کانسٹیبل سے ایس پی اور پھر پی ایچ ڈی تک کا سفر ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی ثنا آصف ڈار بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔گھنی سفید داڑھی، آنکھوں پر نظر کا چشمہ۔۔۔ ایک ہاتھ میں سہارے کے لیے پکڑی چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں کتاب۔۔۔کسی یونیورسٹی میں اس ظاہری وضع قطع کے بزرگ کو دیکھ کر آپ یقیناً یہ ہی سمجھیں گے

کہ یہ کوئی پروفیسر ہیں جو شاید اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ یہ بات تو شاید آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گی کہ یہ کوئی طالب علم بھی ہو سکتا ہے۔کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے بیبت خان حلیمی کی تعلیم سے بے پناہ محبت ہی وہ واحد وجہ ہے جس کی بدولت انھوں نے وہ کر دکھایا جو شاید پاکستان میں آج تک کوئی نہ کر سکا۔ہیبت خان حلیمی نے حال ہی میں 80 برس کی عمر میں بلوچستان یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔گذشتہ ہفتے بلوچستان یونیورسٹی کے 18ویں کانووکیشن میں جب ہیبت خان حلیمی اپنی ڈگری لینے کے لیے سٹیج پر آئے تو نہ صرف ہال تالیوں سے گونج اٹھا بلکہ ہال میں موجود بیشتر شرکا اور استاد اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انھیں خراج تحسین پیش کیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہیبت خان حلیمی نے بتایا کہ جب انھوں نے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا تو ان کے اہلخانہ کو لگا کہ ایسا کرنا مشکل ہو سکتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ علم سے محبت ان کی محبت اور لگن ہی تھی کہ انھوں نے ایسا کر دکھایا۔ہیبت خان حلیمی کا انٹرویو کرتے ہوئے مجھے ایک بات کا تو بخوبی اندازہ ہوا کہ اس عمر میں بھی وہ کمال تیز حافظے کے مالک ہیں۔ کئی اہم تاریخیں اور برسوں پہلے رونما ہونے والے واقعات ان کی یادداشت میں ایسے ہی محفوظ اور تازہ ہیں جیسے یہ کوئی کل کی ہی بات ہو۔

ہیبت خان سنہ 1965 میں کوئٹہ کی ریلوے پولیس میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی جاری تھی۔ بھرتی کے بعد ہیبت خان کو کراچی بھیجا گیا جہاں ٹرانزٹ کیمپ میں ان کو تعینات کیا گیا۔جنگ کے بعد ہیبت خان واپس کوئٹہ آ گئے اور پھر ان کا تبادلہ ضلع کچھی میں ہوا جہاں ایک برس تین ماہ کی سروس کے بعد ہیبت خان ہیڈ کانسٹیبل اور پھر سنہ 1973 میں اے ایس آئی بن گئے۔ہیبت خان بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں قلعہ سیف اللہ کے ایک ڈاک خانے میں ایک واقعہ ہوا تھا جس کی تفتیش ریلوے پولیس کر رہی تھی اور اس کی ذمہ داری ہیبت خان حلیمی کے سپرد کی گئی۔’ہم نے تفتیش کے دوران دو مشتبہ افراد پکڑے جن کی نشاندہی پر قلعہ سیف اللہ سے مزید ہتھیار برآمد کیے گئے۔‘اس مقدمے کی بہترین تفتیش پر اس وقت کے بلوچستان کے آئی جی پولیس نے ہیبت خان کو سب انسپیکٹر کے عہدے پر پروموٹ کر دیا۔ جس کے بعد ہیبت خان کرائم برانچ میں تعینات رہے اور اس دوران انھوں نے کئی اہم مقدمات کی تفتیش کی اور پھر ایک کورس کے بعد انسپیکٹر کے عہدے پر فائز ہو گئے۔لیکن اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کو بخوبی طور پر سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ ہیبت خان میں تعلیم حاصل کرنے کی جستجو بھی موجود رہی۔پولیس میں دس برس کی ملازمت مکمل کرنے بعد سنہ 1976 میں انھوں نے ساتھ اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔ انھوں نے پہلے میٹرک اور پھر ایف اے کیا ،

جس کے دو سال بعد انھوں نے بی اے مکمل کر لیا۔ہیبت خان نے بی اے کے بعد ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے بھی کیا اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔سنہ 2004-05 میں ہیبت خان کوئٹہ کی سریاب روڈ پر پولیس کالج میں بطور چیف لائن سیکٹر تعینات تھے جہاں پولیس اہلکاروں کو مختلف تربیتی کورس کروائے جاتے تھے، جن میں کریمنالوجی کا ایک مضمون بھی شامل تھا۔ہیبت خان کلیمی کے کمانڈنٹ سید سلیمان نے انھیں پولیس انسپیکٹرز کے لیے کریمنالوجی کے لیکچر تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی، جسے ہیبت خان نے اپنے دیگر فرائض کی طرح ایسے کمال انداز میں نبھایا کہ کمانڈنٹ سید سلیمان نے ان لیکچرز کو کتابی شکل دینے کا مشورہ دیا۔وہ بتاتے ہیں کہ اپنے تمام مضامین کا مسودہ وہ اس وقت کے بلوچستان یونیورسٹی کے چانسلر اور گورنر اویس غنی اور وائس چانسلر غلام محمد تاج کے پاس لے کر گئے۔پندرہ بیس دن بعد وائس چانسلر غلام محمد تاج نے ہیبت خان کو واپس بلایا اور انھیں شعبہ کریمنالوجی میں ٹیچنگ کرنے کی پیشکش کی۔ہیبت خان نے بتایا کہ چونکہ انھیں ٹیچنگ کا تجربہ نہیں تھا تو انھوں نے اپنے دوستوں کو جب اس آفر کے بارے میں بتایا تو انھوں نے ہیبت خان کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ خود ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کا مشورہ بھی دیا۔سنہ 2006 میں ریٹائرمنٹ کے بعد ہیبت خان نے بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھانا اور اس کے ساتھ ساتھ خود ایم فل کرنا بھی شروع کر دیا۔

سنہ 2011 میں ہیبت خان نے ایم فل کی ڈگری حاصل کی اور پھر سنہ 2014 میں انھوں نے اپنی پی ایچ ڈی شروع کی۔لیکن ایسا نہیں کہ ہیبت خان نے صرف اپنی ہی تعلیم پر توجہ دی ہو بلکہ انھوں نے اپنے بچوں کی پڑھائی پر بھی خصوصی توجہ دی۔ہیبت خان کے سات بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں جو سب تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے ایک بیٹے علی احمد حلیمی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں ایگزیکٹیو انجینئیر ہیں، جنھوں نے اپنے ایم بی اے میں سلور میڈل لیا تھا۔ ہیبت خان کی ایک بیٹی نے سردار بہادر خان یونیورسٹی کوئٹہ سے اپنے شعبے میں گولڈ میڈل حاصل کر رکھا ہے۔ہیبت خان کے بیٹے علی احمد حلیمی نے بتایا کہ ان کے والد نے تعلیم کے معاملے پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔’مجھے یاد ہے کہ جب میں دوسری یا تیسری جماعت میں تھا تو میں سکول سے سیدھا اپنے والد کے پاس کرائم برانچ جاتا تھا۔ وہ ہمیں برآمدے میں بٹھا کر وہاں پڑھایا کرتے تھے۔ میٹرک تک ہمارے لیے کوئی ٹیوٹر نہیں تھا بلکہ ہمارے والد صاحب ہمیں خود پڑھاتے تھے۔‘اور صرف یہی نہیں بلکہ ہیبت خان اب اپنے پوتے پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی توجہ دیتے ہیں۔علی احمد حلیمی نے بتایا کہ جب ان کی چھوٹی بیٹی کا ’کے جی ون‘ کا رزلٹ آیا تو ٹوٹل مارکس میں سے اس کے صرف 0.5 فیصد نمبر کم تھے۔’وہ اپنی ٹیچر کے پاس چلی گئی کہ مجھے بتائیں کہ میرے نمبر کم کیوں آئے کیونکہ میرے دادا اس بارے میں مجھ سے ضرور پوچھیں گے۔‘علی احمد نے ہمیں بتایا کہ انسان کو اپنی ڈگری ملنے پر تو خوشی ہوتی ہی ہے لیکن جب اس عمر میں ان کے والد کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی تو جو خوشی ہوئی اسے بیان کرنا مشکل ہے۔’ہمارے بچوں نے دیکھا کہ ان کے دادا ابو نے اس عمر میں ڈگری لی۔ ہمارے گھر میں خوشی کا سماں تھا۔‘ہیبت خان حلیمی کا ماننا ہے کہ اس دنیا میں انسانیت کا سبق سیکھنے کے لیے علم کا ہونا بہت ضروری ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’خود کو پہچاننے کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے۔ مجھے اسی لیے شوق پیدا ہوا کہ اگر میں نے کسی کے کام آنا ہے، کسی کی خدمت کرنی ہے یا کوئی بھلائی کا کام کرنا ہے تو پہلے مجھے علم حاصل کرنا ہو گا۔‘

Comments are closed.