کالم نگار مظہر عباس نے مولانا کے والد کا واقعہ بیان کرکے اصل کہانی پاکستانیوں کے سامنے رکھ دی

لاہور (ویب ڈیسک) اپوزیشن الائنس کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا صدر مولانا فضل الرحمان کو بنانے کی ایک سے زائد وجوہات ہیں تاکہ وہ دو سال میں پہلی متحدہ حکومت مخالف تحریک کی قیادت کریں۔ حالاں کہ پی ڈی ایم کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار پنجاب پر

ہوگا جو کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا گڑھ ہے وہ کس طرح کا ردعمل دیتا ہے۔نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بالخصوص ان کے نا صرف وزیراعظم بلکہ طاقتور حلقوں کے خلاف جارحانہ طرز عمل کے باعث یہ اہمیت کا حامل ہے۔مولانا دین پوری کے برعکس جو کہ تین سال قبل مولانا فضل الرحمان کی جگہ جے یو آئی (ف) کے امیر منتخب ہوئے تھے۔ انہیں جماعت میں اصلاح پسند سمجھا جاتا تھا۔ ان کی مذہبی اور سیاسی امور پر بھی اچھی گرفت تھی۔ انہیں جے یو آئی کا ایک سخت مزاج رہنما بھی سمجھا جاتا تھا۔ جے یو آئی (ف) کا خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں اچھا اثرورسوخ ہے۔ جب کہ سندھ بشمول کراچی میں بھی ان کی بڑی تعداد موجود ہے۔دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی کے بعد یہ دوسری بڑی جماعت تصور کی جاتی ہے۔ تاہم، 2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں اسے پی ٹی آئی کے خلاف شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان خود بھی گزشتہ عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئے۔ وہ اسے دھاندلی قراردیتے ہوئے مسلسل دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتےرہے ہیں۔ ان کے والد مولانا مفتی محمود نے ستر کی دہائی میں سیکولر جماعت نیشنل عوامی پارٹی نیپ کے ساتھ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں اتحاد کیا تھا۔مولانا فضل الرحمان سیاسی طور پر اس وقت منظر عام پر آئے جب 1983 کی ایم آر ڈی تحریک میں انہیں قید میں ڈالا گیا۔ مرحوم مفتی محمود نے بھٹو کے خلاف بھی 1977 میں پی این اے کی قیادت کی تھی اور 90 روز کے اندر انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کے دو یا تین رہنما جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ میں بھی شامل ہوگئے تھے۔ تاہم، قاری شیر افضل جو کہ جے یو آئی کے سابق نائب امیر تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے انہیں نکال دیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے فیصلہ امیر کی غیرحاضری میں کیا تھا جنہوں نے بعدازاں اس کی توثیق کردی تھی۔ مفتی محمود کی وفات کے بعد جے یو آئی نے اہم فیصلہ کیا، جب 1988 میں بےنظیر کی قیادت میں پیپلزپارٹی نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور کچھ مذہبی جماعتوں نے ایک خاتون کو بطوروزیراعظم قبول کرنے پر اعتراض کیا۔ 1960 کی دہائی میں مفتی محمود نے بھی فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی مخالفت کی تھی۔تاہم، 1988 میں جے یو آئی نے اس سے مختلف موقف اختیار کیا اور بےنظیر بھٹو کی حمایت کی۔ گزشتہ 10سال کے دوران جے یو آئی (ف) کو خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے ہاتھوں سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن مولانا فضل الرحمان نے ہمت نہیں ہاری ہے اور وہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد سے سڑکوں پر ہیں۔ ابتدائی طور پر وہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست سے افسردہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پی ڈی ایم نے مولانا فضل الرحمان کو اپنے الائنس کا سربراہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا تو تمام جماعتوں نے اسے سراہا۔ جے یو آئی کچھ ماہ قبل اسلام آباد میں دھرنا دے چکی ہے۔مولانا نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت کو کہہ رکھا ہے

کہ وہ صرف انہیں سامنا لانا چاہتے ہیں باقی سب وہ خود کریں گے۔ انہیں اب سابق وزیراعظم نوازشریف کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔اپوزیشن جماعتیں بالآخر معاہدہ کرکے الائنس بناچکی ہیں اور ایکشن پلان کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے کوئی بڑا خطرہ نا ہونے کے باوجود غیرضروری ردعمل کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم نے اپنے کئی اہم رہنمائوں کو نوازشریف اور مریم نواز کا تدارک کرنے کی ذمہ داریاں دے دی ہیں۔ اسی لیے ان کی توجہ نا ہی مولانا پر ہے اور نا ہی پیپلز پارٹی پر بلکہ شریف خاندان پر ہے۔ وہ اب نوازشریف کے خلاف بھارت کارڈ کا استعمال کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم کو اعتماد ہے کہ شریف خاندان کا مستقبل عدالتوں کے ذریعے مخدوش ہوجائے گا اور وہ کئی ماہ تک مقابلے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ ن لیگ سے شریف خاندان کے انخلا کے بعد سراٹھانے کے قابل نہیں رہے گی۔ اس حوالے سے وہ دو سال کے دوران ناکام ہی رہے ہیں۔ ان پر پابندی کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔پیمرا کی جانب سے ان کی تقریریں دکھانے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی ہے کہ ان پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کی سربراہی کے لیے مولانا فضل الرحمان ہی سب سے موزوں شخصیت ہیں۔ شاید یہ واحد اپوزیشن جماعت بھی ہے جو اس وقت سب سے زیادہ متحرک اور پرجوش کارکنان کی حامل ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *