ڈیڑھ ارب لوگوں کا اپنا ایک کلچر اور اپنی تاریخ ہے۔ یہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے

گزارنے کے عادی ہیں۔ وہ اپنی سرحدوں میں سکون سے رہنے کے قائل ہیں۔ غور کریں کہ اگر چین کے بحری جہاز اور فائٹر جیٹ امریکہ کے ساحل سے بارہ میل دُوری پر آ کر بیٹھ جائیں تو پورے امریکہ میں ایک طوفان کھڑا ہو جائے، جبکہ امریکی بحری بیڑے چین کے آس پاس بڑے آرام سے منڈلا رہے ہیں، لیکن چین تحمل اور بردباری سے خاموش ہے۔ جس زمانے میں چین کی ترقی کو ایک ’’ہُوّا‘‘ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا تو لی کوآن یو نے کہا تھا :کہ چین کی مثال سے سیکھو، اس کے پڑوس میں بھارت تقریباً اسی رفتار سے ترقی کر رہا ہے لیکن چین اس کو اپنے لئے کسی قسم کا خطرہ تصور نہیں کرتا۔ ڈین ژیائو بنگ نے جب چین کو کیمونسٹ معاشی نظام سے نکال کر عالمی منڈیوں کی تجارت سے منسلک کیا تو اس میں بھی مشورہ لی کوآن کا شامل تھا۔ موجودہ چینی صدر ژی جب منظر سے غائب تھا تو اس دوران اس کی مسلسل مشاورت لی کوآن سے رہتی تھی، جس نے اس کو دو مشورے دیئے تھے، ایک مغرب کے جمہوری نظام کے بارے میں کبھی سوچنا بھی نہیں اور دوسرا بدعنوانی کے خلاف سخت ترین قوانین لائو، ورنہ ساری ترقی تباہ ہو جائے گی۔ دُنیا شاہد ہے کہ ژی نے برسر اقتدار آتے ہی چین کی بدعنوانی کیخلاف اپنی مہم کے پہلے دو برسوں میں ہی لاتعداد بڑے لوگوں کو زندگی سے محرومی کی سزائیں دی گئیں، عمر قید تو عام سی بات تھی اور دو لاکھ سے زیادہ افراد سرکاری نوکری سے فارغ کر دیئے گئے، لیکن ایسا سب کچھ کرنے کیلئے پارٹی کا ڈاکومنٹ 9 بہت اہم تھا جس کے تحت میڈیا پر بدعنوان سیاسی لیڈروں کے حمایتی تجزیہ کاروں پر پابندی لگائی گئی۔ یہ ہے چین کا وہ ماڈل جس کی کامیابی مغربی سیکولر لبرل جمہوری نظام کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کوئی مغرب زدہ دانشور چین کی اس کامیابی کی اصل وجہ کسی کو نہیں بتاتا۔ وجہ صرف ایک ہے۔ جمہوریت سے دُوری اور مضبوط مرکز۔

Comments are closed.