ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے کیرئیر کا حیران کن واقعہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) جنرل زاہد کی زندگی بہت دلچسپ گزری ہے۔ اُنہوں نے کتاب میں جالندھر میں اپنی پیدائش، تعلیم، والدین کے حالات، پاکستان میں فوج میں بھرتی اور ترقی کرتے کرتے جی ایچ کیو میں GOCگوجرنوالہ، کور کمانڈر راولپنڈی، اور بعد میں واپڈا کے چیئرمین کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔میرا جنرل زاہد سے رابطہ 1976میں ہوا۔ میں جنوری سے جولائی تک اٹامک انرجی کمیشن میں ایڈوائزر کے طور پر کام کرتا رہا، کام کیا، وقت ضائع کرتا رہا۔ جو لوگ اُس کام پر لگائے گئے تھے وہ کام نہیں کررہے تھے جبکہ میں کام کرنے آیا تھا۔ جب میرا پیمانہ لبریز ہو گیا تو میں نے بھٹو صاحب کو حقائق سے آگاہ کردیا اور کہہ دیا کہ میں واپس ہالینڈ جارہا ہوں اور یہ خط لکھ کر بیگم، بچیاں اور میں کراچی چلے گئے کہ چند دن والدہ، بہن بھائیوں کے ساتھ گزار کر واپس چلے جائیں گے۔ دوسرے دن بھٹو صاحب نے مجھے بلایا اور آغا شاہی صاحب کے سامنے کہا کہ پروجیکٹ علیحدہ کرکے میرے ماتحت کردیا جائے، نیا نام دیا جائے۔ دوسرے دن میٹنگ میں جناب اے جی این قاضی، غلام اسحاق خان، آغا شاہی اور جنرل ضیاء کے سامنے یہ فیصلہ سنا دیا۔ میں نے جنرل ضیاء سے درخواست کی مجھے آرمی انجینئر کور کے چند انجینئر دیدیں تاکہ کام خاموشی اور تیزی سے چل سکے اور ہمیں چوری، رشوت ستانی سے محفوظ رکھ سکے۔ دوسرے دن برگیڈیر زاہد آئے۔ میں نے ان کو کام کی نوعیت بتا دی۔ اُنہوں نے چند انجینئر بلا لئے اور ویسٹرج میں دفتر کھول لیا کیونکہ میرے پاس جگہ نہیں تھی۔ اس طرح میں اُن کو عمارتوں کے اسکیچ بنا کر دیتا تھا۔ اُس کی ڈرائنگز مجھ سے منظور کراتے تھے اور میرے ممبر فنانس بھٹی صاحب فنڈز مہیا کردیتے تھے۔ اُنہوں نے چند ماہ میں تمام بلڈنگوں کے نقشے تیار کروا کر مجھ سے

منظور کرا کر ٹھیکے دے دیے اور کام شروع ہو گیا۔ عمارتیں ٹیکسٹائل ملوں کے طرز پر بنائی گئیں کہ ہمارے پاس ٹائم کم تھا اور کام بہت زیادہ تھا۔ اِسی ادارے کے ماتحت ہم اپنا سامان امپورٹ کرتے تھے اور ٹیکس، ڈیوٹی وغیرہ سے محفوظ رہتے تھے۔1977میں الیکشن ہوئے، مخالف پارٹیوں نے دھاندلی کا الزام لگا کر ملک کو ساکت کردیا اور 5جولائی کو ضیاء الحق نے قبضہ کر لیا اور برگیڈیر زاہد کو سندھ میں ڈیوٹی پر لگا دیا گیا۔ ہمارے بہت ہی اچھے تعلقات تھے اور اب تک ہیں۔ جب وہ ترقی کرتے کرتے میجر جنرل (GOC) گوجرانوالہ، لیفٹیننٹ جنرل، کور کمانڈر پنڈی اور چیئرمین واپڈا ہو گئے تو بھی ہم ملتے جلتے رہے۔ مشرف نے اُن کے خلاف کیس بنوا دیا۔ یہ لندن چلے گئے۔ ابھی تقریباً دو سال پیشتر واپس آئے ہیں۔ اللہ پاک اُن کا اور اُن کے اہل و عیال کا حامی و ناصر ہو۔ آمین! برگیڈیر زاہد کے جانے کے بعد برگیڈیر انیس علی سیّد آئے جو 5سال ہمارے ساتھ رہے اور اُن کے دور میں تمام سول ورکس مکمل ہوئے اور ہم پوری رفتار سے کام کرنے لگے تھے۔ پانچ برس بعد برگیڈیر انیس کی تبدیلی سرویئر جنرل آف پاکستان میں ہو گئی تو میں جنرل ضیاء کے پاس گیا، یہ چاند رات تھی۔ دوسرے دن عیدالفطر تھی۔ میں نے اُن سے درخواست کی کہ برگیڈیر انیس کو میجر جنرل بنا دیں۔ اُنہوں نے بہت اعلیٰ کام کیا ہے، اُنہوں نے کہا آپ کل اِن کو بیج لگا دیں، میں عید کے بعد آرڈر ایشو کردوں کا اور یہی ہوا۔

Comments are closed.