ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک و قوم کے محسنوں کے نام بتا دیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامورسائسندان و کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھئے میری ٹیم نے ایک ناممکن کو کیا ممکن کرکے نہیں دکھایا۔ ہم نے ملک کو ناصرف ایٹم بم دیے بلکہ دوسرے اہم ہتھیار بنا کر کروڑوں ڈالر کی بچت کی۔ ہماری محبت اور حب الوطنی

نے ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاع فراہم کردیا۔ آپ تھوڑی دیر کے لئے سوچئے کہ اگر میں ہالینڈ سے واپس نا آتا اور بھٹو صاحب یہ پروگرام شروع نا کراتے تو ہمارا حشر بدترین ہوتا۔ اگر بھٹو صاحب ایٹمی پروگرام اور فوج کو مضبوط نہ کرتے تو آج ہمارا ملک دنیا کاکمزور ترین ملک ہوتا۔ بہت بڑی اور بُری بات ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں میں مردم شناسی کا فقدان ہے۔ جو ڈینگیں مارے، جھوٹ بولے، بڑے بڑے دعوے کرے وہ ہی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خدا کے فضل و کرم سے لاتعداد ذہین، قابل اور محب وطن سائنسدان، انجینئر، صنعتکار موجود ہیں۔ لیکن جو نئی حکومت آتی ہے وہ باہر سے ہرفن مولا بُلا لیتی ہے،ان کو ملکی حالات کا قطعی علم نہیں ہوتا۔اگر ہم اسی طرز کی حکمرانی و انتظام حکومت سے چلتے رہے تو پھر ہم بہت جلد کمزور ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ کم از کم 75فیصد لوگ سخت پریشان ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، امن و امان کے فقدان نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ لوگوں کے پاس نا رقم ہے، نا بجلی، نا پانی۔ ایک اور خراب بات یہ ہے کہ ہم اپنے کلچر و ثقافت کو تباہ کررہے ہیں۔ ہندوستان میں لاتعداد مسلمان ریاستیں تھیں وہاں کا کلچر و ثقافت قابلِ دید اور قابلِ تحسین تھا، اب بعض ملک مخالف لوگوں نے غیرقانونی طریقے سے دولت حاصل کرلی ہے اور ہماری ثقافت و کلچر کا ستیاناس کردیا ہے۔ذرا آنکھیں کھولئے اور دیکھئے دنیا نے کتنی ترقی کر لی ہے۔ چین میں صرف ایک نسل نے ہی ملک کو صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔

میرے دیکھتے دیکھتے ’’گجرانوالہ‘‘ پیرس، لندن بن گئے۔ انھوں نے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی پر توجہ دی اور ہر سال 5لاکھ طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم کے لئے غیر ممالک بھیجے۔ میں خود ہر سال 10لڑکوں کو Ph.Dکے لئے بھیجتا تھا اور اس طرح نیا، تازہ خون پروجیکٹ کو ملتا رہتا تھا۔ میں 15سال جرمنی، ہالینڈ، بلجیم میں تعلیم حاصل کرکے اور ملازمت کرکے واپس آیا تھا اور میں نے یہاں آکر ڈینگیں نہیں ماری تھیں جو ٹیم میں نے بنائی تھی اس سے بہتر ٹیم اس ملک میں کبھی پیدا نا ہوئی تھی اور نا ہی اب قیامت تک ہوگی۔ یہاں دماغی بدنیتی کا رواج ہے جھوٹ بول بول کر لوگوں کو دھوکہ دے کر بڑے بن جائو حالانکہ کبھی ایک بال پوائنٹ، یا پنسل یا تلّی کا سفید تیل نہیں بنایا۔ میرا ہر ساتھی مغربی ممالک کے کسی سائنسدان اور انجینئر سے کم نا تھا ہم دوستوں، بھائیوں کی طرح مل کر کام کرتے تھے۔ مجھے کبھی کسی کو اوور ٹائم کام کروانے کی ضرورت نہیں پڑی، میرے سینئر لوگ لوگ اور میں خود ویک اینڈ پر صبح سے شام تک وہاں کام کرتے تھے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی گندم، چینی کے بلیک مارکیٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ موجودہ نظام تعلیم بالکل بوسیدہ ہے اس کو بدلنے کے لئے میں نے کالم نہیں لکھے بلکہ صرف 2سال میں غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ بنا کر عملی طور پر بتایا کہ اچھے تعلیمی ادارے کیسے ہوتے ہیں۔ آج بھی یہ سب سے بہتر انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس کے علاوہ KU, PU, QAU, LUMS, NUSTاور UETsاچھا کام کر رہے ہیں مگر وہاں اچھے تازہ تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی ہے۔ ہمیں تعلیمی اداروں میں باہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سائنسدان اور انجینئرز کو لگانا چاہئے، IFکا عقل و فہم و صلاحیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میرا تعلق کراچی سے ہے ۔ میں نے وہاں ایک نہایت اعلیٰ Institute of Biotechnology and Genetic Engineeringبنا کر کراچی یونیورسٹی کو دیا ہے جو پروفیسر عابد اظہر کی اعلیٰ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا میں نام پیدا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مینٹل ہیلتھ اسپتال Institute of Behavioral Sciencesبنایا جو ہزاروں لوگوں کوعلاج کی سہولت دے رہاہے، یہ میں نے DOWیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو دے دیا ہے جس کے سربراہ نہایت اعلیٰ ماہر نفسیات برگیڈیر شعیب ہیں اور ان کو DOWیونیورسٹی کے VCپروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی تمام سہولتیں دے رہے ہیں۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اعلیٰ یونیورسٹیز بنائیں اور نوجوان قابل لوگوں کو اس میں لگائیں، یہ جو ہری پور میں ابھی Hochschuleبنایا ہے اور تعریفوں کے انبار لگائے ہیں۔ یہ یونیورسٹی کے برابر نہیں ہے یہ انگلستان کے HNC,HNDکے برابر ہے یہاں آپ مشین چلانا اور ٹھیک کرنا سیکھتے ہیں یہاں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ Ph.Dکی ڈگری بھی نہیں دے سکتے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *