چین ہر صورت میں افغانستان سیٹ اپ کی حمایت کیوں کرنا چاہتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار احمد وقاص ریاض اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا کی دوسری بڑی سپرپاور چین کے اپنے مفادات اس خطے سے جڑے ہیں اور اس کی کوشش ہو گی کہ افغانستان کی نئی حکومت کو زیرِ اثر رکھ کر اپنے مقاصد پورے کرے۔ اپنے تجارتی راستوں کو

محفوظ اور دنیا کی تجارتی منڈیوں تک رسائی کے لئے بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک کی طرح کے بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لئے چین اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا خواہاں ہوگا، اس کے علاوہ چین کی کوشش ہوگی کہ ان کے ملک میں اسلامی تحریکوں کو تالبان مدد فراہم نہ کریں۔افغانستان اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے، عوام خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں، حکومتی مشینری غیرفعال ہے، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدم تحفظ کا شکار عوام بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں خصوصاً خواتین اور سابق سرکاری ملازم نئی حکومت سے خوف زدہ نظر آتے ہیں۔ تالبان نے اب تک مناسب رویے اور اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ہے مگر ناتجربہ کاری یا غصے میں اکا دکا افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کو چاہئے کہ ملکی معاملات خصوصاً اقتصادی و معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے لئے تجربہ کار ماہرین لے کر آئیں اور دنیا کے لئے قابل قبول حکومت تشکیل دیں تاکہ ان کے اقتدار کو دوام حاصل ہو سکے۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہئے کہ نئی افغان حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں مگر ان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کریں۔ ہمارے ملک کا جغرافیہ دنیا بھر کے لئے باعثِ کشش ہے ہمیں سب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں اور اگر کوئی سردمہری کا مظاہرہ کرے تو ہمیں خود دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے کہ ملکی مفاد ہر چیز پر مقدم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *