ڈاکٹر عامر لیاقت کو اپنے اس بیان کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سعید خاور اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جمعہ 24دسمبر 2021ء کو’’ مہاجر کلچرل ڈے‘‘ پر ڈاکٹر فاروق ستار کی ثقافتی ریلی کے پلیٹ فارم سے عامر لیاقت حسین نے جوش خطابت میں اچانک ایک ایسا بیان داغ دیا جس نے ڈاکٹرفاروق ستار کی زیر علاج سیاست کوایک

دم آکسیجن ٹینٹ سے باہر دھکیل دیا ہے ۔ اس بیان سے ڈاکٹر فاروق ستار کو جو سیاسی نقصان ہوا وہ ایک الگ کہانی ہے لیکن اس دھماکہ خیز بیان سے خود عامر لیاقت حسین کی جماعتی حیثیت پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ’’مہاجرثقافتی ریلی ‘‘سے خطاب کے دوران عامر لیاقت حسین نے اچانک کہا کہ ’’اگرتالبان سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو کالعدم قیادت سے کیوں نہیں؟‘‘ان کایہ جملہ بجلی بن کر کڑکا اور اس میں ڈاکٹر فاروق ستار کاسب کچھ بھسم ہو گیا۔ خوش گمانوں نے کہا ہے کہ یہ بات عامر لیاقت حسین خود نہیں کہہ سکتے ،یہ مشور ہ یا مطالبہ کسی نے ’’اوپر‘‘ سے ان کے منہ میں ڈالا ہے ۔ اس جملے سے لندن سے کسی کی واپسی کے منتظر لوگوں کی خوش فہمیوں کا ٹھکانہ نہیں رہا۔ اس صورت حال میں عامر لیاقت حسین سے سوال تو بنتا ہے۔سیاسی ناقدین کاسوال ہے کہ عامر لیاقت حسین یہ بتائیں کہ وہ عمران خان کے لاڈلے ہیں یا کالعدم قیادت کے؟ ان کا یہ جذباتی مشورہ یا مطالبہ تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی کا تھایا کالعدم قیادت سے اندھی عقیدت رکھنے والے کسی وفادار کارکن کا؟ عامر لیاقت حسین جو عمران خان سے ہمہ دم محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے ، کیا انہیں اس بات کاا ندازہ ہے کہ اس جملے کی سنگینی کاخمیازہ تحریک انصاف میں کسے بھگتنا پڑے گا ۔ سوچنے کی بات ہے کہ انہیں یہ جملہ کہنے کا مینڈیٹ کس نے دیاکیوں کہ عامر لیاقت حسین کا حالیہ بیان کالعدم ایم کیو ایم اور اس کی قیادت سے متعلق پی ٹی آئی کے روایتی بیانیے سے یکسر مختلف ہے۔ایم کیوایم حکمران جماعت تحریک انصاف سے اتحاد کے باوجود اپنی کالعدم قیادت سے دوری رکھنے کی پابند ہے لیکن بعض اوقات ایم کیوایم کے زمانہ عروج کے غیر فطری رومان میں جکڑے جذباتی کارکن اور رہنما موجودہ پاکستانی قیادت کے لئے ایسی غیر متوقع اور ناموزوں صورت حال پیدا کر دیتے ہیں کہ ان کیلئے 22 اگست 2016 ء کے ڈرائونے خواب کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور اس کے دفاع میںبے چارے متحدہ رہنمائوںسے بات بنائے نہیں بنتی ۔اس بار عامر لیاقت حسین نے شعوری یا لاشعوری طور پرایک تیر سے یک بہ یک اپنے محبوب وزیراعظم عمران خان اورسیاسی رفیق ڈاکٹر فاروق ستار کو شکار کیا ہے۔

Comments are closed.