ڈی جی آئی ایس پی آر کا سربراہ اب ایک میجر جنرل کیوں ہوتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف طاہر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جقیام پاکستان کے بعد ایک عرصہ تک آئی ایس پی آر کا سربراہ ایک میجر ہوتا تھا‘ پھر یہ اَپ گریڈ ہو کر کرنل ہو گیا۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں بریگیڈیئر صدیق سالک اس کے سربراہ ہوئے (سقوطِ مشرقی پاکستان

کے وقت ایک نوجوان فوجی افسر کے طور پر وہ ڈھاکہ ہی میں تھے۔ دشمن کی قید سے آزاد ہو کر آئے‘ تو ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ جیسی شاہکار کتاب لکھ دی۔ ان کی زندگی کے آخری ماہ و سال جنرل ضیا الحق کی رفاقت میں گزرے‘ اور انہی کے ساتھ 17 اگست 1988ء کی سہ پہر بہاولپور میں‘ آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔) جنرل اسلم بیگ کے دور میں بریگیڈیئر ضیا اللہ ڈی جی آئی ایس پی آر مقرر ہوئے۔ اسی دور میں ضربِ مومن کے نام سے تاریخی مشقیں منعقد ہوئیں‘ یہ پاکستان کی عسکری تاریخ کا منفرد اور غیر معمولی تجربہ تھا جس میں ملک بھر سے اخبار نویسوں کو بھی شریک کیا گیا۔ اسے افواج میں ”گلاس ناسٹ‘‘ (Openness) کا نام دیا گیا تھا۔ جنرل بیگ کے حاسدین اور ناقدین جسے افواج سے زیادہ جنرل صاحب کی پرسنل پروموشن کا بہانہ قرار دیتے… بہر حال یہ پہلا موقع تھا‘ جب فوج اور نوجوان صحافیوں میں قربت پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے تو مدیران کرام سے رابطے ہی پر اکتفا ہوتا تھا اور اس کی ضرورت بھی سال میں شاید ایک آدھ بار ہی پڑتی۔ جنرل بیگ کی جگہ جنرل آصف نواز آئے‘ ان کے اچانک انتقال پر جنرل وحید کاکڑ ان کے جانشین ہوئے۔ یہ ملک میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کا دور تھا‘ صدر غلام اسحاق خاں کے ہاتھوں وزیراعظم نواز شریف کی برطرفی‘ پھر سپریم کورٹ سے بحالی‘ لیکن اس دوران ایوانِ صدر کے مکین بابا جی پنجاب اور سرحد میں ایسا بندوبست کر چکے تھے کہ نواز شریف کی بحال شدہ حکومت چل نہ سکے‘

Comments are closed.