کاش کبھی جہانگیر ترین گروپ ہمارے ساتھ مل جاتا تو ۔۔۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناء ﷲ نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ اگر ہمارا ساتھ دیتا تو ہم اس وقت عدم اعتماد لے آتے۔ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشین جس کے پاس ہوگی اسےٹیمپرکرنےکی صلاحیت بھی ہوگی،

ہمارے خدشات کا احترام کرنا چاہئے۔ جی ڈی اے رہنما فہمیدہ مرزا نے کہا کہ وفاقی حکومت سےہمیں بہت شکوے ہیں، اصلاحات لارہےہیں توہمارےتحفظات کو بھی دور کرلیا جائے۔پروگرام کے آغاز میں میزبان نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر ٹف ٹائم دینے کا ارادہ کر لیا ہے ،میڈیا رپورٹ کے مطابق نوازشریف نے ان ہاؤس تبدیلی کے لئے گرین سگنل دے دیا نوازشریف نے مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی کو آن بورڈ لانے کا ٹاسک بھی سونپ دیا ہے ۔ پی ڈی ایم کی قیادت جو پہلے تحریک عدم اعتماد پر قائل نہیں تھی وہ اب تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کر رہی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ جب دو ہفتے پہلے شہباز شریف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے انہوں نے جواب دیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ مطلوبہ نمبر کے دستیاب ہونے پر منحصر ہوتا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ اگر ہمارا ساتھ دیتا تو ہم اس وقت عدم اعتماد لے آتے۔ پنجاب میں عدم اعتماد ہوجاتا ہے تو پھر وفاق میں چار پانچ دن کا معاملہ ہوگا۔ سینٹ چیئرمین کے خلاف مطلوبہ نمبر اس طرح سے ہیں کہ باپ کے پانچ لوگ لیڈر آف دی اپوزیشن ایلکٹ کرانے کیلئے شامل ہوئے تھے اگر وہ واقعی ہمارے خدشات کے برخلاف اپوزیشن کا حصہ بن چکے ہیں تو پھر مطلوبہ نمبر حاصل ہیں لیکن ہمیں اُن پر شک ہے کیونکہ سنجرانی کے الیکشن میں پانچوں لوگ سنجرانی کے ووٹر تھے۔

ان ہاؤس متحدہ اپوزیشن گورنمنٹ کو ٹف ٹائم دے گی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حکومت برے قوانین بنانے جارہی ہے ان کو ہم روکیں گے اور اگر مطلوبہ نمبر حاصل ہوجاتا تو عدم اعتماد لائی جائے گی۔نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان جو بات ہوئی ہے اس کی وضاحت وہی کرسکتے ہیں میرا بھی یہی کہنا ہے کہ اس پر کام ہونا چاہیے اور مطلوبہ نمبر حاصل کرنے پر تحریک لائی جانی چاہئے۔ پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سیاسی بیان دیتے تھے۔ میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ووٹنگ مشین بل ایم کیو ایم نے بنایا بل کا مسودہ فروغ نسیم نے تیار کیا اور امین الحق نے تکنیکی معاوت کی اور دونوں وزراء کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اس کے جواب میں ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ای وی ایم وزارت آئی ٹی نہیں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی پروڈکٹ ہے۔ دو تین مشینوں کی بات کی جارہی تھی ہمیں نہیں علم استعمال کون سی ہوگی اور ہمیں ٹیمپر والی بات کا کوئی جواب نہیں ملا اور ہم نے جوائنٹ سیشن ملتوی کرنے کی بات نہیں کی تھی ہم نے یہ نہیں کہا کہ حکومت نے ہمیں ای وی ایم پر عتماد میں نہیں لیا اگر حکومت کہہ دے مشین فوری استعمال نہیں ہوگی تو اس پر بات ہوسکتی ہے۔ دو باتیں ایک ریفارم بل پر نہیں ہے صرف الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہے اور ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہمیں اس پر اعتماد میں نہیں لیا گیا ہم نے کہا تھا کہ ہمیں میڈیا سے پتہ چلا کہ مشین بن رہی ہے اور ہم نے وزراء سے کہا کہ اس کی بریفنگ دی جائے شبلی فراز نے بریفنگ دی لیکن ہمارے بہت سے سوالات کا جواب ان کے پاس نہیں تھا اور ہم نے یہی کہا کہ ہم تب ہی مطمئن ہوں گے جب ان سوالات کا جواب ملے گا۔ دوبارہ بھی جب مشین دکھائی گئی تو ایک مشین کی نہیں تھی دو مشینوں کی تھی ہمیں یہ نہیں پتہ ہمیں ووٹ کس مشین کو کرنا ہے ۔ مشین سے متعلق بہت سے لوگ کنفیوژن کا شکار تھے جس میں پی ٹی آئی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

Comments are closed.