ڈیل کی باتوں کی اصلیت کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔حکومت جب تنظیمی معاملات میں الجھی ہوئی تھی تو اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے یہ تاثر پھیلاناچاہا کہ اگست 2018ء میں نمودار ہونیوالے حکومتی بندوبست کے خالق بھی اکتاگئے ہیں۔ وہ کوئی نئی گیم لگانے کی تیاری کررہے ہیں

۔آصف علی زرداری نے اس تاثر کو تقویت دینے کے لئے ’’فارمولے‘‘ والا بیان بھی داغ دیا۔دریں اثناء لاہور میں خواجہ رفیق کی یاد میں ایک تقریب ہوئی۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے بڑھک لگائی کہ لندن میں مقیم نواز شریف صاحب سے ’’غیر سیاسی‘‘ لوگ رابطے کررہے ہیں۔مذکورہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے بھی وطن لوٹنے کا عندیہ دیا۔ ہم ان کے دئیے پیغام کو غالباً سنجیدگی سے نہ لیتے۔ عمران خان صاحب نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیکن سپریم کورٹ کے ہاتھو ںنااہل ہوئے نواز شریف کی وطن واپسی کی بابت چند سوالات اٹھادئیے۔ان کے سوالات نے ہمیں بھی چونکادیا۔ہمارے ایک بہت ہی متحرک اور خبر کو نہایت جستجو سے تلاش کرتے صحافی جناب انصار عباسی صاحب نے مگر ’’دفاعی‘‘اور ’’باخبر ذرائع‘‘ سے گفتگو کرنے کے بعد پے در پے دو خبریں دی ہیں۔ان کے ذریعے پیغام یہ پہنچایا گیا کہ وطن عزیز میں سیاسی منظر نامہ طے کرنے والی قوتیں اپوزیشن کے کسی رہ نما سے رابطے میں نہیں۔آصف علی زرداری سے بلکہ سوال ہوا کہ وہ ان افراد کے نام لیں جنہوں نے مبینہ طورپر ان سے رابطے کئے ہیں۔ نواز شریف سے اگرچہ یہ سوال نہیں پوچھا گیا۔ دریں اثناء پیر کے دن قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت وہاں قومی سلامتی کی پالیسی باہمی اتفاق سے طے کرتی نظر آئی۔ملک کے معاشی حالات کو قومی سلامتی کے اس اجلاس میں کلید ٹھہرایا گیا ہے۔ عملی صحافت سے ریٹائر ہوا

مجھ جیسا رپورٹر محض اندازہ ہی لگاسکتا ہے کہ مذکورہ اجلاس میں یہ سوال بھی زیر غور آیا ہوگا کہ ہم آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط پر عملدرآمد کو تیار ہیں یا نہیں۔ منطقی جواب تو یہ بنتا ہے کہ عالمی معیشت کے نگہبان اداروں کے ساتھ ہوئے وعدوں کی تکمیل ریاستی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے لازمی ٹھہرائی گئی ہوگی۔ اگر یہ طے ہوگیا ہے تو اب فون کھڑکیں گے اور قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی نشستوں پر براجمان اراکین سرجھکائے ایوان میں آجائیں گے۔ شوکت ترین کے تیارکردہ منی بجٹ پر فدویانہ انداز میں انگوٹھے لگادیں گے۔ ’’ڈیل‘‘ کی باتیں اس کے بعد ازخود ہوا میں تحلیل ہوجائیں گی۔لاہور کے ملامتی شاعر شاہ حسین نے کئی سو برس قبل کہہ رکھا ہے کہ ’’تخت نہ ملدے منگے‘‘۔مختصراً یوں کہہ لیں کہ اقتدار کسی شخص کو خیرات کی صورت فراہم نہیں کیا جاتا۔اسے سیاسی جدوجہد کے ذریعے چھیننا ہوتا ہے۔سیاسی جدوجہد کی لیکن ہماری اپوزیشن جماعتوں کو عادت نہیں رہی۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا ڈھونگ رچاتے ہیں مگر لندن میں مقیم ہوئے نواز شریف صاحب سے ’’غیر سیاسی افراد‘‘ کی مبینہ ملاقاتوں سے جی کو خوش کرلیتے ہیں۔ایسے سیاست دانوں کو کم از کم میں سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہوں۔آئی ایم ایف نے مصر کی معیشت کے لئے جو منصوبہ تیار کیا تھا اس پر کامل عملدرآمد رضا باقر کی نگرانی میں ہوا۔ اب وہ ہماری معیشت سنوارنے کے مشن پر مامور ہیں اور مصر کی طرح پاکستان میں بھی انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Comments are closed.