کالم نگار توفیق بٹ نے حیران کن بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا ِس میں کوئی شک نہیں مریم نوازشریف جنہیں ہمارے پی ٹی آئی کے کچھ مہربان اورترجمان اب مریم صفدر کہتے ہیںنے لاہورمیں پی ڈی ایم کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات ایک کیے رکھا،

نون لیگیوں کو یقین تھا یہ محنت رنگ لائے گی اور جلسہ  تقریباً اُتنا ہی بڑا ہوگا جتنا بڑا مولانا خادم حسین رضوی کا جنازہ تھا، لاہور کو نون لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، یہ گڑھ آہستہ آہستہ گڑھا بنتاجارہا ہے، لاہور میں جتنے ترقیاتی کام شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب کروائے اِس حوالے سے میں سوچ رہا تھا پی ڈی ایم کے جلسے کے لیے لاہوریوں کا جذبہ دیدنی ہوگا، میرا خیال تھا اِس جلسے میں لاہور سے باہر کے عوام نہ بھی شریک ہوں اکیلے”لاہوریے“ ہی کافی ہیں، میں شرطیں ورطیں نہیں لگاتا، مگر اِس جلسے کے لیے جتنی محنت مریم نواز نے کی، میں نے ایک دوست سے یہ شرط بھی لگالی لاہورکا جلسہ  پی ڈی ایم کے گزشتہ سارے جلسوں کو مات کردے گا، پر افسوس مریم نواز شریف کی محنتوں کا نتیجہ بھی وہی نکلا جو حکومتی معاملات میں وزیراعظم خان صاحب کی محنتوں کا نکل رہا ہے، گوکہ اس جلسے کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری پی ڈی ایم کی جماعتو ں نے مریم نواز پر ڈال دی تھی، یہ بھی ممکن ہے مریم نواز نے یہ ساری ذمہ داری خود پر اس زعم میں خود بخود ہی ڈال دی ہو کہ ”لاہور ابھی تک اُن کی ذاتی جاگیر ہے“، شریف برادران کے اِس زعم کو کہ ”لاہور اُن کی ذاتی جاگیر ہے“ پر پہلی زد 2013ءکے الیکشن میں پڑی تھی جب نواز شریف کے مقابلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا، وہ تاحیات وزیراعظم رہنے کے زعم میں مبتلا نواز شریف کو شکست تو نہیں دے سکی تھیں مگر ہزاروں ووٹ لے کر نون لیگیوں خصوصاً شریف برادران کو حیران ضرور کرگئی تھیں،

2018ءکا الیکشن بھی یاسمین راشد ہار گئی اِس کے باوجود اُنہیں شاید اُن کی اِس ”اکلوتی خصوصیت“ کی بنیاد پر خواتین کی مخصوص نشستوں پر رُکن صوبائی اسمبلی اور پھر وزیر صحت پنجاب بنا دیا گیا کہ 2013کے الیکشن میں نواز شریف کے مقابلے میں اُنہوں نے اچھے خاصے ووٹ لیے تھے…. جہاں تک 13دسمبر کو لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے کا تعلق ہے میری اطلاعات یہ ہیں یہ جلسہ شہباز شریف کی مرضی کے خلاف ہوا، اُنہیں اِس جلسے کی ”ٹائمنگ“ پر اعتراض تھا، سو نون لیگ میں شہباز شریف کی متحرک ٹیم نے اِس جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے زیادہ مو¿ثرکردار ادا نہیں کیا، شہباز لیگی رہنما تھوڑے بہت متحرک رہے بھی تو بادل نخواستہ ہی رہے، یہ درست ہے اصل ووٹ بینک نواز شریف ہی کا ہے، مگر لاہور میں جو ترقیاتی کام شہباز شریف نے کروائے، خصوصاً اُن کی انتظامی صلاحیتوں کے حوالے سے لاہور میں اُن کے چاہنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے، میرے نزدیک شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف اندر نہ ہوتے، یا وہ سیاست میں اُسی طرح فعال ہوتے جس طرح کچھ نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر مریم نواز شریف ضرورت سے کچھ زیادہ ہی فعال ہیں تو جلسے کو شاید واقعی اُتنی بڑی کامیابی مل جاتی جس کا نون لیگ نے سوچ رکھا تھا، یا کم ازکم اُتنی تو ضرور مل جاتی جتنی 2011میں مینار پاکستان میں عمران خان کے جلسے کو مِلی تھی، پر اِس کے لیے بھی لازم یہ تھا شریف برادران کے ”مہربان“ بھی وہی ہوتے جو اکتوبر 2011ءکے مینار پاکستان کے جلسے میں خان صاحب کے ”مہربان اور میزبان“ تھے،

اُن ہی مہربانوں کی وجہ سے شہباز شریف کو وقتاً فوقتاً رہائی بھی مِلتی رہتی ہے، ممکن ہے اُن ہی مہربانوں کی وجہ سے اُنہیں ایک بار پھر اقتدار بھی مِل جائے، بلکہ پہلے سے بڑااقتدار مِل جائے،….میں کچھ لوگوں کی اِس بات سے رتی برابر اتفاق نہیں کرتا کہ نون لیگ اب کبھی اقتدار میں نہیں آئے گی، 1999میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا گلاگھونٹا، وہ کچھ عرصہ قید میں رہنے کے بعد باقاعدہ ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب چلے گئے، ڈیل (معاہدے) کی ایک شق یہ بھی تھی وہ دس برسوں تک سیاست سے الگ تھلگ رہیں گے ۔اِس ڈیل کے بعد بے شمار لوگ اس یقین میں مبتلا ہوگئے تھے شریف خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اقتدار سے باہر ہوگیا ہے، پھر لوگوں نے دیکھا جنرل مشرف کی بہت سی حماقتوں اور کمزوریوں کی وجہ سے وہ پھراقتدار میں آگئے، وہ اب بھی اقتدارمیں آسکتے ہیں اور اِس بار اِس کا کریڈٹ خیر سے خان صاحب کو جائے گا، جس جس طرح کی حماقتیں وہ مسلسل کرتے جارہے ہیں اِس خاندان کے پھر سے اقتدار میں آنے کے چانسز بڑھتے جارہے ہیں، خان صاحب کی سب سے بڑی حماقت یہ ہے وہ ابھی تک خود کو اقتدار سے الگ سمجھ رہے ہیں، اُن کا کردار اب بھی وزیراعظم سے زیادہ ایک ”اپوزیشن لیڈر“ کا ہے۔ ایسا ”اپوزیشن لیڈر“ جو یہ سمجھتا ہے عوام کے سارے مسائل حکومت نے ہی حل کرنے ہیں، خان صاحب شاید یہ سمجھ رہے ہیں عوام کے سارے مسائل ”اپوزیشن“نے حل

کرنے ہیں، وہ ابھی تک یہی ”تصور جاناں“ کیے بیٹھے ہیں وہ وزیراعظم نہیں ہیں۔ جب تک وہ اپنے اِس ”تصور“ سے نکل کر انتہائی جارحانہ انداز میں عوام کے مسائل حل نہیں کریں گے، عوام کو ریلیف نہیں دیں گے، عوام کی تکالیف کو ختم یا کم کرنے کی عملی کوششیں نہیں کریں گے، کچھ اندرونی وبیرونی قوتوں کے سفارشیوں سے نجات حاصل کرکے اپنی مرضی سے اپنی ٹیم نہیں بنائیں گے اور اِس ٹیم کی کارکردگی محض اپوزیشن کو گالیاں دینے یا اُس کے ساتھ بدزبانی کرنے کو ہی سمجھتے رہیں گے، تب تک بے روزگاری، مہنگائی، چوری مالی بدعنوانی اور دیگر ایسے عذابوں سے عوام کو نجات دلانے کے وہ صرف نعرے ہی بلند کرسکیں گے، یا جھوٹے دعوے ہی کرسکیں گے، عملی طورپر وہ الیکشن سے پہلے عوام کو دکھائے جانے والے خوابوں تعبیر نہیں دے سکیں گے۔ لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ  اگر بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکا تو اِس کا کریڈٹ خان صاحب کو نہیں جاتا، نہ ہی اُنہیں اِس زعم میں مبتلا ہونا چاہیے کہ یہ جلسہ  اُن کی حکومت کی کسی اعلیٰ کارکردگی کے نتیجے میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ اپنی اور اپنی ٹیم کی کارکردگی سے وہ اچھی طرح واقف نہیں تو عام لوگوں اور کارکنوں سے اپنے رابطے دوبارہ بحال یا قائم کرکے وہ دیکھ لیں، ساری حقیقت کھل کر اُن کے سامنے آجائے گی، ہم بارہا اُن کی خدمت میں عرض کررہے تھے اپنی ٹیم تبدیل کریں، ….جسے اپنا چپڑاسی نہیں رکھنا تھا اُسے وزیر داخلہ بناکر

اپنی ٹیم جس انداز میں اُنہوں نے تبدیل کی اُس کے نتیجے میں خرابیاں کم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں گی، ہم نے تو یہ بھی سنا ہے شیخ رشید کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کا سوچا جارہا تھا۔ ایسی صورت میں بزدار صاحب ہمیں اچھے لگنے لگتے، ریلوے کی وزارت جسے دی گئی وہ بھی صرف خان صاحب کی نظر میں ہی اُس کا اہل ہے…. اب بھی وقت ہے خان صاحب کو چاہیے اہم اور حساس وزارتوں کے لیے وہ پی ٹی آئی کے اہل واصل چہرے سامنے لے کر آئیں، پنڈی والوں کی خصوصی مہربانی سے جیتی ہوئی صرف ایک سیٹ والے شخص کو وزیر داخلہ اگر اُنہوں نے واقعی اپنی مرضی سے بنایا ہے، یا اس ضمن میں کسی کی مرضی کے سامنے وہ رکاوٹ نہیں بن سکے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے، ….حالات اگر یہی رہے تو ضروری نہیں پی ڈی ایم کو آگے چل کر بھی ویسی ہی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے جیسی ناکامی کا سامنا لاہور کے جلسے کے حوالے سے کرنا پڑا۔ خان صاحب کے اقتدار کا آدھا عرصہ ابھی باقی ہے، ہماری اُمید بھی آدھی ابھی باقی ہے، وفاقی کابینہ میں جیسے جیسے لوٹوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ہماری اُمید گھٹتی جارہی ہے، …. یہ لوٹے ہی ہیں جن کی وجہ سے پورے وثوق سے ہم نہیں کہہ سکتے کہ نون لیگ یا پیپلزپارٹی پھر سے اقتدار میں نہیں آئیں گے۔ دوسری طرف المیہ یہ ہے خان صاحب کا اقتدار بھی اِن ہی لوٹوں کی وجہ سے قائم ہے۔ بندہ کرے تے کرے کی؟؟؟

Sharing is caring!

Comments are closed.