چین پاکستان کا دست وبازو بن گیا ۔۔۔۔

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان اور چین کومخالف اور غلط سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔ان خیالات کا اظہار چین کی دفتر خارجہ کے ترجمان ژاؤلی جیان نے جمعہ کے روز بیجنگ میں معمول کی بریفنگ کے دوران کیا۔چینی وزارت خارجہ کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق

ترجمان چینی دفتر خارجہ کا کہنا تھا حقیقت میں بدامنی اور کورونا وائرس اصل مخالف ہے۔ چین نےبدامنی کیخلاف لڑائی میں پاکستان کی شاندار کوششوں اور قربانیوں کی تعریف کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انہیں مکمل طو ر پر تسلیم اور ان کا احترام کرے۔بدامنی عالمی دنیا کا مشترکہ چیلنج ہے۔ بدامنی تمام ممالک کو درپیش مشترکہ مسئلہ ہے اور پاکستان نے اس کیخلاف لڑائی میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ تمام ممالک کو باہمی احترام مساوات اور مفادات کی بنیاد پر عالمی امن اور سلامتی کے مشترکہ دفاع کیلئے اینٹی ٹیررازم کیلئے عالمی تعاون کرنا چاہیے۔ چین اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ اقوام متحدہ کو اس سلسلے میں کلیدی کردا ر ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کیساتھ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کے مثبت بیان کو سرا ہتے ہیں۔ چین اور پاکستان، جو سدا بہار تذویراتی تعاون کے شراکت دار ہیں اوردونوں ممالک کے درمیان ہمیشہ سے باہمی اعتماد، تعاون، دوستی اور حمایت پرمبنی تعلقا ت ہیں۔ ا س سال کورونا وائرس کی آزمائش کاکامیابی سے مقابلہ کرنے کے بعد چین اور پاکستان کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔قبل ازیں چینی ریاستی قونصلر اور وزیرخارجہ وانگ یی، ا ن کے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کی جانب سے جاری ہونیوالے ایک مشترکہ پریس بیان کے مطابق سرحدی علاقوں میں ہونیوالی پیشرفت اور دوطرفہ تعلقات کے بارے میں 5نکاتی اتفاق رائے ہوگیا۔بیان میں کہاگیا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ دونوں اطراف چین بھارت تعلقات کے بارے میں پیشرفت پرد و نوں مما لک کے رہنماؤ ں کے مابین اتفا ق رائے پرعملدرآمد کرناچا ہئے اور اس کیساتھ اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونے دیا جائیگا۔سرحدی علاقوں میں موجودہ صورتحال کسی کے بھی مفاد میں نہیں، انہوں نے اتفاق کیا کہ دونوں فریقین کے سرحدی دستے مذاکرات جاری رکھیں گے، فوری طور پر دور ہوجائیں گے، مناسب فاصلہ رکھیں گے اور تناؤ کم کریں گے۔ دونوں فریقین سرحدی امورپرموجود معاہدو ں اورآداب کی پاسداری کریں گے، سرحدی علاقوں میں امن وامان برقرار رکھیں گے اورکوئی ایسا عمل نہیں کریں گے جس سے ا ختلا فات کو بڑ ھاوا ملے۔دریں اثنا دونوں فریقین خصوصی نمائندہ کے طریقہ کار کے ذریعے چین بھارت سرحدی معاملے پر مذاکرات اور بات چیت جاری رکھیں گے جبکہ چین بھارتی سرحدی امور پر تعاون اورمشاورت کیلئے کام کرنے کا طریقہ کاراپنے اجلاس جاری رکھے گا۔بیان میں مزید کہا گیا دونوں وزیروں نے اتفاق کیا کہ جیسے ہی حالات معمول پر آتے ہیں تو دونوں فریقین سرحدی علاقوں میں امن وامان برقرار رکھنے اوراس میں اضافہ کیلئے نئی اعتماد سازی کیلئے کام کریں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.