ڈالروں کی بارش ہوئی نہ پاؤنڈز کی برسات: اب عمران خان کے سونے سے بنے لوگ ہم پیتل کے لوگوں کو معاف کردیں ۔۔۔۔ سہیل وڑائچ نے بڑی گہری بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔قتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے میرے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے پاس 200اوورسیز پروفیشنل موجود ہیں جو اسٹیل مل، پی ٹی اے اور دوسری سرکاری کارپوریشنز کو کھڑا کر دیں گے۔ خیال یہی تھا کہ دنیا بھر میں پھیلے

اوورسیز ڈاکٹرز میں سے کوئی مسیحا باہر سے مجرب نسخہ لے کر آئے گا اور ہمارا صحت کا نظام ٹھیک کر دے گا، اندازہ یہ تھا کہ یورپی یا امریکی تعلیم یافتہ کوئی ماہر تعلیم واپس پاکستان آئے گا اور ہمارے تعلیمی نظام میں وہ تبدیلیاں لائے گا کہ ہم یورپ اور امریکا جیسے گریجویٹ پیدا کرنے لگیں گے۔توقع تھی کہ بیرونِ ملک کا پڑھا کوئی ماہر معیشت آ کر ہمارے معاشی دلدر دور کر دے گا۔ یہ بھی سوچا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف عدالتی، سماجی اور انتظامی اصلاحات لائے گی جس سے سرخ فیتہ پٹوار اور تھانیداری نظام ختم ہو جائیں گے۔سب کا خیال تھا کہ اور کچھ ہو نہ ہو، اوورسیز بھائی ملک میں سرمایہ کاری کریں گے، چھوٹی صنعتیں لگائیں گے، عمران خان کے کندھے سے کندھا ملائیں گے اور پاکستان کو مشکل حالات سے نکال کر دنیا کا جدید ملک بنانے میں مدد کریں گے۔عمران خان کی حکومت آئے20ماہ گزر گئے اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کی اکثریت اب بھی پُر امید ہے مگر اندرونِ ملک سوچ بدلنے لگی ہے۔ سونے کے بنے اوورسیز پاکستانیوں اور پیتل کے بنے پاکستانیوں کی سوچ میں واضح فرق آ گیا ہے، مثال کے طور پر ایک نیوز اینکر کے چینل کو ساری آمدنی بیرونِ ملک آباد پاکستانی ناظرین کے ذریعے یو ٹیوب سے ہوتی ہے لیکن اسی اینکر کی پاکستان میں ریٹنگ 18ویں نمبر پر ہے اس سے صاف پتا چل رہا ہے کہ سونے سے بنے لوگ اور طرح سوچ رہے ہیں اور پیتل سے بنے اور طرح۔اوورسیز بھائیوں کی تمام تر نیک نیتی کے باوجود عرض یہ کرنا تھا کہ آپ زمینی حقائق سے دور بیٹھے ہیں، آپ کے تجویز کردہ حل ہمارے لئے کارگر نہیں ہیں۔ آپ ہمارا اچھا چاہتے ہیں تو ہم پر اپنے حل اور فارمولے مت ٹھونسیں۔ہمیں اپنی مرضی سے سانس لینے دیں، ہم نے آپ کی بات مانی، آپ کی مدد کا انتظار کیا، ڈالروں کی بارش ہوئی نہ پائونڈوں کا طوفان آیا، نہ ہی ریال اور درہم برسے۔سیاست کرنا پیتل کے لوگوں کا کام ہے، سونے کے بنے لوگ ہمارے لیے دعا کیا کریں اور اپنے آپ کو مالی امداد تک محدود رکھیں، وہ اسی کام کے لیے باہر گئے ہیں، یہی کام کرتے رہیں تو بہتر ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.