ڈچ شہزادی امالیا کے حوالے سے چند حیران کن حقائق

لندن (ویب ڈیسک) ایک ایسے ملک کے لیے جس کا موٹو یا نعرہ ہی ’نارمل بنیں‘ ہو، وہاں ڈچ تخت کی وارث بالکل ٹھیک بیٹھتی ہیں۔شہزادی امالیا منگل کو 18 سال کی ہو گئی ہیں۔ انھوں نے پڑھائی سے وقفہ لیا ہوا ہے، ذہنی صحت سے متعلق اپنی جدوجہد پر بڑے اطمینان سے بات کرتی ہیں

اور کہتی ہیں کہ وہ اس وقت تک اپنی آمدن نہیں لیں گی جب تک وہ پوری طرح کام کرنے والی شاہی فرد نہیں بن جاتیں۔امالیا کو گانا گانا، سر پر تاج سجانا اور میوزیکل پسند ہے۔ سو ہم نیدرلینڈز کی مستقبل کی ملکہ کے متعلق اور کیا جانتے ہیں اور کیا ان کے بالغ ہونے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا؟شہزادی امالیا ایک سرکاری سکول میں پڑھتی تھیں جو کہ دی ہیگ میں ان کے گھر کے قریب ہے، اور کئی دوسرے ڈچ بچوں کی طرح وہ بھی سکول اپنی بائیسیکل پر جاتی تھیں۔ان کے نجی حلقے کے قریب افراد نے مجھے بتایا کہ امالیا اور ان کا خاندان دوسرے ڈچ شہریوں سے مختلف نہیں تھا، اور نجی میسینجر گروپس پر لوگوں سے بات چیت کرتا رہتا تھا۔انھوں نے ایک پروٹیسٹنٹ ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی اور سکول چھوڑنے کی ڈچ روایت کو پورا کرتے ہوئے اپنے گھر کی چھت پر اپنے ملک کا جھنڈا لگا کر اس پر اپنا سکول کا بستہ لٹکایا۔اب وہ 18 برس کی ہو گئی ہیں اور وہ 18 لاکھ ڈالر آمدن کی اہل ہیں جو گھریلو خرچے کی مد میں دی جاتی ہے، لیکن وہ یہ ابھی لینا نہیں چاہتیں کیونکہ ان کے بقول وہ ابھی ایسا کچھ نہیں کر رہیں کہ وہ رقم انھیں ملے اور اس سے وہ بہت ’بے آرام‘ محسوس کریں گی۔شہزادی کا پورا نام کیتھرینا امالیا بیٹرکس کارمن وکٹوریہ ہے اور ان کی دو چھوٹی بہنیں الیگزیا اور آریانے ہیں۔ ان کا خاندان سال میں دو مرتبہ شاہی تصویر بنواتا ہے اور اس

کے بدلے میں باقی پورے سال ان کی نجی زندگی میں دخل نہیں دیا جاتا۔ان کے والد شاہ ولیئم الیگزینڈر، ایک پائلٹ ہیں جو باقاعدگی سے کے ایل ایم کا مسافر بردار جہاز اڑاتے ہیں۔ ان کی والدہ ملکہ میکسیما کا تعلق ارجنٹائن سے ہے، جو اپنے ساتھ لاطینی امریکہ کی چاشنی لائی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے ایک نسبتاً پھیکے شاہی خاندان میں زندگی آ گئی ہے۔جب کچھ سال پہلے میں شاہی خاندان کے ایک محل نما گھر میں چائے پر مدعو کی گئی تھی تو شاہ ولیئم الیگزینڈر نے مجھے بتایا کہ خوش شادی شدہ زندگی کا راز کشادہ دلی اور ایمانداری ہے۔لگتا ہے کہ ان کی بیٹی کو یہ سوچ وراثت میں ملی ہے۔ایک سرکاری طور پر جاری ہونے والی آپ بیتی جسے ان کی سالگرہ کے موقع پر شائع کیا گیا، شہزادی نے کھل کر اس قانون کے بارے میں بات کی جس کے تحت شادی کے لیے انھیں نیدرلینڈ کی اجازت درکار ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’اگر وہ مرد جو میری حمایت کرتا ہے، جس سے میں پیار کرتی ہوں، جس کے ساتھ میں اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہوں اور پارلیمان اسے منظور نہیں کرتی، تو پھر ہمیں دیکھنا ہو گا کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔‘’میں اپنی مرضی سے کسی کا انتخاب نہیں کر سکتی۔ تو میں ملک کے لیے اچھے فیصلے کیسے لے سکتی ہوں۔‘ایسا پہلے بھی ہوا ہے۔ ان کے آنجہانی چچا، شہزادہ فرسکو، کا شاہی خاندان سے مقام اور جانشینی اس وقت جاتی رہی جب انھوں نے حکومت کی منظوری کے بغیر میبل ویزے سمٹ سے شادی کر لی تھی۔

اپنی آپ بیتی میں جو کمیڈین کلاڈیا دی بریج نے لکھی ہے، امالیا کہتی ہیں کہ ان کے خاندان میں ہم جنس پرستی کوئی بڑی بات نہیں ہیں۔ ’میرے والدین کے بہت قسم کے دوست ہیں، لہذا میں نہ صرف ’انکل اور آنٹ‘ کے ساتھ پلی بڑھی ہوں بلکہ ’انکل اور انکل‘ اور ’آنٹی اور آنٹی‘ کے ساتھ بھی۔‘جب وہ 14 سال کی تھیں تو انھوں نے ’پرپل فرائیڈے‘ کے موقع پر ان طالب علموں کی حمایت میں جامنی رنگ کے کپڑے پہنے تھے جو ’ہیٹروسیکشویل‘ یا ’سسجینڈر‘ یعنی جن کی جنس واضح نہیں تھی۔کیونکہ نیدرلینڈز میں ہم جنس افراد کو گذشتہ 20 سال سے شادی کی اجازت ہے، اسی حوالے سے حال میں ہی ایک سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر امالیا اپنی ہی جنس کے کسی فرد کو اپنا پارٹنر منتخب کر لیں تو پھر کیا ہو گا۔اگرچہ اس قیاس پر تنقید بھی ہوئی لیکن بعد میں نگراں وزیرِ اعظم مارک رٹیے نے کہا کہ فرضی طور پر اس میں کوئی قانونی مشکل نہیں ہو گی۔ہمیں امالیا کی سوانح عمری سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں ڈچ مردوں کی نسبت جرمن مرد زیادہ بہادر لگتے ہیں۔انھیں جونیئر ہائی سکول میں یہ جان کر بڑی تسلی ہوئی کہ کسی نے ان میں رومانوی طور پر دلچسپی بھی لی ہے، انھوں نے ایک اور سٹوڈنٹ کو ڈیٹ کیا، لیکن بعد میں انھیں پتہ چلا کہ اس کے ارادے غیر مخلص تھے۔ اس نے ان کے ساتھ ڈیٹ ایک شرط جیتنے کے لیے کیا تھا۔یقیناً کئی ٹین ایجر اس بات کو سمجھ سکتے ہیں۔عملیت پسند نیدرلینڈز

میں جذبات کا اظہار کرنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، لیکن امالیا نے کھل کر کہا ہے کہ ’کبھی کبھی میرے لیے یہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے، سکول، دوست (وغیرہ)۔ پھر میں کسی سے بات کرتی ہوں۔‘وہ ذہنی صحت کو بھی اتنا ہی اہم سمجھتی ہیں جتنا جسمانی صحت کو: ’اگر مجھے ضرورت پڑے تو میں اپائنٹمینٹ لوں گی۔۔۔ گاہے بگاہے کسی پروفیشنل سے بات کرنا کافی نارمل ہے۔‘کسی ولی عہد شہزادی، اور وہ بھی ایک ٹین ایجر‘ کو تھیراپی لینے کے متعلق بات کرتا دیکھ کر بہت سے نوجوان لوگوں کو حوصلہ مل سکتا ہے جو شاید معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی تکلیف چھپاتے ہیں۔برطانوی شاہی خاندان کے افراد نے بھی ذہنی صحت پر بات کی ہے، لیکن انھوں نے امالیا کی طرح کسی بیچ کلب میں ویٹرس کی نوکری نہیں کی۔وہ اپنے آپ ایک بخیل ’مکسولجسٹ‘ سمجھتی ہیں، اور ان کا عرفی نام ’کاکٹیل کوئن‘ ہے، اور ان کے گھوڑے کا نام بھی موخیٹو ہے۔ایک ڈچ اداریہ لکھتا ہے کہ ’امالیا کا موازنہ برطانوی شاہی خاندان سے کریں، اور شکر ادا کریں۔‘ بس ان پر ہونے والے خرچ پر بات نہ کریں، کیونکہ ڈچ شاہی خاندان یورپ میں کسی بھی شاہی خاندان سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ایسی نوجوان لڑکی کے متعلق کوئی نظریہ قائم کرنا مشکل ہے جسے پریس سے بچا کے رکھا گیا ہو اور جس کی پرورش پرائیویٹ طور پر ہی کی گئی ہو۔شہزادی امالیا کی عاجزی، کھلے پن اور صداقت کی وجہ سے بہت سے لوگ ان سے پیار کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر میں سفارتکاری کے ذریعے ایک بری صورتِ حال سے بچ سکوں، تو میں نے دنیا کو تھوڑا بہت بہتر بنا لیا ہے، میں خوش ہوں۔‘امالیا خود بھی سمجھتی ہیں کہ وہ ابھی ملکہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اپنی ماں کو کہیں گی کہ جب تک وہ تیار نہیں ہوتیں وہ یہ ذمہ داری نبھاتی رہیں۔لیکن منگل کو امالیا کے بڑے ہونے پر نیدرلینڈز میں صبح نو بجے گھنٹیاں بجیں اور رائل گلوکنسپیئل سوسائٹی میں ان کے لیے خصوصی کمپوزیشن ’امالیا ایٹینتھ‘ کی پرفارمنس بھی ہوئی۔امالیا نے خود یہ جشن شاید کسی نجی محفل میں ایک یا دو کاکٹیل سے منایا ہو۔