کان پک گئے یہ سن سن کر ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہمارے کان تھک گئے ہیں یہ سن سن کرکہ وزیراعظم عمران خان بڑے نیک اور پارسا ہیں، دیانت داری کے ریکارڈ اُنہوں نے قائم کئے ہیں، بدعنوانی اِن کے نزدیک سے نہیں گزری۔ سابق حکمرانوں سے اِس لحاظ سے مختلف ہیں۔

مان لیا یہ سب کچھ درست ہوگا لیکن اسلام آباد میں زمین اورپلاٹوں کے نام پہ فنکاری اُنہیں نظرنہیں آتی؟ اُنہوں نے کبھی مذکورہ ہاؤسنگ اتھارٹی کا نام نہیں سنا؟ اُنہیں نہیں معلوم کہ فیڈرل سیکرٹریوں کو دو دو پلاٹ ملتے ہیں؟ لینڈ ایکوائزیشن ایکٹ کا ذکراُن کے کانوں میں کبھی نہیں پڑا؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکومت کے کام ہونے چاہئیں۔ قانون کے سہارے فنکاری ہورہی ہو تو وزیراعظم اور حکومت کو ایکشن میں آنا چاہئے‘ لیکن یہاں سب نے آنکھوں پہ پٹیاں باندھی ہوئی ہیں اور جہاں تک دماغوں کا تعلق ہے اُن پہ تو باقاعدہ تالے لگے ہوئے ہیں۔ اتھارٹی آپ کے پاس ہے، حکم آپ دے سکتے ہیں، سب کچھ آپ کے سامنے ہو رہا ہے لیکن آپ ہیں کہ عقلیں بھی بند اور ہاتھ پاؤں بھی بندھے ہوئے۔ بس تقریریں کرنا ہے اور وہ بھی روزمرہ کی بنیاد پہ۔ کوئی دن نہیں گزرتا کہ افلاطون بننے کی کوشش نہ ہو رہی ہو۔ بولنا اور فیتے کاٹنا۔ یہی کام رہ گیا ہے۔خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک نئے دارالحکومت کی جھک مارنی ہی تھی تو ایک مثالی شہر بنتا اور اِس شہر کی ترقی کے حوالے سے ایسے قوانین بنتے کہ اُنہیں کوئی توڑ یا مروڑ نہ سکتا‘ لیکن اب جاکے اسلام آباد کی حالت دیکھ لیں، پھیلتا جا رہا ہے، آبادی حد سے گزر چکی ہے، ٹریفک کا رش ایسا ہے کہ اسلام آباد داخل ہوتے ہی ٹرانسپورٹ کی بھیڑ میں انسان پھنس جاتا ہے۔ اندازہ لگائیے کہ جسے ہم سالڈ ویسٹ یعنی پکا فضلہ کہتے ہیں اِسے تلف کرنے کا کوئی نظام اِس دارالحکومت میں نہیں ہے۔ گندگی اکٹھی کی جاتی ہے اور کسی کونے میں پھینک دی جاتی ہے۔ وہ جگہ بھر جائے تو کوئی دوسری جگہ گندگی کے ڈھیر اکٹھے کرلئے جاتے ہیں۔ میونسپل بس سروس اِس دارالحکومت میں کوئی نہیں۔ شریفوں نے بے بہا دولت لٹا کے ایک میٹروبس سروس بنائی ضرور لیکن شہر کے ایک حصے کو وہ کور کرتی ہے۔ شریفوں کو بس نمائش سے سروکارتھا، دولت کتنی برباد ہو رہی ہے اِن کی پسندیدہ نمائشوں کیلئے اُس کی اِنہیں کوئی پروا نہ تھی۔ لاہور میں بھی انہوں نے یہی کچھ کیا۔ اِن سے کوئی پوچھے کہ لاہور کی کوئی اور ضرورت نہیں تھی کہ آپ نے سب کچھ ایک اورنج لائن ٹرین پہ برباد کر دیا؟بس ایسی ہی ہماری قومی کہانی ہے، ایک سے ایک نہلا آتا ہے اور اپنی بربادی اور بیوقوفی کا حصہ کرکے چلا جاتا ہے۔ بس شکر اِسی بات کا کرنا چاہئے کہ کبھی کبھی اندھیرے میں کچھ روشنی کی کرن بھی نظر آجاتی ہے۔ مذکورہ فیصلے کو روشنی کی کرن ہی سمجھنا چاہئے۔ اِسے دیکھتے ہوئے خدا اوروںکی بھی ہمت بڑھائے کہ لینڈ گروپ کو اِس ملک میں کچھ تو لگام لگے۔

Comments are closed.