ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں شامل انکا قریبی رشتہ دار پھٹ پڑا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی فرحت جاوید بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔جب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ کے لیے اسلام آباد کی فیصل مسجد کے احاطے میں پہنچی اور یہاں موجود ان کے ایک رشتہ دار سے بات کرنا چاہی تو وہ یہ نہیں چاہتے تھے

کہ ان کا نام لکھا جائے۔ شاید اب بھی وہ اس حوالے سے محتاط ہیں۔میں نے جب ان سے پوچھا کہ نظر بندی سے متعلق ڈاکٹر عبدالقدیر کا ردعمل کیسا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے یہ تمام سال ’بہت مشکل اور تنہائی میں گزرے۔‘انھوں نے بتایا کہ ’وہ زندگی سے بھرپور انسان تھے۔ مگر ان کے شکوے تو میڈیا پر بھی نظر آئے۔ یہ قید تنہائی تھی۔ وہ رشتہ داروں سے ملنا چاہتے تھے، وہ فیملی مین تھے۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ وہ دبے الفاظ میں شکایت کرتے تھے مگر اب یہی ان کی زندگی کا حصہ تھا۔ آج ایک باب ختم ہوا ہے۔‘فیصل مسجد کے باہر تیز بارش میں کھڑا دیکھ کر ایک باریش شخص نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ’کیا ایسا کوئی امکان ہے کہ آپ آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فیملی سے ملیں؟‘ہزاروں کے مجمع میں ایسا ممکن نہیں تھا اور اب جبکہ نماز جنازہ بھی ختم ہو چکی تھی اور میں رش کے ڈر سے باہر پارکنگ میں پہلے ایک پولیس وین اور پھر ایک فوجی جیپ کے کور میں تھی۔ اسی دوران ہمیں ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایک قریبی رشتہ دار نے جوائن کیا۔ اور پھر ان کے پرانے ساتھی بھی وہیں پہنچ گئے۔یہاں بے انتہا رش تھا اور مسجد کی پارکنگ سے باہر نکلنا بظاہر ناممکن تھا۔ سو ہم وہیں انتظار میں کھڑے رہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ان قریبی فیملی ممبر نے بتایا کہ ان سے ملاقات کرنا بہت مشکل کام تھا۔ ’ہم ان کے براہ راست خاندان کا حصہ ہیں۔ مگر ان سے ملاقات اجازت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ ہم پہلے ان سے رابطہ قائم کرتے، پھر وہ حفاظت کرنے والوں کو ہمارے بارے میں بتاتے، ملاقات کا مقصد بتایا جاتا اور پھر ان سے ملنے کی اجازت ملتی۔‘مگر اس کے ساتھ وہ یہ بھی دہراتے رہے کہ ’ڈاکٹر اے کیو خان کتنے بڑے ہیرو تھے اس کا اندازہ آج یہاں آنے والوں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی عوام ان سے محبت کرتی تھی۔‘

Comments are closed.