ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہالینڈ کی خاتون سے شادی کن حالات میں اور کیوں کی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سید عزیز الرحمٰن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تو بھوپال اور ناظم آباد کا ذکر ضرور آتا۔ ڈاکٹر صاحب بھوپال میں پیدا ہوئے اور انیس سو باون میں کراچی منتقل ہو گئے تھے۔ڈاکٹر صاحب بھوپال سے تو منتقل ہو گئے تھے،

لیکن بھوپال ان کے رگ و پے میں آخری لمحے تک موجود رہا، بھوپال کا موسم، بھوپال کے کھانے، بھوپال کے لوگ، بھوپال کا کلچر یا پھر بیگمات بھوپال، کون سی بات تھی جو بار بار ان کی زبان پر نہ آتی، ہماری نانی کا تعلق بھوپال سے ہے، جب ڈاکٹر صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو ان کی گفت گو میں بھوپال کا تذکرہ مزید بڑھ گیا۔ ایک بار ہم نے ہمت کر کے پوچھ لیا کہ آپ پاکستان کی بات تو بہت کرتے ہیں مگر آپ نے شادی باہر کی، کہنے لگے کہ ہمارے ہاں بھوپال میں بدکرداری بالکل نہیں تھی، سب صاف ستھری زندگی گزارتے تھے، جب ہم تعلیم کے سلسلے میں ہالینڈ گئے تو ہمیں اندازہ ہوا کہ پاکیزہ زندگی کے لیے شادی ضروری ہے، چناں چہ ہم نے وہیں کی ایک مسلم خاتون سے شادی کر لی۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنے بھوپالی ہونے پر اس لیے بھی فخرتھا کہ ان کے بہ قول بھوپال نے کبھی کوئی غدار پیدا نہیں کیا۔ یہی حال ناظم آباد کا تھا، ہم نے جب اپنی رہائش کا بتایا کہ ہم ناظم آباد میں رہتے ہیں تو ان سے ایک اور رشتہ نکل آیا، اور وہ بڑی للک کے ساتھ بتانے لگے کہ ناظم آباد نمبر تین میں فلاں جگہ ہماری رہائش تھی، فلاں فلاں بس سے ہم سفر کرتے، فلاں ہوٹل کی چائے، فلاں مقام کی کچوری اور فلاں جگہ کے کباب مشہور تھے۔ہم شام میں فلاں جگہ ٹہلاکرتے، اور فلاں فلاں معروف افراد سے ہماری گپ شپ رہتی، وغیرہ۔

سچی بات تو یہ ہے کہ ناظم آباد کے مشاہیر کی تاریخ مرتب کی جائے تو کئی جلدوں میں بھی یہ سلسلہ مکمل نہ ہوسکے، کون کون وہاں نہیں رہا، ادیب، شاعر، علما، سیاست داں، کھلاڑی،فن کار، بیوروکریٹ، فوجی افسران۔ خیر بھوپال کا ذکر نکلتا تو وہاں کی حکم راں بیگمات کا بھی ذکر خوب کرتے، ان کی اصلاحات، خدا ترسی، فلاحی کاموں کا جذبہ اور مذہب پسندی سب ہی کا ذکر کرتے اور خوب مدح و ستائش کے ساتھ، اور سچی بات یہ ہے کہ وہ اس سے زیادہ کی مستحق تھیں، کتنی ہی نیکیاں ان کی ذات سے وابستہ ہیں، علامہ شبلی اور سید سلیمان ندوی رحمہما اللہ کی مشترکہ کاوش سیرت النبی کے لیے بھی مالی وسائل انہوں نے ہی فراہم کیے، تن تنہا یہ کارنامہ ہی انہیں تاریخ میں امر کرنے کے لیے کافی ہے، ویسے ان کی خدمات سیرت پر الگ سے لکھا جاسکتا ہے، اور یہ کام امت پر قرض ہے۔ڈاکٹر صاحب کا ادبی ذوق بھی بہت بلند تھا، کتنی ہی ادبی انجمنوں اور شخصیات کے سرپرست رہے، ایک بار عند ال ملاقات ہمیں چند دیگر کتب کے ساتھ معروف بیوروکریٹ جناب مرتضی برلاس کی کلیات اپنے دستخط کے ساتھ عطا کی، اور اس کی تعریف میں اس قدر مبالغہ کیا کہ میں اس شخص کو فیض سے بڑا شاعر مانتا ہوں، ہمیں یہ بات خاصی مبالغہ آمیز معلوم ہوئی، گو کہ ہم نوے کی دہائی میں، جب وہ کمشنر بھاول پور تھے۔ ان کا ایک مجموعہ پڑھ چکے تھے، اور ان کے کلام اور قدرت کلام دونوں سے قدرے واقف تھے

، مگر جب ان کی بات ذہن میں رکھ کر کلیات کا مطالعہ شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ واقعی ان کا کلام نہایت توجہ طلب ہے۔بیوروکریسی کی چھاپ بھی ایسی ہے کہ اچھے خاصے ادیب کو بھی ملازمت سے ہٹتے ہی گم نام بناڈالتی ہے، یہی کچھ اس زندہ شاعر کے زندہ کلام کے ساتھ ہوا ہے، پھر ہمارے ہاں ہر طبقے میں گروپ بندی نے ہر اس فرد کو غیر متعلق بناڈالا ہے، جو اپنے آپ کو اس گروپ بندی بل کہ گروپ بازی سے مجتنب رکھنا چاہتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کھانوں کے بے حد شوقین اور اس بارے میں معلومات بھی رکھتے اور ذوق بھی۔ ایک بار کہنے لگے کہ کراچی میں پیر پگارا (موجودہ پیر صاحب کے والد اور معروف پیر پگارا) کے گھر بننے والی بریانی سے بہتر میں نے کہیں نہیں کھائی، ایک زمانے میں ڈاکٹر صاحب کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے، اس مدت میں پیر صاحب انہیں طرح طرح کے کھانے بھیجتے رہے، اس کا ذکر آپ خوب فرماتے۔ایک بار میں ڈاکٹر صاحب کے گھر ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اپنے دیرینہ ملازم سے پوچھنے لگے کہ باورچی آج کے لیے کیا پکا رہا ہے؟ وہ ملازم سیدھا سادا، اپنی پنجابی نما اردو میں بولا کہ سالم مچھلی کا کچھ تیار کر رہا ہے، اپنے خالص بھوپالی لہجے میں مزید عوامی پن پیدا کرکے بولے تمہیں کچھ نہیں پتہ، وہ فلاں ڈش تیار کر رہا ہے۔ پھر اس کی ترکیب اور اس کا تعارف آپ نے اہتمام کے ساتھ بیان کیا، پھر بولے اسے کہو کہ فلاں خاص

قسم کے آلو بھی تیار کرلے، ہمیں وہ بہت پسند ہیں، ہم نے ان کی تفصیل جاننی چاہی تو بتایا کہ افریقہ کے فلاں علاقے میں یہ آلو پائے جاتے ہیں، اب اسلام آباد میں بھی فلاں جگہ دست یاب ہیں، وہ ہمیں بہت پسند ہیں۔ڈاکٹر غزالی صاحب سے ان کی بہت قربت تھی، بہ قول غزالی صاحب کوئی چالیس برس کا ساتھ تھا، ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب سے بھی تعلق رہا، مگر ان کا مزاج الگ تھا، بہ قول ڈاکٹر صاحب، غازی صاحب لیے دیے رہتے تھے، اصل میں ڈاکٹر صاحب مجلسی آدمی نہیں تھے، اگرچہ جب وہ اپنی ذوق کی کسی مجلس میں چہکتے تو پھر کسی اور کے لیے گنجائش کم کم ہی ہوتی، مگر ایسا عام نہیں تھا، لیکن غازی صاحب کی علمیت اور قابلیت کے ڈاکٹر صاحب خوب قدر دان تھے، اس کا اظہار وہ عام طور پر کرتے تھے،پھر جب میں ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی خدمات پر دعوہ اکیڈمی نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، تو آخری نشست میں مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر صاحب نے اپنی گفت گو میں بھی یہ بات اہتمام کے ساتھ بیان کی۔ خود اس نشست میں ان کی آمد ہی اس قدر دانی اور تعلق کی غماز تھی۔ویسے اس شرکت کا قصہ بھی دل چسپ ہے۔یہ سیمینار دو روز پر مشتمل تھا، پہلے روز دوپہر میں علم ہوا کہ محض ایک روز قبل ڈاکٹر صاحب کو مہمان خصوصی کی حیثیت میں مدعو کیا گیا ہے اور انہیں دعوت نامہ پہنچایا گیا ہے، یہ ایک ناموزوں صورت حال تھی۔

عین ممکن تھا کہ وہ شرکت کے لیے ہامی نہ بھرتے، کچھ حضرات کے کہنے پر میں نے ہمت کی اور ڈاکٹر صاحب کو میسج کیا کہ میں اسلام آباد میں ہوں اور ملنا چاہتاہوں، اور شاید یہ بھی لکھ دیا کہ آج ہی ملنا ممکن ہے، اگر اجازت ہو، تھوڑی ہی دیر میں جواب آگیا کہ چار بجے تک آ جائیے، میں تو اس وقت فیصل مسجد میں ہی تھا، اور آپ کی رہائش سے چند قدم کے فاصلے پر، وقت مقرر پر ایک دو کتب لیں اور پہنچ گیا، پوچھا کیسے آنا ہوا، بتایا کہ سیمینار کے سلسلے میں، فورا بولے کہ ہاں مجھے بھی کل کی دعوت ہے، مگر منتظمین نے بہت تاخیر سے دعوت دی ہے، پر ڈاکٹر صاحب سے اور پھر ڈاکٹر غزالی صاحب سے تعلق ایسا ہے کہ میں ضرور شرکت کروں گا۔ یہ سننا تھا کہ ساری تشویش دور ہوگئی، چائے پی کر اجازت لے کر فورا یونیورسٹی آیا تو سب سے پہلے ڈاکٹر غزالی صاحب سے ملاقات ہوئی، انہیں بتایا، اور پھر دیگر انتظامات شروع ہو گئے۔ اگلے روز وقت مقرر پر آپ تشریف لے آئے، اور ایک بار پھر آپ کی عوامی پزیرائی کے مظاہر دیکھنے کو ملے۔ یہ پورا سیشن آپ ہی کے نام رہا، تمام مقررین نے آپ کو ہی مخاطب کیا، اور آپ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے رہے۔