ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کے بعد (ن) لیگ کی نامور خاتون سیاستدان کا بیان

لاہور (ویب ڈیسک) نامور (ن) لیگی خاتون سیاستدان اور معروف کالم نگار حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔آج میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، قائدِاعظم کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی ہستی، بلاشبہ تسلیم شدہ غیرمتنازع قومی ہیرو، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر دشمن کی آنکھوں

میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہونے کے قابل بنانے والے، ایٹمی سائنسدان، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں، انا للہ و انا علیہ راجعون، اللہ پاک انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان آخری وقت تک پروانۂ آزادی طلب کرتے رہے لیکن کسی نے کان نہ دھرا، محسنِ پاکستان مسلسل محسن کشی کا سامنا کرتے کرتے داغِ مفارقت دےگئے ،ان پر جس جس نے جو جو جھوٹے الزامات لگا کر انہیں اعتراف کرنے پر مجبور کیا ،ان کا حساب تو انہیں دینا پڑے گا،کیا صحیح اور کیا غلط ہے اس کا فیصلہ تاریخ تو کرے گی لیکن جب خدا کے حضور پیشی ہوگی تو ظالم کیسے اپنے مظالم کاحساب دے پائیں گے؟کسی ذی شعور کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر بڑی قوموں کی عملی مدد کے بغیر نہ صرف ہم ایٹمی قوم بننے کا اعزاز حاصل کرلیں گے بلکہ ہمیں ایٹمی قوت بھی تسلیم کیا جائے گا،70 کی دہائی میں جب ڈاکٹر عبد القدیر کو ایٹمی پروگرام کی باقاعدہ شروعات کرنے اور اس کی نگرانی کیلئے ہالینڈ سے پاکستان لایا گیاتو کئی میر جعفر، میر صادق یہاں بھی موجود تھے ، انہیں پریشرائز بھی گیا لیکن وہ عجب بندہ ٔخدا تھے،اکثر کہا کرتے تھے کہ پاکستان میرا غرور ہے، وطنِ عزیز کے بانکپن کیلئے سر پر کفن باندھ کر آیا ہوں، یعنی ایک طرف ایٹمی پروگرام کو ناکام کرنے والی بین الاقوامی قوتیں تھیں تو دوسری جانب خالی ہاتھ افرادی قوت، فیض احمد فیض کا شعر ان کی ہمت اور جرأت پر پورا بیٹھتا ہے،

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاںسے گزر گئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے لئے جو خدمات سر انجام دیں انہی کی بدولت آج ہم آزادی کی فضا میں سانس لے رہے ہیں، ان جیسے مسلمان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، وہ ایک نسل کے نہیں بلکہ پوری قوم کے ہیرو تھے اور پاکستان کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا،محبِ وطن اور قوم کیلئے کچھ کر گزرنے والوں کیلئے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زندگی رول ماڈل ہے کہ وہ کس طرح اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو فراموش کرکے اپنی دھن میں ملک کی خدمت کرتے رہے، عوام کی خوش قسمتی کہ ان جیسا بے لوث دماغ پاکستان کو نصیب ہوا ، یقیناً انہوں نے جتنی عوامی اور عالمی عزت ، احترام اور تکریم سمیٹی وہ اس کے حقدار تھے لیکن ان کی قدر نہ کی گئی،کون لوگ ہیں ہم جنہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیرخان جیسے ہیرو کی قدر نہ کی، ہم سے تو بہتر بظاہر ہندو ملک ثابت ہوا جس نے اپنےمسلمان سائنسدان کو صدر مملکت بنا کر اس کی خدمات کا اعتراف کیا،تاریخ میں ڈاکٹر قدیر محافظِ پاکستان کی حیثیت میں زندہ رہیں گے۔پچھلے ماہ عالمی وبا کے باعث اسپتال منتقلی کے بعد ان کی وفات کی جھوٹی خبر پھیلی تو دل کو دھڑکا سا لگ گیا تھا، اگرچہ وہ واپس گھر منتقل بھی ہوگئے لیکن وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے تھے،ان کی وفات کے بعد ہمارا قومی ردِعمل فوری سامنے آگیا، ڈاکٹر عبد القدیر کی قید اور بیماری میں لاتعلق رہنے والی ملکی قیادت نے سوشل اور مین اسٹریم میڈیا پرفوری اظہارِ تعزیت کردیالیکن بیماری کے دوران سرکاری سطح پر ان کی عیادت تک نہ کی گئی ۔ڈاکٹر عبد القدیر ان پر لگائے گئے داغوں کا حساب اب تو اللہ میاں لیں گے ، دنیا میں انصاف کرنے کا وقت گزر گیا،اِس سے ثابت ہوتا ہےکہ ہم مردہ پرست قوم ہیں، جب تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ رہے ہم انہیں وہ مقام نہ دے سکے جس کے وہ حقدار تھے ، کتنے منافق ہیں ،آقائے فرنگ کو کھلی نوید دے دو، دشمنوں کو بھی تم کردوخبر، خونِ جگر وارنے جووطن آئے انہیں،پابند سلاسل کرکے چور چور کیا گیا، ٹوٹتے ٹوٹتے جاں دے کر آخر ،صدیوں کا قرض ہم پہ چڑھا گئے ،ڈاکٹر صاحب آپ ہمارے محسن تھے اور رہیں گےہم نے آپکی قدر نہیں کی ، ہم سوگوار ہی نہیں شرمندہ بھی ہیں،آپ سے معافی کے طلبگار ہیں۔

Comments are closed.