ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی پالیسی سازوں کی عمران خان کو پسند کرنے کی اصل وجہ کیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) امید اب یہ باندھی جارہی ہے کہ ’’اداروں کو للکارنے‘‘ کے بعد نواز شریف صاحب نے بھی اپنی جماعت میں موجود ممکنہ ’’فروغ نسیموں‘‘کو ’’ذہنی غلامی‘‘ سے نجات کی راہ دکھادی ہے۔’’نون‘‘ میں سے ’’شین‘‘ برآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ شہباز شریف بلکہ نیب کی تحویل میں جاچکے ہیں۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب ان کی اہلیہ اور دختر کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری ہوگئے۔شریف خاندان کا نظربظاہر یہ گماں ’’بے نقاب‘‘ ہوا کہ شہر لاہور ان کا ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ قلعہ ہے۔ ’’تخت لہور‘‘ پر ویسے بھی ڈیرہ غازی خان کی ایک پسماندہ تحصیل سے ابھرے عثمان بزدار صاحب گزشتہ دو برس سے براجمان ہیں۔اس شہر پر ان کے مکمل کنٹرول کو یقینی بنانے کے لئے رحیم یار خان کو تحصیل خان پور سے عمر شیخ صاحب بھی دریافت ہوچکے ہیں۔لاہور پولیس کی کمان سنبھالنے کے بعد وہ مسلسل دعویٰ کررہے ہیں کہ آئندہ تین ماہ میں اس شہر کا ہر شخص پکاراُٹھے گا کہ یہ شہر ’’بدل‘‘ گیا ہے۔عمران خان صاحب کے آبائی میانوالی کے نواح میں واقعہ کالاباغ سے 1960کے ابتدائی ایام میں نواب امیر محمد خان نمودار ہوئے تھے۔ انہوں نے لاہور پولیس کی کمان بھکر سے ابھرے اصغر خان کے سپرد کی تھی۔ ان کے ہوتے ہوئے جماعتِ اسلامی جیسی منظم جماعت مولانا مودودی کی قیادت میں لاہور میں اپنا ’’سالانہ کنونشن‘‘ منعقد کرتے ہوئے شدید پریشان ہوئی۔بھاٹی دروازے کے باہر ایک چھوٹے سے باغ میں انہیں سالانہ اجتماع کی اجازت ملی۔اس اجتماع میں لیکن لائوڈسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ مولانا نے دھیمی آواز میں لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ اس تقریر کو فاصلے پر لگائی میزوں پر کھڑے ہوکر چند کارکن بلند آواز میں دہراتے ہوئے اپنے ’’امیر‘‘ کا پیغام آگے بڑھاتے رہے۔بہرحال عمران خان صاحب کے اعتماد کی جانب لوٹتے ہیں۔اکتوبر2020فقط اپوزیشن کے لئے ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم کے لئے بھی بہت اہم ہے۔

محض چارہفتے گزرجانے کے بعد3نومبر کو امریکی صدارتی انتخاب ہونا ہے۔ ٹرمپ اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے بے چین ہے کہ افغانستان میں 18برس سے جاری ’’لاحاصل لڑائی ‘‘ کے خاتمے کا اعلان ہوجائے۔ مذکورہ ہدف کے حصول کے لئے دوحہ میں مذاکرات جاری ہیں۔taliban کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لئے پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔حال ہی میں عمران خان صاحب نے مشہور امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے لئے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے انکشاف کیاکہ ستمبر2018میں انہیں امریکی صدر نے ایک چٹھی لکھی تھی۔اس کے ذریعے درخواست ہوئی کہ taliban کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے۔عمران خان صاحب کے علاوہ کوئی اور پاکستانی سیاست دان اس تناظر میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا۔وزیراعظم کی اس ضمن میں Edgeیہ تھی کہ وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے افغانستان میں جاری لڑائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے رہے ہیں۔ان کے رویے کی وجہ سے ’’امریکی ڈالروں‘‘ پر مبینہ طورپر پلنے والی NGOsمیں بیٹھے ’’دیسی لبرلز ‘‘ انہیں مختلف طعنے دیتے رہے۔خان صاحب مگر ڈٹے رہے۔افغانستان کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات بھی ہمارے وزیر اعظم جیسے ہیں۔اسی باعث جولائی 2019میں ان کا وائٹ ہائوس میں گرم جوشی سے خیرمقدم ہوا۔ٹرمپ کی اہلیہ جو اپنے شوہر کاہاتھ بھی اکثر ٹی وی کیمروں کے سامنے جھٹک دیتی ہے عمران خان صاحب کے ساتھ سیلفی بنانے کو مجبور ہوئی۔ٹرمپ نے اپنے ’’دوست‘‘ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش بھی کردی۔ کشمیر پر اس ملاقات کے بعد اگرچہ مودی نے قیامت برپا کردی۔ taliban کو مذاکرات کی

میز پر بٹھانے کے لئے ہمارا تعاون مگر جاری رہا۔ اکتوبر2020کے وسط تک دوحہ میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان میں لڑائی کا خاتمہ کرتا کوئی اعلان ہوگیا تو ٹرمپ کی بلے بلے ہوجائے گی۔ وہ الیکشن جیت گیا تو عمران خان صاحب اس کے ’’حقیقی دوست‘‘ نظر آئیں گے۔یہ الگ بات ہے کہ جبلی طورپر وہ شکر گزار انسان نہیں ہے ۔ اپنا کام نکلوالینے کے بعد آنکھیں ماتھے پر رکھ لینے کا عادی ہے۔اس مرحلے تک پہنچنے میں لیکن کافی وقت درکار ہے۔ فی الحال تو عمران خان اور ٹرمپ ایک دوسرے کے ’’جگری یار‘‘ ہی نظر آئیں گے۔ہمارے ہاں حکومتوں کے آنے اور جانے میں امریکہ بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ٹرمپ کے ہوتے ہوئے وہ عمران حکومت کے خلاف کوئی گیم لگانے کو تیار نہیں ہوگا۔ خان صاحب کو لہذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔اے پی سی والے تو اکتوبر سے جلسے جلوس کرنے کے چکر میں ہیں۔عمران حکومت مگر خاموشی سے تیاری کررہی ہے کہ نومبر میں بلائے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخاب سے قبل اس ’’حساس‘‘ خطے کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنادیا جائے۔اس کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔بنیادی طورپر ’’وہ ملاقات‘‘اپوزیشن جماعتوں سے آئینی ترمیم کے لئے تعاون طلب کرنے کے لئے ہی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی اس ترمیم کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی نظر آئیں تو گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو نومبر کے انتخاب کی بدولت تقریباََ واک اوورمل جائے گا۔وہ دوتہائی اکثریت بھی حاصل کرسکتی ہے۔گلگت بلتستان میں نومبر میں ہونے والا انتخاب تحریک انصاف نے ’’بھاری اکثریت‘‘ سے جیت لیا تو اپوزیشن والے کس منہ سے بقیہ ملک میں’’نئے انتخاب‘‘ کا مطالبہ کریں گے۔یہ سوچتے ہوئے عمران خان صاحب کو لہذا مطمئن اور پراعتماد ہی محسوس کرنا چاہیے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *