چین کی مشہور ترین ایپ بند کرنے پر پاکستان کو ہونے والے خوفناک نقصان سے آگاہ کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) میری نظرمیں ٹک ٹاک یا اسی جیسی کوئی بھی دوسری ایپ مہنگائی، بے روزگاری اور ناامیدی کے اس دور میں صرف ایک تفریحی ایپ نہیں جس کی ویڈیوز دیکھ کر آپ مسکرا لیتے تھے، اپنا ذہنی دباؤ کم کر لیتے تھے بلکہ اس سے بھی کہیں آگے یہ نوجوان نسل

کی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بڑا ذریعہ ہے،نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ نوجوان نسل جو غلط کاموں کی طرف بھی جا سکتی ہے اور انتہا پسندی کی طرف بھی۔خان صاحب کی یہ سوچ اپنے اصول،ضابطوں اور احکام میں وہی’ ضیاءالحقی‘ لئے ہوئے ہے جس نے عشروں پہلے ہماری فلم انڈسٹری کو کباڑ کر دیا، اس سوچ نے ہماری اشتہاری صنعت کو تباہ و برباد کیا اور انڈیا اس انڈسٹری میں ہم سے کہیں آگے نکل گیا۔ ہمارے ہاں سٹیج ڈرامہ مقبول ہوا مگر اسے اپنی مقبولیت کے لئے پھکڑپن کا سہارا لینا پڑا۔ میں اپنے پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ٹک ٹاک کے ذریعے ہمارے گلی محلے کے عام نوجوانوں نے ثابت کیا کہ وہ بڑے بڑے چینلوں کے معروف اداکاروں سے زیادہ ریٹنگ اور مقبولیت لینے کا ہنر جانتے ہیں مگر ان کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے پاس اتنا پیسہ نہیںکہ وہ کوئی ڈرامہ سیریل بنا کے اس میں خود کو متعارف کر وا سکیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی پرچی کوئی ریفرنس ہے جس پر انہیں کوئی فلم ساز یا ڈراما میکر گھاس ڈالے۔ ان میں وہ لڑکیاں بھی شامل ہیں جو محض اپنی چند سیکنڈز کی ویڈیوز سے بڑی بڑی اداکاراؤں جیسی سیلیبریٹی بن گئیں، جی ہاں، وہ لڑکیاں جو کسی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کے بستر کے راستے سے چانس نہیں لینا چاہتی تھیں ۔ میں اضافی طور پر یہ بھی کہوں گا کہ جب ہماری فلم انڈسٹری سسک رہی اور چینلز بند ہو رہے ہیں تو ہمارے بہت سارے کیمرہ مینوں، نان لینئر ایڈیٹروں اور کانٹینٹ رائٹروں کو

بہت ساری بننے والی چھوٹی چھوٹی کمپنیوں میں روزگار ملا اور ان کے گھر کا چولہا جلنے لگا مگر خان صاحب کے پی ٹی اے نے غیر اخلاقی ویڈیوز کابہانہ بنا کے سب کچھ بند کر کے رکھ دیا ہے۔بات صرف اتنی نہیں کہ ٹک ٹاک بند ہو گئی اور ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں کے اظہار کا مقبول ذریعہ ختم ہو گیا، وہ لائیکی پر چلے جائیں گے تو اس کو بھی بند کر دیجئے گا تو وہ اس کے بعد ٹوئیٹر پر کام شروع کر دیں گے، اپنے فین اور فالوور گروپ بنا لیں گے،د و منٹ دس سیکنڈ کی ویڈیوز وہاں شئیر کرنا شروع کر دیں تو کیا پی ٹی آئی اپنی مقبولیت کا بیس کیمپ بھی بند کر دے گی کیونکہ ڈر اور خوف کی کوئی آخری سرحد نہیں ہوتی اور جب آپ بھاگنا شروع کر تے ہیں تو پھر اس وقت تک بھاگتے رہتے ہیں جب تک گر نہیں جاتے۔جناب فاروق عادل ٹک ٹاک کے بند ہونے کو ایک بڑے کینوس پر دیکھتے ہیں کہ ٹک ٹاک چائینز ایپ ہے اور اس سے پہلے امریکا اور انڈیا بھی اس پر پابندی لگا چکے ہیں اور ہم نے اس پابندی کے ذریعے امریکی کیمپ جوائن کر لیا ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ موجودہ حکومت نے سی پیک کو محدود کر کے چین کی حکومت کے ساتھ دوریاں پیدا کی ہیں اور ٹک ٹاک بند کر کے چینی عوام کو پیغام دیا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں اور اگر یہ پیغام وائرل ہو گیا تو اس کے بعد ہم ’شہد سے میٹھی‘ کو بس باتوں میں ہی چاٹتے رہ جائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *