ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم اگر ” شیدا ٹلی ” کے مقابلے میں الیکشن لڑتے تو یقیناً ہار جاتے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔زمانہ طالب علمی میں جن تین بڑی شخصیات سے ملنے کی خواہش تھی ایک اُن میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے، دوسری دوشخصیات میں ایک عبدالستار ایدھی دوسرے عمران خان تھے، …… ان تینوں کے ساتھ صرف ملاقات کی حسرت ہی پوری نہیں ہوئی،

اللہ کے خاص فضل کرم اور ترس سے اِن تینوں کے ساتھ ایک ذاتی تعلق کا اعزاز بھی نصیب ہوا، میں نے اِس کا تصور بھی کبھی نہیں کیا تھا، بس آرزو اتنی سی تھی کسی محفل میں دُور سے اِن تینوں کو میں دیکھ لُوں، یا اُن کے ساتھ ایک آدھ بار ہاتھ ملانے کا شرف حاصل ہو جائے…… اب ”تصور“ پر”تصوف“ کی ایک بات مجھے یاد آرہی ہے، ایک بار اپنے والد محترم سے میں نے کہا ”ابوجی آپ کے اِس”بے اوقاتے“ پُترکو جو کچھ اللہ نے عطا کردیا ہے اُس کا تصور بھی میں نے کبھی نہیں کیا تھا“…… کہنے لگے ”تم بڑے کم عقل (گدھے) ہو جو تم نے یہ تصور نہیں کیا تھا…… کیا تمہیں اللہ کی رحمت کا اندازہ نہیں تھا؟“…… یہ بات ایک بار ڈاکٹر قدیر خان کو میں نے سنائی بے ساختہ اُن کے منہ سے نکلا”ارے آپ کے ابا تو بڑے کمال کے ہیں، میں نے ان سے ملنا ہے“……میں نے بتایا دوسال قبل اُن کا انتقال ہوگیا تھا، اِس پر وہ بڑے افسردہ ہوئے، فرمایا”کسی روز اُن کی مزید باتیں سنائیے گا، وہ بڑے عظیم تھے“…… میں نے عرض کیا ”جی بالکل، اصل میں وہ چٹے ان پڑھ تھے“…… اُنہوں نے میرے اِس جواب پر بڑی معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا، میں نے اپنے مشہور صوفی دانشور اشفاق احمدکا یہ قول اُنہیں سنایا ”اِس ملک کو جتنا نقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے اُتنا ان پڑھوں نے نہیں پہنچایا“…… ساتھ ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے علم اور مرتبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے عرض کیا

”سر اِس ملک کو جتنا نقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا آپ نے اُس کا ازالہ کردیا“…… ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی چلے گئے، پچھلا کالم میں نے عمر شریف کے حوالے سے ”اب یہاں کوئی نہیں آئے گا“ کے عنوان سے لکھا تھا، میں نے عرض کیا تھا”بڑے لوگوں کو پیدا کرنے کے حوالے سے یہ دھرتی اب بانجھ ہوگئی ہے، کیا اب ہم یہ تصور کرسکتے ہیں یہاں کوئی نورجہاں کوئی نصرت فتح علی خان، کوئی مہدی حسن، کوئی اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، مختار مسعود، بانوقدسیہ پیداہوں گے؟ اِس لیے پیدا نہیں ہوں گے کہ بداخلاقیوں کے جس بدترین مقام پر ہم کھڑے ہیں ایسے بڑے لوگوں کے ہم حقدار ہی نہیں ہیں، …… اب ہمارے ”ہیروز“ اور ہی طرح کے لوگ ہیں، ایک واقعہ شاید پہلے بھی میں لکھ چکا ہوں، لاہور میں شادی کی ایک تقریب میں ”ایک ڈان “ میرے ساتھ میز پر آکر بیٹھ گیا، اُس کے بعد ایک ہجوم اُس میز پر اُمڈ آیا، وہ سب اس کےساتھ سیلفیاں اور تصویریں لینے لگے، جب اِس ہجوم میں مزید اضافہ ہوگیا، باقاعدہ دھکم پیل شروع ہوگئی تو ”برانڈ صاحب“ نے میرے کان میں کہا ”سراگر آپ اجازت دیں میں دوسری میز پر چلے جاؤں؟“……میں نے وجہ پوچھی اُنہوں نے فرمایا ”مجھے بڑی شرم آرہی ہے آپ ایک بڑی علمی ادبی و صحافتی شخصیت ہیں، اور یہ پاگل آپ کے ساتھ سیلفیاں اور تصویریں لینے کے بجائے مجھ ایسے بندے کے ساتھ لے رہے ہیں“……میں مسکرایا، میں نے کہا ”یہ آپ میری عزت کررہے ہیں یا مجھے ”ٹانٹ“ کررہے ہیں؟“……

میرے بات سُن کر وہ بھی مسکرادیئے، اور دوسری میز پر چلے گئے…… عرض کرنے کا مقصد یہ ہے ہمارے ”ہیروز“ اب اور ہی طرح کے لوگ ہیں، جو جتنا ”لُچا“ ہے وہ اُتنا ”اُچا“ ہے، ایک فلم قائداعظم کی زندگی اور جدوجہد پر بنی تھی، چاردن بھی وہ نہیں چل سکی، اور مولاجٹ،وحشی جٹ، گجر داکھڑاک بھی فلمیں تھیں، جنہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے تھے، قائداعظم بانی پاکستان تھے، اُنہوں نے پاکستان بنایا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، محسن پاکستان تھے، اُنہوں نے پاکستان کو مضبوط کیا، صرف پاکستان کو نہیں پورے عالم اسلام کو مضبوط کیا، ……پاکستان جب ایٹمی قوت بنا پورے عالم اسلام میں جشن منایا گیا، یہ سب کی ”سانجھی خوشی“ تھی، ایک واقعہ میں نے سنا تھا ایک فلسطینی بچہ اپنی بہادری کی شناخت کے طورپر کہا کرتا تھا ”ہم مسلمان صلاح الدین ایوبی کی اولاد ہیں“…… جس روزپاکستان ایٹمی قوت بنا اُس نے ایک پتھر اُٹھایا اور اسرائیلی توپوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ”پاکستان ایٹمی قوت بن گیا ہے“…… ایک اور فلسطینی بڑا کنجوس تھا، اُس کی مٹھائی کی دکان تھی، پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی جیسے ہی اُسے اطلاع ملی اُس نے دکان میں پڑی مٹھائی تقسیم کرنی شروع کردی، لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی اِس کنجوس کو کیا ہوگیا ہے آج مفت مٹھائی بانٹ رہا ہے؟۔ کسی نے پوچھا ”بھائی فلسطین آزاد ہو گیا کیا؟، وہ بولا ”نہیں فلسطین آزاد نہیں ہوا، پاکستان ایٹمی قوت بن گیا ہے، اب فلسطین بھی آزاد ہو جائے گا“…… میں سوچ رہا تھا اِس ناقدرے و”ہیرومار“ معاشرے میں ڈاکٹر قدیر خان جیسے

بڑے آدمی الیکشن لڑنے کا اگر فیصلہ کرتے، اُن کے مقابلے میں ”شیداٹلی“ اگر ہوتا،کامیابی شیدے ٹلی کو ہی ملنی تھی، …… بلکہ قائداعظم ؒ اگر زندہ ہوتے، اور وہ الیکشن لڑتے اُن کے مقابلے میں کامیابی سیاست کے کسی مولے جٹ، نوری نت، وحشی گجر یا”بٹ تے بھٹی“ کو ہی ملنی تھی، حالت یہ ہے لاہور کی ایک ماڈرن سوسائٹی میں قیام پذیر ایک بزرگ اپنے چھ سالہ پوتے کو بتارہے تھے ”قائداعظم ؒ بہت بڑے لیڈر تھے“……وہ بولا ”دادا ابو شاہ رُخ خان سے بھی بڑے لیڈرتھے؟“…… ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں چند ہزار افراد بھی اگر شریک ہوئے یہ افسوس کا نہیں شکر کا مقام ہے، ورنہ یہ سوسائٹی جس ذہنیت کی مالک ہے چند لوگ بھی اگر شریک نہ ہوتے یہ کوئی حیران کن واقعہ نہ ہوتا، البتہ محبت وطنوں کا یہ گِلہ بالکل جائز ہے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے والے کے جنازے میں وزیراعظم، چیف جسٹس آف پاکستان یا آرمی چیف کیوں شریک نہیں ہوئے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاک شخصیت کے جنازے کو بھی اللہ نے پاک ہی رکھا، سو اِس پر اظہار افسوس کی ضرورت نہیں، اُن کا مقام مرتبہ سب سے بلند تھا اور ہمیشہ رہے گا، غیرملکی آقاؤں کے اشارے پر جس نے اُنہیں رسوا کرنے کی کوشش کی تھی اُس کا جنازہ بھی اک روز اُٹھنا ہے، دیکھیں گے اُس میں کتنے لوگ شریک ہوتے ہیں؟، اور بعد میں کتنے لوگ اُسے یادرکھتے ہیں؟،…… ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صلاحیتوں کی پوری دنیا مداح ہے، پورا عالم اسلام معترف ہے، باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی خوش اخلاق انسان تھے، میری جب پہلی بار اپنے محترم بھائی ڈاکٹر سعید الٰہی کی جانب سے دیئے گئے ایک عشائیے میں اُن سے ملاقات ہوئی، میں نے اپنا تعارف کروایا اُنہوں نے باقاعدہ اپنی طرف کھینچ کر مجھے سینے سے لگا لیا، جبکہ میں یہ سوچ رہا تھا اتنا بڑا آدمی مجھ سے ہاتھ ہی ملالے یہ بھی بڑی بات ہوگی۔

Comments are closed.