ڈھکے چھپے الفاظ میں حکومت اوراداروں پر الزامات کی بوچھاڑ

لاہور (ویب ڈیسک) اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بالخصوص صحافیوں کے گم ہونے اور انہیں زدو کوب کرنے کے واقعات میں وبا کی طرح اضافہ ہو رہا ہے۔ مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر ’شریف شہری‘ کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں۔نامور صحافی مطیع اللہ جان ڈوئچے ویلے

کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ان حفاظتی تدابیر کو اپنا کر حالات و واقعات کا ایک ایسا ریکارڈ ترتیب دیا جا سکتا ہے، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں چھپ کر وار کرنے والے ‘بزدلوں ‘ کے خلاف کسی حد تک استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ تمام تدابیر واقعہ سے پہلے اور بعد کے لیے بھی ہیں۔ ملک میں انسانی حقوق اور صحافتی آزادی کی موجودہ صورت حال میں ہر ناقد شہری اور ناقد صحافی کو مذکورہ حادثے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اس حوالے سے درج ذیل اقدامات اٹھائیں۔اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی غیرمعمولی حادثے، خود کو موصول ہونے والی بلواسطہ یا بلا واسطہ وارننگ کی صورت میں فوری طور اپنے قابل اعتماد ساتھیوں یا دفتر کے حکام کو تحریری طور پر (ای میل وغیرہ کے ذریعے) آگاہ کریں اور اس کے پیچھے ممکنہ وجوہات یا خدشات کا ذکر ضرور کریں۔ یہ کرنا خاص کر اس وقت ضروری ہے، جب ایسا واقعہ آپ کے پیشہ وارانہ معمولات سے بلواسطہ یا بلا واسطہ جڑا ہو۔کسی بڑے حادثے کی صورت میں مقامی پولیس کو فوری طور پر رپورٹ کریں اور ہر صورت ایف آئی آر درج کروائیں۔اپنے پیشہ وارانہ کام کے سلسلے میں کسی بھی ‘خاص یا خفیہ شخصیت‘ سے ملاقات سے پہلے اپنے قابل اعتماد ساتھی یا دوست کو مطلع ضرورکریں۔ تھوڑے سے بھی خدشے کی صورت میں تحریری طور پر ملاقات کے بظاہر مقصد، تاریخ، مقام اور وقت کے بارے میں اپنے دفتر کے حکام کو مطلع کر کے ملاقات کے لیے جائیں۔اپنے دفتر کے

قابل اعتماد ساتھیوں اور قریبی دوستوں کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے تمام ٹیلی فون نمبر ضرور شئیر کریں تاکہ ہنگامی حالت کی صورت میں کام آ سکیں۔ اسی طرح اپنے دفتر کے قابل اعتماد ساتھیوں اور قریبی دوستوں کے رابطہ نمبر اپنے گھر میں خاص جگہ پر آویزاں کر دیں۔اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنی ممکنہ واپسی کے وقت کا بتا کر نکلیں اور ضروری سمجھیں تو اپنے اس روز کے معمولات کا ذکر بھی اہل خانہ سے ضرور کریں۔ دوران سفر کسی بھی خدشے یا خطرے کے پیش نظر اپنی لائیو لوکیشن واٹس ایپ یا فائنڈ فرینڈز ایپ کے ذریعے مستقل طور پر اہل خانہ یا قریبی دوست کے ساتھ شیئر کریں۔دفتر یا کسی دوسرے عوامی مقام پر اپنی گاڑی ہمیشہ ایسی جگہ پارک کریں، جہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہوں۔ وقت ضرورت ویڈیو مل جانے کی توقع بے شک نہ رکھیں۔اپنے گھر اور دفتر میں پولیس ایمرجنسی رابطہ نمبروں کی فہرست آویزاں رکھیں۔اپنے سمارٹ فون پر اپنے ای میل، ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ اکاؤنٹس کے پاس ورڈز اپنے اہل خانہ بشمول بالغ بچوں سے ضرور شیئر کریں، جو آپ کے گم ہونے یا لے جائے جانے کی صورت میں فوری طور پر ان پاس ورڈز کو بدل دیں تا کہ واردات ڈالنے والے ان اکاؤنٹس کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ واقعہ کی صورت میں کسی دوسرے فون یا گھر کے ڈیسک ٹاپ سے اہل خانہ ان اکاؤنٹس تک ہنگامی رسائی حاصل کر سکیں۔اپنے اہل خانہ سے یہ طے رکھیں کہ ہنگامی صورت حال میں ٹویٹر یا دوسرے اکاؤنٹس سے

کیا پیغام کیسے شئیر کرنا ہے اور کن کن قریبی دوستوں کو فوری مطلع کرنا ہے۔لاپتہ ہونے کے بعد مل جانے کی صورت میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق پولیس، اہل خانہ، قریبی دوستوں اور عام عوام کو درست حقائق سے ضرور آگاہ کریں تاکہ باقی شہریوں اور ناقد صحافیوں کو بھی ایسا کرنے کا حوصلہ ملے، جس سے یہ کارروائی ڈالنے والوں کا مورال ڈاؤن ہو گا۔آخر میں سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں ‘کامیاب و کامران‘ صحافیوں کے آزمودہ طریقے کے مطابق آپ ایسا کوئی کام ہی نہ کریں، جس سے اس ملک کے ایسے وارداتیوں کے مالی و سیاسی مفادات کو نقصان پہنچتا ہو۔ نہ صرف آپ محفوظ رہیں گے بلکہ ترقی بھی کریں گے۔واضح رہے کہ مذکورہ تمام طریقے آپ کو سو فیصد محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتے کیونکہ ان طریقوں کو یہ حضرات بھی بغور پڑھ چکے ہوں گے۔ مگر پھر بھی یہ تحریر ان وارداتیوں کی اپنی ہی آئندہ نسلوں کے کام آ سکتی ہے اگر وہ پاکستان میں ہی جینے مرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو۔میری ایک گزارش یہ بھی ہے کہ گم ہونے والے کے اہل خانہ، دوستوں، پیشہ وارانہ ساتھیوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عام عوام کے علاوہ حکومت اور عدلیہ کو ان واقعات پر بھرپور ردعمل دینا چاہیے۔ سب سے بڑی ذمے داری حکومت اور پولیس کی ہے، جس کے بعد عدلیہ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔خصوصی نوٹ: حکومت سے اپیل ہے کہ وہ ان پراسرار لوگوں سے اپیل کرے‘ کہ خدارا! اس ملک پر رحم کھائیں، شکریہ۔ (بشکریہ : ڈوئچے ویلے )

Sharing is caring!

Comments are closed.