کالم نگار ایثار رانا کی ایک انوکھی اور خوبصورت تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) پبلشر چاہے جتنا شفیق ہو لیکن اس کی نظر کتاب لکھنے پر ویسی ہی ہوتی ہے جیسی قصائی کی بکرے پر وہ بھی تگڑے بکرے پر، میری کتاب بھی تکمیل کے مرحلے میں ہے۔ اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا۔ کسی دور میں بکرا عید پر ہم بکرے کو خوب سجاتے تھے۔

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مہندی لگا کر حتیٰ کہ اس کے کانوں پر پکانھے باندھ کر داتا صاحب سلام تک کرانے لے جاتے تھے۔جب ہمارے پبلشر علامہ عبدالستار عاصم نے کہا کہ کتاب میں چند نامور صحافیوں،ایڈیٹروں،تجزیہ نگاروں کے تبصرے ضرور ہونے چاہئیں تو ایسا لگا جیسے کہہ رہے ہوں بھائی جان آپ کے کانوں پکانھے باندھنا ضروری ہیں۔ سمجھ لیں ”ان ڈائریکٹلی“ انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ کتاب میری تحریر سے نہیں نامی گرامی لوگوں کے جلووں سے بکے گی۔ میں نے سوچا کون کمبخت کتاب بیچنا چاہتا ہے۔ یہاں تو ہم متاع جاں لئے پھرتے ہیں اور خریدار نہیں ملتا۔ بھلا ہم”آؤٹ ڈیٹڈ ایکسپائری“ کالم نگار کو کون خریدے گا۔ عظیم لکھاری تو بہت بھاری قیمت پر بکتے ہیں، ہم تو وہ لوگ ہیں جیسے کسی دور میں سبزی خریدنے پر ساتھ دھنیا مفت دے دیا جاتا تھا یا آپ پیزا خریدیں تو وہ ”چلی گارلیک ساشے“ آپ کو ساتھ جُھونگے میں دے دیتے ہیں۔میں علامہ عبدالستار کی بات سن کر خاموش ہو گیا۔سوچا اگر انہیں ”ساڈے تے  وی شک اے“ کہ ہم بک سکتے ہیں تو ہمارا کیا جاتا ہے، مفت میں ٹور بن رہا ہے اب مرحلہ در پیش تھا کہ کس کس سے اپنی شان میں جھوٹ لکھوایا جائے۔ ظاہر ہے بندہ گھر سے شروع کرتا ہے۔ مرّبی و مشفق استاد الاساتذہ مجیب الرحمٰن شامی میرا سب سے پہلا ٹارگٹ تھے۔ مجھے یاد آیا میری پہلی کتاب پر بھی انہوں نے اپنی قیمتی رائے لکھی تھی۔ تب وہ مجھے اتنا جانتے بھی نہیں تھے۔

بس یہی ڈر تھا کہ اب چونکہ مجھے وہ جانتے ہیں تو کیوں جھوٹ لکھیں گے اور سچ میں چھاپ نہیں سکتا۔ شعلے میں گھبر سنگھ کہتا تھا جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ میں نے کہا جب مرنا ہی ہے تو ڈرنا کیوں، لہٰذا سو جوتے کھائے بغیرسوگنڈے کھا لئے جائیں۔پھر یاد آیا میری کتاب کا فلیپ مرشدی حسن نثار صاحب نے لکھا تھا۔ حسن بھائی میرے اکلوتے عشق کی طرح ایک عرصہ سے بس خوابوں اور یادوں کا حصہ بن چکے تھے ایک عشق کو دوبارہ کرنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ وہ بھی میری فہرست میں آ گئے۔ اب سوچا جب بڑوں کی لسٹ بن رہی ہے تو عطاء الحق قاسمی جیسا مسکراتے لفظوں اور مسکراتے چہرے والے عظیم بُنت کار کو کیوں بخشا جائے، اس شہر میں جس نے قد بڑھانا ہو وہ برادرم سہیل وڑائچ کے پاس پہنچ جاتا ہے اور ان کے در سے سب کو حصہ بقدر جثہ پر شاد مل بھی جاتا ہے۔ میں صحافت میں جو بھی ہوں وہ استاد محترم ضیاء شاہد صاحب کی طفیل ہوں، سوچا پریکٹیکلی تو ان سے بہت کچھ سنا اب تحریری طور پر اپنی آتما کو شانتی بخشوا لوں۔ خواہش یہ بھی ہے کہ ٹائٹل پر اپنی انگلیوں میں کروڑوں ”ٹائم اینڈ جیری“،”پوپائے دا سیلر“اور ”پنک پینتھر“ چھپائے رکھنے والے جاوید اقبال بھائی کو کہوں۔ ویسے تو میں اپنی سب سے اچھی تصویر بھی ٹائٹل پر دوں تو یہی لگے گا جو اب جاوید اقبال بھائی نے کارٹون بنایا ہے۔چن ورگے سوہنیو، سب کچھ تیار ہے بس اب کتاب لکھنے والی رہ گئی ہے،

سنتا سنگھ ہاتھ میں پیڈل پکڑ کر جا رہا تھا۔بنتا سنگھ نے پوچھا تو بولا مجھے پیڈل ملا ہے اس میں سائیکل لگوانے جا رہا ہوں۔ بس سمجھ لیں علامہ عبدالستار نے مجھے پیڈل پکڑا دیا ہے، اب اس میں سائیکل فٹ کرنی ہے۔ یقین کریں اگر لکھنے والا اس پیڈل پر سائیکل لگوا بھی لے تو یہ وہ واحد سائیکل ہوتی ہے جس میں سب کچھ ہوتا ہے بس بیٹھنے کی گدی نہیں ہوتی۔مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں شامی صاحب نے مجھے ایک اچھے ایڈیٹر سے بدل کر ایک اچھا انسان بنایا۔ شاید اللہ کے ہاں میری صحافت میرے حق میں گواہی نہ دے لیکن ایک سدھا پدھرا صحافی جواب بن گیا ہے ضرور ہولی سولی معافی کی ریکوئسٹ کرے گا۔شکریہ شامی صاحب اور ہاں شکریہ عطاء الحق قاسمی صاحب آپ نے میرے اندر کے اخبار فروشوں سے گھنٹوں باتیں کیں مجھے آپ کی آواز سے آپ کی آنکھوں کی نمی محسوس ہوئی۔تسی واقعی وڈے بندے او میرے نفیس درویش سہیل وڑائچ کا پریم پتر بس چند دنوں میں مجھ تک پہنچنے والا ہے،مجھے شک یہ ہے کہ نامہ بر نے کہیں اپنی کمپنی نہ بدل لی ہو اور یہ پریم پتر کسی اور کے پاس پہنچ گیا ہو۔استاد محترم ضیاء شاہد کو اللہ صحت تندرستی دے، شفائے کاملہ دے انہوں نے مجھ جیسے مزدور سڑکوں پر اخبار بیچنے والے کو ایڈیٹر بنایا۔امید ہے وہ بھی اپنی صحت مند انگلیوں سے میرے لئے دل کی بات کہہ دیں گے۔شامی صاحب نے ایک بار میری تقریر سن کر کہا آپ اور حسن نثار میں ایک فرق ہے وہ بہت تعلیم یافتہ ہیں اور گہرے مطالعہ پر مبنی بات کرتے ہیں، میں نے دل میں سوچا میں نے کب خود کو سگمنڈ فرائیڈ،نطشے،افلاطون سمجھا ہے۔ جٹکا سا آدمی ہوں جو دل میں آئے لکھ اور بک دیتا ہوں۔ کہنے لگے صرف سسٹم کو کوسنے دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس کی خرابی کے اسباب اور تدارک پر بھی بات کرنی چاہئے جو حسن نثار کے پاس ہے آپ کے پاس نہیں۔ابھی حسن بھائی کے گھر سے واپس آ رہا ہوں میرے ساتھ میرے بھائیوں جیسے دوست چودھری اکرم بھی تھے۔ کئی گھنٹے حسن نثار کی باتیں سنی ہیں۔ میرے اندر کے بہت سے سوالوں کے جواب ملتے گئے، سسٹم کو دی گئی ان کی گالیوں میں اس دھرتی کے لئے چھپا درد محسوس کیا ہے، میں تو اتنا درد،اتنی کسک برداشت نہ کر سکوں،میں اتنی ریاضت کر سکتا ہوں نہ علم کی عبادت،وہ علم کا روشن مینار میں تھڑے پر جلتا بجھتا دیّا۔عنایت شاہ کے گھر سے بُلھے شاہ کی واپسی بہت تکلیف دہ تھی،کانوں میں عنایت شاہ کے خطاب کی ٹلیاں کھڑک رہی تھیں،دماغ گھوم رہا تھا،میں نے گاڑی ایک جانب کھڑی کی اور زور زور سے چیخنے لگا میں حسن نثار نہیں ہوں،میں حسن نثار نہیں ہوں۔

Comments are closed.