کئی سال قبل لاہور کے ایک صحافی نے علامہ طاہر القادری کو چیلنج کیا تو کیا واقعہ پیش آیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے میری یاد اللہ کوئی 40 سال پر محیط ہے۔ مجھے سب سے پہلے 1981ء میں جناح ہال لاہور میں انکی تقریر سننے کا اتفاق ہوا۔ اس سے پہلے میں مرحوم شورش کاشمیری کے جوش بیان، الفاظ کی بُنت اور ادائیگی کے سلیقے پر ان کا گرویدہ ہوا تھا۔

نامور کالم نگار سعید آسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ 70 ء کی دہائی کی تحریک نظام مصطفی کے دوران پاکپتن آئے۔ جوش خطابت میں پوری رات گزار دی۔ مجال ہے کوئی ایک سامع بھی انکی محفل سے اٹھ کر گیا ہو۔ الفاظ ان پر الہام ہوتے نظر آتے تھے۔ میں اس وقت انٹر کا طالب علم تھا۔ انکے الفاظ سے الفاظ نکالنے کے سحر میں ڈوبا رہا۔ پھر انکی نثر و شاعری کی ساری کتابیں کھنگال ڈالیں۔ احسان دانش، مرزا ادیب اور پھر احمد ندیم قاسمی کی کتب کا بھی شورش ہی کے حوالے سے مطالعہ کیا۔ میری ان سے کبھی بالمشافہ ملاقات تو نہ ہو سکی مگر میں ازخود اپنے آپ کو انکے شاگردان عزیز کے درجے پر فائز کر چکا تھا۔ انکے انتقال کے وقت میں یونیورسٹی لاء کالج میں زیر تعلیم تھا، پنجاب یونیورسٹی کی گرائونڈ میں ان کی نماز جنازہ ہوئی۔ یوں محسوس ہوا لاہور کا کوئی شہری انکی نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا۔ گرائونڈ میں ہزاروں کا اجتماع اور گرائونڈ سے باہر سڑک پر بھی لوگوں کا جم غفیر ۔ یہ ان کیلئے اسلامیان پاکستان کے دلوں میں احترام کا بین ثبوت تھا۔ میں نے اسکی رپورتاژ لکھ کر چٹان میں بھجوا دی جو نمایاں طور پر شائع ہو گئی۔ غالباً میرا عملی صحافت کا آغاز بھی اسی رپورتاژ سے ہوا تھا۔ مرحوم شورش کاشمیری کے فرزندگان سے اس وقت سے استوار ہوا تعلق خاطر آج تک قائم ہے اور شورش کا وجد طاری کرنے والا وعظ آج بھی دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہے۔

میں نے 1981ء میں ڈاکٹر طاہر القادری کی تقریر سنی تو مجھے ان میں بھی شورش کاشمیری کی جھلک نظر آئی۔ اس وقت وہ اتفاق مسجد کے امام و خطیب تھے اور ایک مذہبی سکالر کے طور پر معروف ہو رہے تھے۔ میرے دل سے ان کے لیے دعا نکلی کہ انہیں زمانے کی ہوا نہ لگے اور یہ خود کو تبلیغ دین کیلئے وقف کئے رکھیں مگر انکے دماغ میں شائد سیاست کا کیڑا پرورش پا رہا تھا۔ 1986ء میں جب میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، علامہ طاہر القادری نے دھماکہ کر دیا۔ شریف فیملی پر الزامات کا طومار باندھا ، اپنے گھر پر فائرنگ کرانے کے الزامات لگائے ۔ گھر کی دیواروں پر خون کے چھینٹے بھی دکھا دئیے اور ان کیخلاف پرچہ کٹانے چل نکلے۔ غالباً انہیں کسی نے پٹی پڑھائی ہو گی کہ سٹنگ وزیر اعلیٰ کے خلاف پریس کانفرنس کرکے الزامات لگائو گے تو آپ کی سیاست کا اچھا آغاز ہو جائیگا سو انہوں نے یہ معرکہ انجام دے ڈالا۔ وزیر اعلیٰ کی درخواست پر انکے الزامات کی تحقیقات کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فضل کریم کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمشن تشکیل دے دیا گیا جس کی کوریج کے دوران علامہ صاحب سے روزانہ کی ملاقات بھی ہمارا معمول بن گیا، یہ انکوائری علامہ صاحب کیلئے بہت تلخ ثابت ہوئی اور سارے حقائق ان کیخلاف گواہی بن گئے۔ خون کے چھینٹے بھی کسی جانور کے خون کے چھینٹے ثابت ہوئے اور فاضل جج نے اپنی انکوائری رپورٹ میں علامہ صاحب کے کردار اور انکی اخلاقیات کے حوالے سے مایوسی اور افسوس کا اظہار کیا

مگر وہ تو سیاست کے میدان میں کود چکے تھے جس کیلئے انہوں نے عوامی تحریک کے نام سے پارٹی بھی بنا لی اور پھر وہ شریف فیملی کے مخالفین کے ہاتھوں میں خوب کھیلے۔ چونکہ انکی پارٹی بھی میری بیٹ میں شامل تھی اس لیے انکے ساتھ تعلق خاطر دوستی کی حدوں کو چھونے لگا، ماڈل ٹائون ان کی اقامت گاہ پر اکثر ان سے ملاقاتیں رہتیں، میں نے ان کے بارے میں اپنا پہلے دن کا تاثر انکے ساتھ شیئر کیا اور مؤدبانہ درخواست کی کہ وہ سیاست کی خاردار وادی سے خود کو باہر نکال کر ایک مبلغ دین کا فریضہ ادا کریں تو نیک نامی بھی کمائیں گے اور اپنی آخرت بھی سنوار لیں گے۔ مگر انکے دل میں جو سودا سمایا تھا وہ خاصے کا تھا سو چھٹتی نہیں ہے منہ کویہ کافر لگی ہوئی کے مصداق وہ خود کو دنیاداری والی سیاست کے اسیر بناتے چلے گئے۔ ان دنوں انکے کچھ خوابوں کے چرچے بھی ہونے لگے تھے۔ ہم نے پی ایف یو جے دستور کی ایف ای سی کا اجلاس لاہور میں بلایا ہوا تھا۔ علامہ طاہر القادری نے ایف ای سی کے ارکان کو رات کے کھانے پر مدعو کیا اور اپنے خوابوں کے تذکرے چھیڑ دئیے۔ سعود ساحر صاحب کو شرارت سوجھی، انہوں نے جیب سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور علامہ صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ اس نوٹ کوایک لاکھ روپے کی کرنسی میں تبدیل کر دیں تو میں آپ کی بزرگی کا قائل ہو جائوں گا۔ علامہ صاحب کے پاس سوائے غصے کے اظہار کے اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔

سعود ساحر صاحب نے دس روپے کے نوٹ پر انکے دستخط کرائے اور کہا کہ یہ نوٹ میں فریم کرا کے اپنے ڈرائینگ روم میں لگا دوں گا۔ علامہ صاحب اس پر خوش ہو گئے۔ اسی طرح ایک اور واقع رونما ہوا، علامہ صاحب 90 ء کی دہائی کے آغاز میں غالباً پہلی بار کینیڈا کے دورے پر گئے۔ ہمارے پیارے دوست رومان احسان بھی انکے ہمراہ تھے، واپسی پر انہوں نے اپنے چیدہ چیدہ صحافی دوستوں کے ساتھ نشست کا اہتمام کیا۔ نشست کے اختتام پر وہ اچانک اٹھ کر گھر کے اندر چلے گئے اور کچھ ہی لمحے بعد ایک پوٹلی اٹھائے واپس آ گئے۔ انہوں نے تمام صحافی دوستوں پر یوں نظر ڈالی جیسے وہ انکی تعداد گن رہے ہوں۔ پھر بڑی احتیاط کے ساتھ انہوں نے پوٹلی میں سے پرفیوم کی ایک شیشی نکالی اور ایک دوست کو دے دی اس طرح وہ باری باری سب دوستوں میں پرفیوم کی شیشی تقسیم کرتے گئے۔ جب یہ سلسلہ ختم ہوا تو انہوں نے معنی خیز لہجے میں حاضرین نشست سے مخاطب ہوئے کہا کہ یہ بھی قدرت کا معجزہ ہے۔ میں کینیڈا سے پرفیوم کی صرف چھ شیشیاں لے کر آیا تھا۔ ڈر رہا تا کہ یہ چھ شیشیاں تقسیم کروں گا تو اس سے محروم رہنے والے دوست مجھے کوسیں گے۔ میں نے اللہ کا نام لے کر تقسیم کرنا شروع کیں تو آپ سب دوستوں میں پوری ہو گئیں، اس نشست کے شرکاء کی تعداد پندرہ کے قریب تھی اور ہر ایک کے ہاتھ میں پرفیوم کی شیشی تھی۔ رومان احسان میرے پاس ہی بیٹھے تھے ، انہوں نے میرے کان میں سرگوشی کی، ’’حضرت نے میری موجودگی میں ٹورنٹو سے پرفیوم کی پچاس شیشیاں خریدی تھیں‘‘ میں نے اگلے روز علامہ صاحب کے اس ’’معجزے‘‘ کی خبر نوائے وقت میں لگا دی جس پر پروفیسر سلیم صاحب نے ’’سرراہے‘‘ کا ایک ٹکڑا بھی لکھ مارا۔ علامہ صاحب کا شکوے بھرا فون آیا ’’مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی ‘‘ بہرحال ہونی تو ہو چکی تھی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.