ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی انتقال سے کچھ روز بعد کس نامور شخصیت سے خصوصی ملاقات طے تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عبد القدیر خان ؒ 1936میں بھوپال میں پیدا ہوئے ، انہوں نے خاندان سمیت پاکستان ہجرت کی ۔ وہ من کے سچے اورپکے مسلمان اورحبُ الوطنی سے سرشار پاکستانی تھے ۔ان سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات انکے گھر پرہوئی ۔

ڈاکٹر صاحب کے ذاتی کمرے میں چاروں طرف کتابیں،دنیا بھر کے تحقیقی مقالے، رسائل و جرائد، اسلامی تاریخ و لٹریچر ،اقبالیات اورادب پربے شمارکتابیں سجی ہوئی تھیں۔ڈاکٹر صاحب سے ملتے ہی احساس ہوا کہ جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوںاورپھر ہمارے درمیان بے تکلفی ہوگئی جو انکی حیات تک برقرار رہی۔ڈاکٹر صاحب کہتے تھے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ایٹم بم بنانے کا کام مجھ سے لیا ہے ۔اس پر میں اللہ کریم کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے ۔ اتنے عظیم الشان کارنامے پر وہ تکبر اور غرور کی بجائے عجز و انکساری کا اظہار کرتے رہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے حکمرانوں اور خاص طور پر پرویز مشرف کے تلخ رویے کا بار بار ذکر کیا جو ناروا سلوک محسن پاکستان سے کیا گیا اور جس طرح انکی آزادی سلب کی گئی اور خاص طور پر ان سے جبراً ایک ایسے کام کا اعتراف کروایا گیا جو انہوں نے نہیںکیا تھا ڈاکٹر عبد القدیر خان ؒ اس بوجھ اور درد محسوس کرتے تھے ۔اس ملاقات میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بہت سارے یتیم بچوں کی کفالت بھی کرتے ہیں اور کئی بچوں کی تعلیم کا بوجھ بھی انہوں نے اٹھایا ہوا ہے ۔ قاضی حسین احمد ؒ اور سید منور حسن ؒ کے ساتھ اپنے تعلقا ت اور ملاقاتوں کے علاوہ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ اپنے گہرے تعلق کا بھی ذکر کیا ۔انکی خواہش تھی کہ جماعت اسلامی کو نئی نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہئے ۔ میں نے جماعت اسلامی اور اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ انکی خدمت میں پیش کی جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں آپکے ہر پروگرام میں شریک ہونا چاہتاہوں لیکن کسی بھی پروگرام میں شرکت کی مجھے اجازت لینا پڑتی ہے ۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ قیادت کی مثال مچھلی کی طرح ہے ۔اگر مچھلی کا سر خراب ہوجائے تو اس کا باقی دھڑ بوسیدہ ہوجاتا ہے ، اگر ملک کی قیادت خراب ہوجائے تو معاشرے میں خرابیاں عام ہوجاتی ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے وفات سے کچھ دن قبل لیاقت بلوچ صاحب کو فون کیا کہ میں سراج الحق سے ملنا چاہتا ہوں ۔اس ملاقات کیلئے 14اکتوبر تین بجے کا وقت مقرر ہوا ،لیکن اس سے پہلے ہی وہ اللہ کے پاس چلے گئے ۔اس ملاقات میںوہ مجھ سے کیا کہنا چاہتے تھے ،وہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن مجھے جہاں انکی وفات کا انتہائی دکھ اور صدمہ ہے وہاں اس ملاقات کے نہ ہونے کابھی بے حد افسوس ہے اور یہ حسرت زندگی بھر مجھے ستاتی رہے گی ۔ڈاکٹر صاحب پاکستان ہی کے نہیں عالم اسلام کے ہیروبھی تھے ۔وہ درحقیقت اُمت مسلمہ کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے اور انکے تحفظ کی ضمانت تھے میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے صرف مسلمانوں کو محفوظ نہیں کیا بلکہ طاقت کے سرور میں چور طاغوتی قوتوں کو کمزور قوموں پر ظلم وستم سے روکنے اور عالمی امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے امن کو یقینی بنا دیا ۔کاش ہمارے حکمران اورعسکری قیادت اپنے محسن ،محسن پاکستان کی قدر کرتے۔ڈاکٹرعبدالقدیر خان سے صرف پاکستانی ہی نہیں عالم اسلام کا ہر فرد محبت کرتا تھاکرتارہے گا۔ڈاکٹر صاحب کا جماعت اسلامی سے ہمیشہ محبت اور خلوص کا تعلق رہا ۔وہ برملا کہا کرتے تھے کہ جماعت اسلامی اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کی جماعت ہے۔وہ ایک نظریاتی شخصیت تھے ۔ اخبارات میں چھپنے والے مضامین اور میڈیا سے انکی گفتگو ان کے اسلام سے گہرے تعلق ،نبی کریم سےعشق وعقیدت اورپاکستان کی اسلامی خطوط پرتعمیروترقی کاخواب اسکاثبوت ہیں۔انکےسانحۂارتحال سے امت مسلمہ اور خصوصاپاکستانی قوم غمزدہ ہے اور سایہ شفقت سے محروم ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے اس مخلص بندے کو جنت کا لباس پہنا کراپنے سایہ رحمت میں جگہ دے اورجنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔آمین

Comments are closed.