ڈوئچے ویلے نے اپنے سروے کے نتائج پر مبنی رپورٹ جاری کردی

لاہور (ویب ڈیسک) ايک مطالعے ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستانی شہریوں کی اکثريت اقتصادی طور پر بے يقينی صورت حال سے دوچار ہے۔ گو کہ پانچ فيصد شہريوں نے ملک کے مثبت سمت ميں بڑھنے کا کہا مگر کئی شعبوں ميں بے يقينی کی فضا بھی قائم ہے۔گلوبل ريسرچ فرم اپسوس کے

ايک تازہ سروے ميں شامل ہر بيس ميں سے صرف ايک پاکستانی شہری نے موجودہ اقتصادی حالات کو اطمينان بخش قرار ديا جبکہ ہر پانچ ميں سے چار کی رائے ميں حالات اور بھی بگڑ سکتے ہيں۔ ہر پانچ ميں سو دو پاکستانی شہری اپنے ذاتی مالی حالات کو نازک يا غير مستحکم سمجھتے ہيں اور پچاس فيصد شہریوں کی رائے ميں آئندہ مہينوں ميں اس صورت حال ميں مزيد بدتری کا امکان ہے۔ ہر دس ميں سے ايک پاکستانی شہری يہ سمجھتا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران اس کی نوکری جا سکتی ہے۔پچھلے سال صرف سترہ فيصد شرکاء نے معاشی حالات کو اچھا قرار ديا جبکہ اس سال يہ تعداد تيئس فيصد رہی۔ پاکستانی شہريوں کی نظر ميں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے جس ميں اس سال گيارہ فيصد کا اضافہ ريکارڈ کيا گيا۔ علاوہ ازيں افراط زر اور غربت بھی بڑے مسائل ميں شامل ہيں۔اگر صوبوں پر باريکی سے نگاہ ڈالی جائے، تو پنجاب اور خير پختونخوا کے رہائشيوں نے بد عنوانی کو سب سے اہم مسلئلہ قرار ديا جبکہ سندھ کے باسیوں نے لوڈ شيدنگ کو اہم مسلئلہ قرار ديا۔گلوبل ريسرچ فرم اپسوس کے اس سروے کے مطابق پاکستان کے صرف پانچ فيصد شہريوں نے موجودہ حالات پر بہت زيادہ اطمينان کا اظہار کيا ہے۔ پچھلے سال اسی طرز کے مطالعے ميں شامل صرف چار فيصد پاکستان شہريوں کا کہنا تھا کہ ملک جس راہ پر گامزن ہے، وہ اس سے بہت زيادہ مطمئن ہيں۔سروے ميں شامل بائيس فيصد نے اطمينان کا اظہار کيا۔ اکتيس فيصد کچھ حد تک عدم اطمينان کی کيفيت ميں تھے جب کہ تينتاليس فيصد قطعی طور پر غير مطمئن تھے۔ گلوبل ريسرچ فرم اپسوس کے رواں سال کے سروے کے نتائج ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت زيادہ مطمئن افراد کی تعداد پانچ فيصد ہے۔ چھبيس فيصد مطمئن ہيں، پينتيس فيصد کچھ حد تک غير مطمئن اور چونتيس فيصد کافی غير مطمئن۔(بشکریہ : ڈوئچے ویلے )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *