ڈوئچے ویلے کی خصوصی رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق ’وقتی پالیسیوں‘ کے برعکس جو بائیڈن روایتی امریکی پالسیوں کو اپناتے ہوئے علاقائی جیو پولیٹیکل نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔ سعودی عرب اس امکان سے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور اقتدار میں من چاہے

نتائج حاصل کرنے کے لیے غیر روایتی حکمت عملی اپنائی۔ ان کے خطرناک اقدامات سے کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا اور مشرق وسطیٰ کا سیاسی لینڈ اسکیپ بھی بدل گیا۔ امریکا ایران کے ساتھ سن دو ہزار پندرہ کے عالمی جوہری معاہدے سے نکل گیا اور ایران کے اُس جنرل قاسم سلیمانی کو زندگی سے محروم کیا ، جنہیں کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی اتفاق رائے کو توڑتے ہوئے یکطرفہ طور پر امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کر دیا۔ مشرق وسطیٰ کے ان علاقوں میں امریکی فوجی موجودگی کم کی، جنہیں امریکا اس وقت تک اپنے لیے اسٹریٹیجک حوالے سے بہت اہم سمجھتا آیا تھا۔ لیکن جو بائیڈن کے بطور صدر انتخاب کے ساتھ ہی توانائی سے مالا مال یہ خطہ ایک اور بڑی تبدیلی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے، جس  پر چلتے پوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ہتھیاروں کے سودوں پر امریکا کا سخت موقف نظر آ سکتا ہے۔یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات (ای سی ایف آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ”یہ ایک ایسا خطہ ہے، جہاں بائیڈن انتظامیہ کی توجہ دو امور پر مرکوز ہو گی۔ ایران جیسے مسائل پر پرانی امریکی پالیسی اپنائی جائے گی اور پورے خطے میں معیاری اقدار کی پاسداری پر زور دیا جائے گا۔‘‘ اس رپورٹ کے مطابق، ”بائیڈن نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران دیگر مسائل پر وسیع تر سفارت کاری کا عمل اپناتا اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، تو وہ عالمی جوہری معاہدے( جے سی پی او اے) میں امریکا کی دوبارہ شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘

ٹرمپ کے علاقائی رہنماؤں سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے عرب رہنماؤں، خاص طور پر سعودی عرب کے نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان کے ہاتھ کھلے چھوڑ دیے گئے۔ بزنس مین سے سیاستدان بننے والے ٹرمپ کے خاص طور پر خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ یہ روابط سابق امریکی صدر باراک اوباما کی پالیسوں سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے تھے، جنہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا اور جسے ایران کے سعودی عرب جیسے روایتی حریف ملک نے ناپسند کیا تھا۔ابھی چند روز پہلے ہی امریکا نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے صلے میں دس بلین ڈالر کے عوض F-35 طیارے فروخت کیے۔ علاقائی سطح پر یہ ایک گیم چینجر فیصلہ تھا۔خلیجی ممالک کی نظر میں صدر ٹرمپ کی پالیسیاں کامیاب رہیں۔ صرف ایک واقعہ کافی حد تک ناخوشگوار تھا اور وہ تھا تیل پیدا کرنے والی سعودی کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر اٹیک، جس کا الزام ایران پر عائد کیا جاتا ہے۔انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے خلیجی ریاستوں کے لیے سینئر تجزیہ کار الہام فخرو کا کہنا ہے، ”سعودی حکام صدر ٹرمپ کے لیے دوسری مدت صدارت کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹرمپ ان کے اہم علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے اور سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدوں کی حمایت بھی شامل تھی۔‘‘ الہام فخرو کہتے ہیں، ”اب وہ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ ان کے بنیادی مفادات کو تحفظ

فراہم نہیں کرے گی۔ بائیڈن ایران کے خلاف پابندیاں نرم کر دیں گے، دوبارہ معاہدے میں شامل ہو جائیں گے اور ہتھیاروں کی فروخت کو محدود بنا دیں گے۔‘‘ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے وائٹ ہاؤس نے کانگریس میں وہ قراردادیں بھی نہیں جانے دی تھیں، جو یمنی لڑائی میں متنازعہ سعودی کردار  اور سعودی صحافی جمال خاشقجی سے متعلق تھیں۔ محمد بن سلمان واشنگٹن میں خود کو اب تنہا محسوس کریں گے۔الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد عرب لیڈروں نے جو بائیڈن کو مبارکباد دینے میں تاخیر نہ کی لیکن چھ خلیجی ممالک میں سعودی عرب وہ واحد ملک ہے، جس نے ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔بائیڈن لیبیا میں لڑائی کے خاتمے سے لے کر ترکی کے عراق میں کردار کے حوالے سے ان تمام مسائل پر توجہ دیں گے، جن کے بارے میں الزام ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں یا تو نظر انداز کیا یا پھر ان معاملات میں بدانتظامی دکھائی۔تجزیہ کاروں کے مطابق بائیڈن انتظامیہ سب سے پہلے فلسطینیوں کے ساتھ روابط بحال کرے کیوں کہ فلسطینی ٹرمپ کے اُن فیصلوں سے شدید ناراض ہیں، جن کے تحت امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کیا گیا اور عرب ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ روابط قائم کرائے گئے۔تاہم جو بائیڈن کئی عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے فیصلے کی دل سے تائید کرتے ہیں اور وہ اس کے حق میں بھی ہیں۔ اس کے امکانات بھی بہت کم ہیں کہ اب وہ یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کو بند کریں گے۔تاہم ای سی ایف آر کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن ٹرمپ کے فیصلوں کے منفی نتائج کو کم کرنے کی کوشش کریں گے، ”وہ فلسطینیوں کے لیے امریکی امداد بحال کریں گے۔ واشنگٹن میں فلسطینی مشن کو دوبارہ کھول دیں گے اور دو ریاستی حل کی روایتی پوزیشن پر واپس آ جائیں گے۔ تاہم اس کے باوجود جمود مکمل طور پر ٹوٹ جانے کے امکانات کم ہیں۔‘‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *