ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) آج آپ کی خدمت میں چند کڑوی باتیں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ ہمارے اکثر افراد خاص طور پر سیاست دانوں کی عادت کیا ایمان بن گیا ہے کہ جھوٹ بولو، شیخیاں مارو اور بار بار ایسا ہی کرتے رہو۔ چلئے شروع کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقابلہ عموماً ہندوستان سے کیا جاتا ہے

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنےا یک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اِس لئے اُس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔(1) تعلیم۔ ملک میں بہت سے لوگ تعلیم کے گرو بن بیٹھے ہیں۔ ہر روز نئی ایجاد، نئی منفرد یونیورسٹی کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں پڑھانے والے ہارورڈ اور اسٹیفورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج سے بہترین پڑھانے والوں کے استادوں کے بھی استاد ہیں جبکہ بین الاقوامی اچھی یونیورسٹیوں کی فہرست میں ہماری یونیورسٹیوں کی پوزیشن اُن کے دعوئوں کی پول کھول دیتی ہے اور ہمارے تعلیمی نظام کا اسٹینڈرڈ صفر کے برابر ہے۔ اساتذہ کی کارکردگی بہت خراب ہے اور جو چند اعلیٰ کارکردگی والے اور باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں اُن کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، ٹی وی پر تعلیم کے معیار کی ڈینگیں ماری جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی میں مشہور امریکی فلاسفر اور سائنسدان نے صاف صاف کہا ہے کہ پاکستان سے سائنس ناپید ہو گئی ہے۔ روز ٹی وی پر ڈینگیں مارنے والے اور اخباروں میں آسمان پر تیر مارنے والوں کے لئے یہ باعث شرم ہے یہ لوگ ملک کو تباہ کررہے ہیں۔اس پروپیگنڈے کے مقابلے میں ذرا ہندوستان کا تعلیمی معیار دیکھئے۔ ہندوستان میں پہلا وزیراعظم نہرو کیمبرج کا تعلیم یافتہ تھا، اُس نے بھارت بنتے ہی مولانا ابوالکلام کو وزیر تعلیم بنا دیا۔ اُس کو مولانا ابوالکلام کی صلاحیتوں کا علم تھا۔ جنہوں نے تعلیم کے معیار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ہندوستان میں Indian Institute of Technology(IIT)بنائے گئے جو پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیمی ادارے مانے جاتے ہیں

اور اُس کے تعلیم یافتہ باہر کی یونیورسٹیوں میں ترجیحی بنیادوں پر لئے جاتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں جو پیپر شائع کیا جاتا ہے اُس کی صداقت پر سوالیہ نشان ہوتا ہے۔ اتنے بڑے ملک میں اگر چند اچھے ذی فہم لوگ ہیں تو اُنہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ میں نے GIKIبنایا تھا اور وہ ایشیا میں فوراً ہی نویں نمبر پر تھا، آج بین الاقوامی سطح پر اُس کو کوئی نہیں جانتا۔ کراچی یونیورسٹی میں کیمسٹری کا ادارہ HEJانسٹی ٹیوٹ اچھا معیاری ادارہ ہے مگر اُسے دنیا کی اعلیٰ ترین، ناقابلِ مثال، 15یونیورسٹیز بناتے بناتے ایک معمولی سا پولی ٹیکنک بنا دیا گیا۔ (2)ہمارے یہاں اعلیٰ نظام مملکت کے دعویدار گرو پچھلے دس سال سے نظام مملکت ٹھیک کررہے ہیں اور دعوے بھی کررہے ہیں مگرملک کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، رشوت ستانی، کاموں میں بلاضرورت تاخیر یہ سب چیزیں عوام پر عیاں ہیں۔ کوئی بھی چیز صحیح نہیں چل رہی۔ پچھلی حکومتیں خراب تھیں یہ مزیدخراب ہے۔ ایک مجمع مشیروں کا ہے جن کو سوائے پروپیگنڈے کے اور کوئی کام نہیں ہے۔ بڑی تنخواہیں، مراعات اور دورے جاری ہیں ہے۔ کہیں بھی بہتری نظر نہیں آرہی بلکہ ہر جگہ بدتری ہی نظر آرہی ہے اور پھر ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ بتلائیں کیا وہاں معصوم بچوں کے ساتھ غلط کاری کی جاتی تھی؟ کیا عورتوں کے ساتھ ظلم کیا جاتا تھا ؟ کیا فقیر بھوکے کر فٹ پاتھ پر سوتے تھے؟ کیا کوئی بیروزگار تھا؟ کیا بدانتظامی اور رشوت خوری تھی؟ نہیں! بالکل نہیں۔ وہاں زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔

اِن خود ساختہ ماہرین کے بجائے خود مولانا شبلی کی کتاب عمرفاروقؓ پڑھ لو ۔کسی پر ذمّہ داری نا ڈالو۔ (3)خارجہ پالیسی کا مقابلہ ہندوستان سے کرکے دیکھ لو۔ اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ مندر کھول کر حکمرانوں کو بٹھا کر پوجا کروائی۔ کشمیر کے معاملے میں دنیا کے ایک ملک سے نا سفارتی تعلقات توڑے، نا تجارت ختم کی اور نا کھلی تنقید کی۔ ہندوستان G-20اور OICاور شنگھائی معاہدہ کا ممبر ہے پوری دنیا میں اس کی سنی جاتی ہے۔ خدا کا خوف کرو، اللہ کے ہاں جھوٹ کی اور الزام بازی پر بہت سخت پکڑ ہوگی۔ بغیر جرم ثابت ہوئے لوگوں کو قید میں ڈالنا یہ کونسا انصاف ہے ؟ (4)پاکستانی سرزمین پر تقریباً روز ہی غریب کشمیری، پاکستانی فوج کے جوان قربان ہورہے ہیں۔ یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے اور کیسی حکمت عملی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لڑائیوں کے علاوہ ان 70سال میں کبھی ہم نے ایسی غارتگری اپنے جوانوں اور شہریوں کی نہیں دیکھی۔ (5)بیروزگاری عروج پر ہے، 800کے قریب Ph.Dبیروزگار ہیں ان میں سے اکثریت غیرملکوں سے تعلیمیافتہ ہیں۔ اس پسماندہ ملک میں یہ پڑھے لکھے لوگوں کا حال ہے۔ اب باہر سے پڑھ کر کون واپس آئے گا۔ لوکل ان پڑھ لوگ ان کی جگہ کام کرینگے اور حال وہی ہوگا جو ہوچکا ہے اور کسر پوری ہورہی ہے۔ یہاں کردار کے نہیں گفتار کے غازی ہیں۔ (6)قدرت نے ملک کو لاتعداد قیمتی وسائل سے نوازا ہے۔ پانی کی افراط

ہے (جو نااہلی سے ہم ہر سال سمندر میں پھینک دیتے ہیں)۔ یہ ایک زرعی ملک ہے، انگریز نے اعلیٰ نہری نظام او ریلوے سسٹم چھوڑا مگر یہاں آٹے، چینی، گھی، دودھ سے زیادہ ٹماٹر اور پیاز اور ادرک مہنگا ہے۔ جن کے پاس حرام کا پیسہ ہے وہ دس گنا اور مہنگی چیزیں خرید سکتے ہیں مگر متوسط طبقہ اب پیاز سے روٹی کھانے کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ ٹیکس چوری کرنے والے مالدار لوگ عیاشی کررہے ہیں، چینی، آٹا چوری کرنے والے مزے کررہے ہیں۔ (7)آپ کو علم ہے کہ حضرت عمرؓ کی سلطنت کا رقبہ پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ تھا۔ سندھ، کاشغر، آرمینیا تک ان کی حکومت تھی۔ نا فون تھے نا ہوائی جہاز، نا کاریں، ناٹرین، نا ای میل مگر مجال ہے کہ کہیں ایک شخص بھوکا رہ جائے، کسی جانور پر ظلم ہو، کسی عورت کے ساتھ ظلم ہو، کسی بچے کو اٹھا لیا جائے، کوئی گورنر،افسر ایک درہم خردبرد کر سکے۔ یہی حال حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں تھا۔ رمضان سے پہلے جب بیت المال کے خزانے کھول دیے گئے اور زکوٰۃ بانٹنے کا حکم دیا گیا تو صرف عربی ممالک بلکہ افریقی ممالک میں بھی ایک زکوٰۃ قبول کرنے والا نہیں ملا۔ یہاں ریاست مدینہ میں لوگ بھوکے، بیروزگار مررہے ہیں۔ اسپتالوں میں دوا نہیں ہے۔ معالج خود مریض بن کر فوت ہورہے ہیں مگر سیاست داں اور حکمراں صحت مند ہیں اور مزےکر رہے ہیں۔ (8)ایسا لگتا ہے کہ لوگوں (حکمرانوں، اصحاب اقتدار) کے دلوں سے خوف خدا نکل گیا ہے۔ میرے بڑے بھائی شاعری بھی فرصت میں کرلیا کرتے تھے انھوں نے یہ شعر کہا تھا: لوگوں نے سمجھ یہ رکھا ہے ۔۔ جیسے دنیا میں اب خدا ہی نہیں ۔۔ایک شاعر نے علّامہ اقبالؒ کو مخاطب کرکے ایک نظم لکھ کر ان کی خدمت میں ملک کی زبوں حالی، بدکرداری، بداخلاقی، غربت، بدانتظامی کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا اقبالؒ اپنے ملک کی حالت تو ذرا دیکھ۔ بس اب اللہ کے سپرد ہے فیصلہ۔ وہی سب سے نمٹے گا!

Sharing is caring!

Comments are closed.