کالم نگار حفیظ اللہ نیازی کا برملا اعتراف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور وزیراعظم عمران خان کے چچا زاد بھائی حفیظ اللہ نیازی اپنے ایک کالم میں انکشاف کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں عمران کے لیے سینہ سپر، میڈیا کو اپنے طور اپنے تئیں ہینڈل کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔ میرے مزاج کے مطابق عمران خان کے حق

میں اور (ن)لیگ کے خلاف کوئی کالم جچتا نہ تھا۔ سوچ بچار کرکے سعید اظہر سے رابطہ کیا۔ گزارش کی کہ آپ اس دفتر کا حصہ ہو اور میرے مطابق کالم کا مواد دینا میری جبکہ لکھنا جناب کی ذمہ داری رہے گی، اشاعت کے لیے مل جل کر کوشش کریں گے۔برادرم پرویز رشید کا عمران خان کے خلاف تفصیلی کالم انہی دنوں ایک اخبار کی زینت بنا، چنانچہ پرویز رشید کو جواب دینا پہلی ترجیح ٹھہرا، دو گھنٹے کے اندر سعید نے تفصیلی مضمون لکھ کر ترکی بہ ترکی جواب تیار کیا۔ اگرچہ کالم مناسب، میرے مزاج کو نہ بھایا۔بےتکلفی کا استعمال کرتے ہوئے میں نے کالم پھاڑ کر کوڑا دان کے حوالے کیا۔ سعید بھنا گئے، ’’میری دو گھنٹے کی محنت کی توہین کی ہے‘‘۔ ہنستے ہوئے گزارش کی کہ آپ اس طرح لکھیں۔ پٹھانی جلال عروج پر، ’’خود لکھو، لگ پتا جائے گا، کتنا کٹھن اور دماغی کام ہے‘‘۔تنگ آمد بجنگ آمد، جو کام سعید دو گھنٹوں میں کرکے لائے، مجھے وہ کالم بعد ازاں (تین قسطوں میں شائع ہوا) لکھنے کے لیے دو تین دن لگے۔ کالم تیار ہوا تو سعید کی میز پر رکھا۔ 20منٹ کے بعد آئے اور استفسار کہ ’’یہ کالم جناب نے خود لکھا؟‘‘۔ ظاہر ہے وہ جانتے تھے کہ ساتھ والے کمرے میں انکا دفتر تھا اور درجنوں دفعہ کالم کمپوز ہوتا رہا۔سعید نے آنکھیں ملیں اور میری تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالے۔ ’’ایک نیا کالم نگار جنم لے چکا ہے، جس کا اسلوب اور بیان موجودہ سب کالم نگاروں سے مختلف ہے‘‘۔یقیناً دوست ہونے کے ناطے سعید نے مبالغہ آرائی میں بخل نہ دکھایا۔ غرضیکہ کالم برادرم سہیل وڑائچ کی وساطت سے اخبار میں چھپ گیا۔ اس کالم کے بعد سہیل وڑائچ اور سعید دونوں نے حوصلہ افزائی کی، یوں میں بھی کالم نگار بن گیا۔سعید اظہر اپنی ذات میں پوری انجمن، ایک ادارہ تھا۔ یقین جانیے موت کے بعد احساس ہوا کہ ہم اسکی وہ قدر نہ کر سکے جو اسکا حق تھا۔ آج دوست کا نوحہ لکھنے بیٹھا ہوں تو اعصاب جواب دے رہے ہیں۔سمجھ کوسوں دور، دماغ مطلوبہ استطاعت سے محروم۔ سعید اظہر کیلئے ایک بےربط گریہ زاری، اپنی کم مائیگی کا احساس اُبھر کے سامنے آیا کہ سعید اظہر پر تحریر میں انصاف نہ ہو سکا۔ اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ دے(آمین)

Sharing is caring!

Comments are closed.