ڈاکٹر شاہد مسعود نے نجم سیٹھی سے معافی مانگ لی ،

لندن (ویب ڈیسک) سینئر صحافی مرتضیٰ شاہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔ اینکر پرسن اور کالم نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے7 سال کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین اور صحافی نجم سیٹھی سے 2013 کے انتخابات میں’’ 35 پنکچر‘‘ کے ذریعے دھاندلی کا جھوٹا الزام لگانے پر معافی مانگ لی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے یہ الزامات 2014 کے وسط میں شائع کئے تھے کہ نجم سیٹھی 2013 کے انتخابات میں دھاندلی میں ملوث تھے اور انہوں نے ’’ 35 پنکچر‘‘ یا ’’پینتی پنکچر‘‘ لگانے کے لئے کہا، کیونکہ نجم سیٹھی نگران وزیراعلیٰ پنجاب تھے اور مبینہ طور پر 35 نشستوں پر دھاندلی کے نتائج کا الزام پاکستان مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنانے کیلئے تھا۔ یہی الزام بعد میں 2013 کے انتخابات کے خلاف مکمل مہم چلانے کے لئے استعمال کیا گیا اور جیو گروپ کو بدنام کیا گیا اور اسی الزام کی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا کہ جیو گروپ مبینہ طور پر اسی دھاندلی کی مشق کا حصہ تھے۔ افواہ کو سب سے پہلے ڈاکٹر شاہد مسعود نے مرکزی دھارے میں شامل کیا، جنہوں نے اس وقت بھی اس کا دفاع کیا جب نجم سیٹھی نے سخت تردید جاری کی اور جیو نے جعلی خبروں کی مذمت کی لیکن اس ہفتے ڈاکٹر شاہد مسعود نے ریکارڈ درست کیا اور اپنے ٹی وی شو میں قبول کیا کہ الزامات دراصل جعلی خبریں ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ 35 پنکچر کی خبروں کا ذریعہ جعلی تھا، جس نے مجھے جعلی خبر دی اور غائب ہو گیا۔مجھے احساس ہے کہ یہ الزام نجم سیٹھی کے لئے کتنا تکلیف دہ تھا۔ میں نجم سیٹھی سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں اور معافی چاہتا ہوں۔ یہ خبر مجھے کسی ایسے شخص نے دی، جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے گا۔ نجم سیٹھی دوست ہیں اور میں ان سے معافی چاہتا ہوں۔

میرے پاس ایک ذریعہ تھا جس نے پینتی پنکچر کی یہ عجیب خبر مجھے دی۔ میں دل کی گہرائیوں سے نجم سیٹھی سے معذرت خواہ ہوں، جب لاہور جاؤں گا تو میں ایک کپ چائے کے لئے ان کے گھر جاؤں گا۔ نمائندے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ مجھے نجم سیٹھی سے کافی عرصہ قبل معافی مانگنی تھی۔ دی نیوز نے اس رپورٹر کی طرف سے 10 ستمبر 2014 کو ایک کہانی شائع کی تھی جس کا عنوان تھا “35 پنکچر کے افسانے کے پیچھے حقیقت”۔ دی نیوز کی تحقیقات سے ثابت ہوگیاکہ پاکستان میں یہ افواہ برطانیہ میں مقیم ایک شخص نے پھیلا رکھی تھی، جو کہ 2014 میں اسلام آباد دھرنے میں ڈاکٹر طاہر القادری کے مشیر تھے۔ وہ ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان کے لئے کردار کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اسلام آباد کے حلقوں میں یہ سازش بھی پھیلا دی کہ نجم سیٹھی نے مسلم لیگ (ن) کو اپنی حریف جماعتوں پر برتری دلانے کے لئے 35 نشستوں پر پنکچر لگائے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اسی مسئلے پر گفتگو کی۔ انہوںنے کبھی بھی اپنی “تحقیق” کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور اپنی ای میل میں دعویٰ کیا کہ درجنوں دلچسپ خبروں کے کلپس میں سے ایک نے میری آنکھوں کو مسحور کر دیا، جسے میں نے سائبر اٹیک پر اپنی تحقیق میں استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت کے لئے کبھی کوئی آڈیو یا ویڈیو ثبوت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی سازشی ای میل

میں کہا کہ جب نجم سیٹھی (مارچ ۔مئی 2013 میں) پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ تھے تو وہ شریف برادران کی انتخابی جیت کو یقینی بنانے کے لئے خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ 26 اپریل 2013 کو نجم سیٹھی نے درجنوں دیگر سینئر بیوروکریٹس سے ملاقات میں شریفوں کو آگاہ کیا کہ پی ایم ایل این پنجاب میں قومی اسمبلی کی 30 سے 35 اہمنشستیںکھوسکتی ہے۔اسدعوے کی صداقت پیش کرنے کے لئے اب تک کوئی ٹیپ ریکارڈنگ تیار نہیں کی گئی اور یہ وہ دعویٰ تھا جو ڈاکٹر شاہد مسعود کو دیا گیا تھا، جسے انہوں نے مستند خبر کے طور پر منتقل کیا تھا اور یہ وہی جعلی خبر ہے، جسے اب ڈاکٹر مسعود نے معذرت کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ستمبر 2014 میں جب دی نیوز نے رابطہ کیا تو برطانیہ کے دفاعی اور سفارتی ذرائع نے ان کی ای میل میں لگائے گئے الزامات پر ہنستے ہوئے کہا چند اینکرز کے ذریعے پاکستان کو مرکزی دھارے میں حقائق کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کہانی میں کوئی سچائی نہیں ہے اور وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ وہ اس کہانی کو کیسے جانتے ہیں۔ ’’35 پنکچرز‘‘ کا خصوصی کریڈٹ لیتے ہوئے برطانیہ میں مقیم شخص نے کہا کہ میں نے پنکچر کی اصطلاح پشاور/راولپنڈی/اسلام آباد اور لاہور میں اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کی تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ شاہد مسعود کو ایک بریگیڈیئر (پی ٹی آئی کے حامی) کے ذریعے پتہ چلا ہوگا، میں نے یہ واقعہ 29 جنوری کو آغا مرتضی پویا کو ایک عشائیہ کے دوران سنایا۔ بریگیڈیئر نے اسے عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر کارکنوں کے ساتھ شیئر کیا، ہو سکتا ہے کہ شاہد مسعود نے ان ذرائع میں سے کسی کو بھی میرے ذریعے رپورٹ کیا ہو۔ انہوں نے ڈاکٹر قادری کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کی حمایت کرنے پر قائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لندن میں ڈاکٹر قادری کی دھرنا پریس کانفرنس میں شرکت کی اور ڈاکٹر قادری کے ساتھ پاکستان میں انقلاب کا سفر کیا۔

Comments are closed.