کئی دہائیاں قبل یہ شاندار پیشگوئی کس نے کی تھی جو آج سچ ثابت ہونے جارہی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے سابق اعلیٰ افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اسلم شاد صاحب نے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں جس تیسری پیشگوئی کا ذکر کیا ہے وہ صوفی برکت علی صاحب کی زبان سے ہے۔ صوفی صاحب سمندری (فیصل آباد) کے رہنے والے تھے

اور شاید وہیں مدفون ہیں۔وہ بہت نیک خُو اور نیک نام بزرگ تھے۔ پاکستانیوں کی اکثریت ان کو ولی اللہ گردانتی ہے۔ ان کے بارے میں بہت سی روایات، کرامات اور قصے کہانیاں منسوب ہیں۔ ان کی بیشتر پیشگوئیاں ہوبہو سچ ثابت ہوتی رہیں۔ جس پیشگوئی کا ذکر اسلم شاد صاحب نے کیا ہے اس کی وڈیو مجھے کل ہی ایک قاری نے واٹس اَپ پر ارسال کی ہے۔ اس میں بالکل وہی باتیں حضرت صوفی برکت علی کی زبان سے سنی جا سکتی ہیں جس کا تذکرہ اسلم شاد نے اپنے آڈیو لنک میں کیا ہے۔ یہ پیشگوئی 1990ء کے عشرے میں کی گئی تھی۔ اس وقت امریکہ نے افغانستان پر دھاوا نہیں بولا تھا۔ اس میں بھی وہی باتیں دہرائی گئی ہیں جو پشاور کے بابا نے پشتو میں اور بلغاریہ کی اندھی خاتون نے طیب صدیقی کے سامنے دہرائی تھیں۔ یعنی پاکستان میں پہلے تو سخت بربادی ہو گی لیکن آخر میں پاکستان اس خطے میں خوشحالی اور عسکری قوت کا گہوارہ بن کر اٹھے گا۔ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ ان بزرگوں (مرد اور خواتین) کی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی مغربی سرحد نسبتاً محفوظ ہو چکی ہے اور آئندہ مضبوط تر ہونے کے امکانات ہیں۔ وسط ایشیا کی 6ریاستوں میں معدنی دولت کے جو ذخائر مدفون ہیں ان سے بالواسطہ پاکستان مستفید ہونے کو ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں CPECکی شاہراؤں کے توسط سے ان دفینوں کو ساری دنیا میں پہنچانے کا باعث بنیں گی اور اس سے جو کسٹم ڈیوٹی پاکستان کو حاصل ہوگی وہ CPECکے قرض اتارنے کے لئے کافی و شافی ہوگی۔

آج پاکستان کے بدخواہ چین سے حاصل کردہ قرضوں کو پاکستانی معیشت پر بوجھ گردان رہے ہیں، مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لیتا اور کینٹ بورڈ کے الیکشنوں سے بھی وابستہ مفادات اپنے اپنے مفاہیم اور مطالب نکال رہے ہیں۔ لیکن افغانستان سے امریکیوں کا انخلا اور تالبان کی حکومت کی آمد ہمارے لئے ایک نیک شگون ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ناامیدی اور مایوسی سے گریز کریں۔ ان شاء اللہ: ”خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے!“اب آخر میں، میں دو ایسے ذاتی واقعات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو آج سے 50،51برس پہلے میرے ساتھ پیش آئے…… پہلا واقعہ خضدار سے وڈھ جاتے ہوئے ایک مزار کا ہے…… میری پوسٹنگ 1971ء میں جیری کَس (آزادکشمیر) سے قلات سکاؤٹس خضدار میں ہوئی۔ نئی نئی کپتانی لگائی تھی۔ میجر دلاور آفریدی یونٹ کمانڈنٹ تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ: ”یونٹ میں تمہارے علاوہ دو آفیسر اور ہیں اور ساری یونٹ میں فاٹا کے مختلف قبائل کی پلاٹونیں ہیں۔ محسود، خٹک، ملاگوری، بھٹانی، اورک زئی اور داوڑ وغیرہ…… ان سب کی زبان پشتو ہے۔ کوئی ایک سپاہی بھی ایسا نہیں جو پشتو کے علاوہ کوئی دوسری زبان جانتا ہو۔ تم جلد از جلد پشتو سیکھو۔ ہماری کمپنیاں زہری، زاوا اور وڈھ میں مقیم ہیں۔ ان کو وزٹ کرو اور کچھ دن وہاں گزارو تاکہ پشتون روایات، زبان اور ثقافت کی کچھ شُد بُد پا سکو“۔چنانچہ میں وڈھ چلا گیا جو عطا اللہ مینگل (جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے) کا آبائی علاقہ تھا۔ سردار صاحبان کے مکانوں کے علاوہ وڈھ کے باسیوں کی رہائش گاہیں قابلِ رحم حد تک خراب و خستہ تھیں۔

پاکستان کے کسی اور صوبے میں رہنے والوں کی حالت زار بلوچستان کے رہنے والوں سے نسبتاً کئی گنا بہتر تھی۔میں نے ایک دن اپنے سینئر جے سی او سے پوچھا کہ یہاں کسی اللہ والے کا مزار بھی ہے؟ اس نے کہا کہ بالکل ہے۔ اس جگہ کا نام پیر عمر ہے اور جو بزرگ اس مزار میں آسودۂ خواب ہیں، ان کا نام بھی پیر عمر تھا۔ میں نے وہاں جانے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ چنانچہ اگلے روز ہم پیر عمر چلے گئے۔ میرے ساتھ تحفظ کے لئے ایک گارڈ بھی تھی جو دو گاڑیوں پر مشتمل تھی۔ چونکہ یہ علاقہ عطاء اللہ مینگل کے زیرِ اثر تھا اور وہ ان ایام میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی تھے اس لئے امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہو گئی تھی۔ مینگل لوگ پہاڑوں سے اتر کر اپنے گھروں میں آ بسے تھے اور روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری تھی۔ہم پیر عمر پہنچے۔ ایک بڑا سا نالہ زیارت کے سامنے سے گزر رہا تھا جس کا نیلگوں شفاف پانی دامنِ نظر کھینچتا تھا۔ نالے میں ایک ایک فٹ لمبی مچھلیاں تیرتی دیکھی جا سکتی تھیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ پیر عمر کے مزار کی رکھوالی کرنے والی آبی مخلوق ہے۔ ہم جب مزار کے اندر گئے تو وہاں دو درویش آلتی پالتی مار کر بیٹھے تھے۔سبز رنگ کے چغے زیبِ تن تھے، دراز قد تھے اور ان کی موٹی موٹی آنکھیں گویا ہمارا جائزہ لینے میں محو تھیں۔ سلام دعا کے بعد میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو ایک درویش نے کہا: ”فارسی می دانی؟“……

میں نے ایک برس پہلے کراچی سے ملٹری پرشین کا ایک کورس کیا ہوا تھا۔ چنانچہ میں ان دنوں بزرگوں سے فارسی میں ہم کلام ہو گیا۔ دونوں کی عمریں 60 سال سے متجاوز تھیں۔ انہوں نے پیر عمر کی ہسٹری بیان کی اور کہا کہ اس سارے علاقے میں ان کے مرید پائے جاتے ہیں۔ ایک غلے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اس میں ہر جمعرات کو تقریباً 500روپے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ہر سال ربیع الاول کے پہلے ہفتے میں حضرت کا عرس ہوتا ہے اور سارے بلوچستان بلکہ سندھ سے بھی لوگ یہاں آتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ پھر یکایک گویا ہوئے: ”کپتان صاحب! بہت جلد عطاء اللہ مینگل کی حکومت ختم کر دی جائے گی کیونکہ وہ جب سے وزیراعلیٰ بنے ہیں، پیر عمر کے سلام کے لئے نہیں آئے۔ میں نے گزشتہ جمعرات خواب میں دیکھا ہے کہ ان کے دن پورے ہو گئے ہیں“۔میں یہ باتیں سن کر حیران ہوتا رہا اور دل میں سوچا اس قسم کی ”گپ“ مزاروں درباروں پر عام طور پر پاکستان کے دوسرے صوبوں (بالخصوص پنجاب) میں ؛لگائی جاتی ہے۔ عطا اللہ مینگل کو کون معزول کرے گا؟…… اسے تو بھٹو صاحب خود لے کر آئے ہیں!…… ان بزرگوں نے شاید میری حیرانی بھانپ لی تھی۔ کہنے لگے: ”ہمیں معلوم ہے۔ آپ کو یقین نہیں آ رہا۔ آپ کا چہرہ آپ کے اندر کی باتیں بتا رہا ہے“…… پھر کچھ دیر تک سر جھکائے دونوں بزرگ بیٹھے رہے۔ چونکہ ساری گفتگو فارسی میں ہو رہی تھی اس لئے میرے ٹروپس بالکل بے خبر تھے

کہ کیا مکالمہ تھا اور اب کیا مزید ہونے والا ہے۔ معاً ایک بزرگ نے اونچی آواز میں کہا: ”بلوچستان میں آنے والی نصف صدی میں بہت بدامنی ہو گی۔ اس میں ہمارا مینگل قبیلہ بھی شامل ہوگا۔ آپ کی فوج آج تو محض چند سو سپاہیوں پر مشتمل ہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس علاقے ہی میں نہیں، سارے بلوچستان میں ہزاروں پاکستانی فوجی ہمارے پیچھے ہوں گے۔ ان کے ساتھ ہماری بہت سی لڑائیاں ہوں گی۔ بہت کشت و خون ہوگا۔ پھر سمندر کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں چلیں گی جو اس آگ کو ٹھنڈا کر دیں گی“۔اس کے بعد اگلا واقعہ میرے قلات سکاؤٹس کے قیام کے دوران ہی کا ہے۔ یہ شاید اواخر 1972ء کا ذکر ہے۔مشرقی پاکستان کا سقوط ہو چکا تھا۔ بریگیڈیئر جہاں زیب بنگش، کوئٹہ میں فرنٹیرء کور کی سادرن یونٹوں کے DIG کے طور پر پوسٹ تھے۔ 16دسمبر 1971ء کے بعد انہوں نے اپنی جیپ پر جھنڈا اور سٹار لگانا چھوڑ دیا تھا۔ بہت غم گین رہا کرتے تھے۔ مجھے ان کی سٹاف کار میں ایک بار انہی ایام میں کوئٹہ سے نوشکی کے سفر کا موقع ملا تھا۔ اس ایک گھنٹے کے سفر میں گاڑی میں مکمل سکوت رہا۔ باہر کی ہواؤں کی آوازوں میں بھی جیسے مشرقی پاکستان میں ہماری ناکامی کی سسکیاں تھیں!…… میں 1972ء کے اواخر کا ذکر کر رہا ہوں۔ کسی سرکاری کام سے مجھے نوشکی جانا پڑا جہاں چاغی ملیشیا کے نام سے ہماری ایک یونٹ مقیم تھی۔ یہ بھی خضدار میں قلات سکاؤٹس کی طرح ون ونگ (One Wing) یونٹ تھی۔

میں خضدار سے نوشکی پہنچا تو یہ فوجی جیپ میں 5گھنٹے کا سفر تھا جو RCD ہائی وے پر طے ہوا۔ رات میس میں گزاری۔ صبح کام کاج سے جلد فارغ ہو گیا تو یونٹ کمانڈانٹ (میجر عبدالقادر) سے درخواست کی کہ مجھے نوشکی کے شمالی علاقوں میں ہرن کے شکار کی اجازت دیں۔ ہم تقریباً 12بجے دوپہر نوشکی سے شمال کی طرف روانہ ہوئے۔کئی بار ہرن دیکھا لیکن نشانہ خطا گیا۔ ہرن کا شکار آسان نہیں۔ نشانہ باندھنے اور گھوڑا دبانے کے درمیان کسی بھی لمحے غیر متوقع طور پر ہرن چوکڑیاں بھر کر ہوا ہو جاتا ہے۔ہم جس علاقے میں آ گئے تھے وہ افغانستان کے صوبہ ہلمند کا سرحدی ایریا پنچ پائی تھا۔ انگور کے باغات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ ایک باغ میں گئے تو وہاں کا مالک ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے مجھے ایک چھوٹا سا ہرن کا بچہ دیا جو فیڈر سے دودھ پیتا تھا۔ میں اسے لے کر خضدار آیا۔ تین ماہ بعد وہ ایک تنومند مادہ ہرن میں تبدیل ہو گیا۔ باغ کے مالک کے ساتھ اس کا بوڑھا والد اور چچا بھی ہمیں وردی میں دیکھ کر ملنے آ گئے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ میں فارسی سمجھتا ہوں۔ انہوں نے آپس میں گفتگو شروع کی: ”میرے دادا نے کہا تھا کہ جب تمہارے پوتے جوان ہو جائیں گے تو افغانستان اور پاکستان مل کر دشمن کو بھگا دیں گے۔ ہمارا دشمن ہمارے پڑوس میں نیم روز میں بیٹھا ہے اور ایران سے اس کو مدد مل رہی ہے“…… یہ سن کر غلطی سے میرے منہ سے بے اختیار نکلا: ”بچہ ہائے ایران دشمنانِ پاکستان ہستند؟“ (کیا ایرانی، پاکستان کے دشمن ہیں؟)…… یہ سن کر وہ دونوں بزرگ ششدر رہ گئے اور معافیاں مانگنے لگے کہ: ”آپ اگر ایران کے دوست ہیں تو ہم بھی دوست تھے…… اب شاید نہیں۔ اس کا پتہ آپ کو بھی چند برس بعد لگے گا“۔

Comments are closed.