کباڑ کی حیثیت رکھنے والے ڈرون کی پاکستان میں تیاری سے کیا خاک انقلاب آئے گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جب میری نظر سے ”ڈرون کے خاموش انقلاب“والی خبر گزری تو حیرانی ہوئی اور ساتھ ہی خوشی بھی کہ چلو پاکستان میں بھی کوئی ایسا ڈرون بنایا جا رہا ہے جو مغربی ڈرون ٹیکنالوجی سے کوسوں آگے ہے……

لیکن میں پڑھتا گیا اور مایوس ہوتا گیا کہ میری نظر میں اس طول طویل آرٹیکل میں کسی خاموش انقلاب کا نام و نشان نہ تھا۔پاکستان نے اگر ڈرون ٹیکنالوجی میں ہی کوئی خاموش انقلاب برپا کرنا ہے تو چشمِ ماروشن، دلِ ما شاد۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ غیر ممالک نے جس سویلین ڈرون ٹیکنالوجی کو ایک عشرہ پہلے پاؤں تلے روند دیا تھا، ہم پاکستانی اس کی ابتداء پر نازاں ہیں۔ اگر آج کوئی ڈرون ہمارا کوئی سودا سلف بازار سے لا کر ہمارے لان میں یا ہماری چھت پر پہنچا دیتا ہے تو یہ کیسا خاموش انقلاب سے جس کو ہم برآمد کرکے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں؟بالعموم انگریزی اخباروں کے قارئین کی مبلغِ ذہانت کو ان قارئین سے زیادہ سمجھا جاتا ہے جو محض اردو جانتے اور سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر انگریزی کے قارئین کو ”خاموش ڈرون انقلاب“ کی خبر دے کر آپ اخبار کے صفحات اور قارئین کا وقت ضائع کریں گے تو اس کا فائدہ؟جن ”فوائد“ کی خوش خبری اس مضمون میں دی گئی ہے وہ تو آج سے کئی برس پہلے آزمائے جا چکے ہیں اور ان کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ کئی ممالک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان ڈرونوں کے استعمال کو خطرناک قرار دے کر اپنے ہاں ان کی پروڈکشن بند کر دی ہے۔ نجانے ہم ان کو کن اغراض کے لئے استعمال کریں گے۔ اگر کسی دکان سے دوائی یا ڈبل روٹی یا پِزّہ لانے کا کام ڈرون نے انجام دینا ہے تو یہ کام تو قبل ازیں سارے دوائی فروش، ڈبل روٹی فروش اور پِزّہ فروش انجام دے رہے ہیں۔ ان کے موٹرسائیکل سڑکوں پر سفر کرکے آتے اور مطلوبہ اشیاء ہمارے حوالے کرکے چلے جاتے ہیں۔ اگر یہی کام کسی کمتر سکیل پر کوئی ڈرون انجام دیتا ہے تو اس سے کون سا ”خاموش انقلاب“ آ جائے گا؟…… خدارا سوچا کریں اور انگریزی اخبار کے قارئین کو اتنا بے خبر بھی نہ جانا کریں کہ وہ اس طرح کے انقلابوں سے مرعوب ہو کر یہ تین جہازی صفحات پڑھنے میں وقت کا ضیاع برداشت کیا کریں گے؟