کالم نگار مظہر عباس کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اس الیکشن میں بھی کہیں تحریک انصاف، ایم کیو ایم یا جی ڈی اے کو جھٹکا لگتا ہے تو اسے پی پی پی کی کامیابی تو کہا جاسکتا ہے مگر سیاست اور جمہوریت کی ناکامی ہوگی۔

ایسے ہی اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو اپنی تعداد سے کم اور PTIاور اتحادیوں کو اس تناسب سے زیادہ سیٹیں ملتی ہیں تو بھی ایسا ہی ہوگا۔ دوسری جگہ بھی معاملہ مختلف نہیں۔ 2018 میں سینیٹ کے الیکشن کے وقت جب سندھ کے وزیروں کی گاڑی میں متحدہ کی خواتین رکن اسمبلی کو آتے دیکھا تو مجھے لگا کہ جمہوریت اور سیاست اس ’’چوری والی ٹرالی‘‘ کی نذر ہوگئیں۔میں یہ کالم لکھتے ہوئے صرف یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کبھی یہ ’’ٹرالی‘‘ رکے گی۔ ایک بار بریگیڈئیر (ر) امتیاز نے انٹرویو میں بتایا کہ وہ پچاس لاکھ روپے لے کر بانی متحدہ کے پاس گئے تھے مگر انہوں نے انکار کردیا۔ مگر سوال تو یہ تھا کہ وہ یہ رقم لے کر گئے کیوں تھے اور یہ پیسہ آیا کہاں سے۔اب ان کی یہ بات کسی حد تک درست ہے کیونکہ جنرل (ر) حمید گل مرحوم نے مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے ان کو صرف 1988 میں پیغام دے کر بھیجا تھا کہ میتیں اور بھتہ بند کیا جائے۔بدعنوانی کی اس ٹرالی نے جو کبھی نہیں رکی جمہوریت کی بساط لپیٹ دی ہے۔ چاہےاب اسے آپ تیزاب میں ڈالیں یہ ٹرالی نہیں رکے گی۔

Comments are closed.