ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایک بار پھر عمران اینڈ کمپنی پر تنقید

لاہور (ویب ڈیسک) پچھلے دنوں ایک کالم میں محترم وزیراعظم کو وہ تمام وعدے یاد دلائے تھے جو وفا نہیں ہوئے۔ آج صبح ٹی وی دیکھ رہا تھا، اس میں لاہور دکھایا گیا جو اَب کراچی کی طرح ہوگیا ہے۔ محترم وزیراعلیٰ نے پچھلی حکومت پر رشوت ستانی کا الزام لگا کر کمپنی کو فارغ کردیا،

نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ شہر جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ دنیا میں خوبصورتی و صفائی کی وجہ سے مشہور تھا وہ اب غلاظت، تعفن کی وجہ سے دنیا میں شہرت پا رہا ہے۔ شاید یہ باتیں وزیراعظم نا دیکھتے ہوں کیونکہ وزیراعلیٰ انکی آنکھوں کا نور اور دل کا سکون ہیں۔ یہ خوبصورت گلستان اب تعفن اور غلاظت کا خزینہ ہے۔ وزیراعظم نے شکایت کی ہے کہ ان کے وزراء کابینہ میں منظور کی گئی باتوں پر باہر تنقید کرتے ہیں۔ محترم وزیراعظم جب آپ نے ان کو ہر طرح کی اجازت دے رکھی ہے اس لئےوہ دن بھر ٹی وی کی زینت بنے رہتے ہیں تو پھر ان کی زبان تو پھسلنے کی جانب راغب ہوگی۔یہ حال موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی کا ہے۔یہاں بڑے فخر سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ نیویارک ٹائمز نے کشمیریوں پر ہندوستانیوں کے مظالم کی پول کھول دی ہے۔ آپ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ آپ کی خارجہ پالیسی بالکل فیل ہوگئی ہے، دنیا کا کوئی ملک آپ کی حمایت میں ایک لفظ نہیں بولتا۔ اگر دو چار صحافی آپ کی کشمیر پالیسی کی حمایت میں دو چار مضامین لکھ دیں تو اس سے ہندوستان کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ الٹا اثر یہ ہوا ہے کہ بے چارے کشمیریوں پر مزید ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں ۔آپ تھرکول، ریکوڈک، براڈ شیٹ، چینی، آٹا، گندم، گھی وغیرہ پر کیوں خاموش ہیں۔ آپ کا دو ر خلیفہ ہارون الرشید کے دور کا ایک واقعہ یاد دلاتا ہے۔ ایک شاعر، بہت مشہور درباری شاعر، ابونواس نے کچھ پی کر

باہر لوگوں کے سامنے ملکہ زبیدہ کے حسن کی اشعار میں بہت تعریف کرڈالی، ہارون الرشید کو علم ہوا تو اس نے ابونواس کو بلا بھیجا۔ ابونواس اب ہوش میں تھا اور اس کو اپنی جان خطرے میں نظر آئی۔ جب وہ خلیفہ کے پاس پہونچا تو اس نے کہا کہ کل مجمع میں کیا شاعری کررہے تھے۔ ابونواس فوراً بولا، (ترجمہ) رات کی بات کا مذکور ہی کیا۔ چھوڑیئے، رات گئی بات گئی۔ہارون الرشید نے معاف کردیا۔ وزیراعظم آپ کو بھی اپنے رفیقوں ، مشیروں کے رویوں پر یہی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا،نہ آپ نظام حکومت کی موشگافیاں سمجھ پائے ہیں اور نہ ہی مردم شناسی کے علم سے کچھ واقفیت حاصل کی ہے۔ آپ سے لوگ جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں اور آپ اس کو ہضم کرلیتے ہیں۔ اچھے نظام مملکت کے بارے میں 10برس سے ہم کہانیاں سُن رہے ہیں اور نتیجہ صفر ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بارے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں اور ان لوگوں کی کارکردگی اور اخلاقی پستی کے ثبوت اخبارت کی زینت بن چکے ہیں۔ بچیوں کو پریشان و مجبور کیا جاتا ہے۔ میں نے حقائق سے صدرمملکت کو تحریری طور پر مطلع کیا ہے مگر نتیجہ صفر ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ آپ کے حمایت یافتہTVپر آپ کی میٹنگوں اور پریس کانفرنس پر واہ واہ کرتے ہیں وہ یہ کہنے کی جرأت نہیں رکھتے کہ ہفتہ وار میٹنگ یا پریس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمدنہیں ہورہے۔ آپ کو کبھی مغربی ممالک میں یہ خودستائی کہیں نام کو نظر نہیں آتی۔ میں 15برس یورپ میں رہا ہوں اور دنیا کے لاتعداد ترقی یافتہ ممالک کی سیر کی ہے کہیں خودستائی نہیں دیکھی ۔ جہاں تک حکومت کرنے کا تعلق ہے یہ کام بہت مشکل ہے۔

Comments are closed.