کئی دہائیوں کی محرومیاں ختم ہونے کا وقت :

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اگرچہ افراط زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ، جو اپریل 2021 میں 11 فیصد سے زیادہ ہو چکے تھے، نے شہری صارفین کے لئے مزید مشکلات پیدا کردی تھیں، حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ دیہی آبادی کی زندگی کو مزید خوشحال بناتے ہوئے اس نے اضافی 1100 ارب روپے

پاکستان کی دیہی معیشت میں لگا دئیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب حکومت نے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ضروری اشیائے خوردونوش جیسے کہ گندم، چینی اور دالوں کے ذخائر کو یقینی بنانے کے لئے حکمت عملی اپنائی ہے۔ دیہی کسانوں نے اضافی پیداوار کے ذریعہ 1100 ارب روپے کے اضافی وسائل نیز بڑی فصلوں کی بڑھی ہوئی امدادی قیمتیں حاصل کیے ہیں۔ سرکاری عہدیدار بھی کہتے ہیں کہ مالی وسائل دیہی معیشت کی جانب موڑ دیئے گئے ہیں۔ مالی سال 2019-2020 میں57.6 کا اضافہ ریکارڈ کرتےہوئے باسمتی چاول کے کاشتکاروں نے 268 ارب روپے کی آمدنی کی جو 2017-2018 میں 170 ارب روپے تھی۔ پی ٹی آئی کی زیرقیادت حکومت کے تحت 60.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کرتے ہوئے مکئی کے کاشتکاروں نے 2019-2020 میں 45 ارب روپے کمائے جبکہ 2017-18 میں یہ 28 ارب روپے تھے ۔ 8.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کرتے ہوئے کپاس کے کاشتکاروں نے 2019-2020 میں 26 ارب روپے بنائے جبکہ 2017-2018 میں یہ 24 ارب روپے تھے۔ حکومت نے امدادی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے جیسا کہ 23.71 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کرتے ہوئے گندم کی قیمت 2017-2018 کے1206 روپے سے بڑھ کر 2019-20 میں 1492 روپے فی 40 کلو ہوگئی ۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ اس سے قبل زراعت میں وسائل کی سرمایہ کاری نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ملکی پیداوار کو فروغ دینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

Comments are closed.