ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہزارہ کمیونٹی کی حفاظت کا انوکھاطریقہ بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ بہت ظلم ہوا اور یہ ظلم ایک عرصے سے جاری ہے ، لیکن حکومت کا رویہ بھی سابقہ حکومتوں کی طرح عامیانہ ہے ، صرف ایک جملہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے ۔۔۔

بات یہ ہے بھائی کہ اگر آپ ہزارہ والوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو ان کے علاقے کے چاروں طرف 12 فٹ اونچی دیوار بنا دو، اندر مارکیٹ، اسکول اور دکانیں کھول دو، اندر فیکٹریاں لگادو کہ وہ عزّت سے اور باحفاظت رہ سکیں۔ نا علماء، نا اساتذہ، نا تاجر اور نا مزدوراس دور میں محفوظ ہیں حقیقت یہ ہے کہ انسان مجبور ہوجاتا ہے کہ کہے کہ اس حکومت سے نااہل حکومت پچھلے 70 سال میں اس ملک پر مسلط نہیں کی گئی۔ ہم ایک ایٹمی قوّت ہیں ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے کوئی مسلمان ممالک (سوائے ترکی اور ملیشیا صرف ڈاکٹر مہاتیر کے زمانے میں) ہمارا ساتھ نہیں دے رہا۔ مغربی ممالک خاموش تماشہ دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔آج آپ کی خدمت میں بہت ہی اہم اور تشویشناک بات کرنے کی ہمّت کررہا ہوں۔ ملکی حالت کا آپ کو پورا علم ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ہر پانچواں شخص بیروزگار اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ درآمدات، برآمدات سے دگنی ہیں اور ملک کا نظام غیرممالک میں مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے فنڈز سے چل رہا ہے اور جو کمی ہے وہ WB, IMF اور مغربی ممالک سے قرض لے کرپوری کی جا رہی ہے۔ حکومت اور تمام ادارے ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ قانون کی فراہمی اور امن و امان کی صورت حال میں بہتری نہیں بلکہ بدتری آ رہی ہے۔ نہ آپ کی جان و مال محفوظ ہے ، نہ آپ کو انصاف مل رہا ہے اور نہ ہی ملنے کی اُمید ہے۔ حکمرانوں کے خیالات اور تصورات یکجا ہوگئے ہیں اور یہ ملک کے لئے

سخت خطرہ ہے۔ یہ سوچ کر ڈر لگتا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم وہاں جارہے ہیں جہاں عراق، افغانستان اور لیبیا پہنچ چکے ہیں۔ عوام بُرے حالات سے بیزار ہو رہے ہیں اور مزید بیزار ہوجائیں گے، اس لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ قرض بہت بڑھ جائے گا تو ہم اس کی واپسی کے قابل نہ رہیں گے۔ ہمارے بینک کام کرنا بند کردینگے۔ ہم غیرملکی تجارت نہیں کرسکیں گے۔عوام کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوگا۔یہ وہ وقت ہوگا جب ہمارے بین الاقوامی دشمن ہم کو وہ شرائط ماننے پر مجبور کریں گے جن کا تعلق ہمارے ملک کی سلامتی سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ان تمام برے حالات کے باوجود اپنے ملک کی سلامتی کے لئے ہر قربانی دی ہے یہ ایٹمی صلاحیت انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اپنے ملک کی بقاء اور سلامتی کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائدہوتی ہے موجودہ حکمرانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتیں ملک کی بقاء اور دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں صرف کریں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ وقت اور صلاحیتیں جو ملک کی ترقی کے لئے استعمال کی جانی چاہئیں وہ مخالفین کو برا کہنے میں ضائع کی جارہی ہیں۔ موجودہ حکمراں جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس کا شمار بھی چٹکلوں میں کیا جاسکتا ہے جبکہ ہمارے حالات سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ﷲ پاک اس ملک پر رحم فرمائے۔ بس یہی کہوں گا:لوگو! دعا کرو کہ گزر جائے خیر سے۔۔آثار کہہ رہے ہیں بُرا یہ بھی سال ہے

Comments are closed.