کراچی کی لڑکی اور لاہور کے لونڈوں کے درمیان مک مکا ہو گیا ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) تھانہ شمالی چھاؤنی میں کراچی کی رہائشی لڑکی نے لاہور کے 3نوجوان کے خلاف غلط کاری کا مقدمہ درج کرایا تھا ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لے لیا، مگر بعد ازاں لڑکی اپنے ساتھ کسی غلط کام ہونے کے بیان سے منحرف ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی رومیسا نے

تھانہ شمالی چھاؤنی میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ لاہور کے نوجوان حارث نے پب جی گیم کے ذریعے اس سے دوستی کی اور اس نے نکاح کرنے کے لیے مجھے لاہور بلالیا۔ جب وہ لاہور پہنچی تو حارث اسے ایک ہوٹل میں لے جاکر غلط فعل کا نشانہ بناتا رہا اور میرے شادی کرنے کے اصرار پر مجھے لاہور ریلوے سٹیشن چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ ریلوے سٹیشن پر دلبرداشتہ ہو کر بیٹھی تھی کہ دو نوجوان حسن اور وحید اسے نوکری لگوانے کا جھانسہ دے کرکار میں بٹھا کر سرور روڈ کے ایک ہوٹل میں لے گئے اور انہوں نے اسے غلط کاری کا نشانہ بنایا۔ سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کینٹ کی سربراہی میں تفتشی ٹیم تشکیل دے دی۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب نے قبل ازیں واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی اور واقعہ میں ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر مزید کارروائی کی جائے اور متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ لڑکی نے عدالت جاکر بیان دے دیا کہ میرے ساتھ کسی نے غلط کام نہیں کیا ۔ غلط فہمی کی بنا پر مقدمہ درج کروایا تھا۔ عدالت نے مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لڑکی نے ملزموں سے مک مکا کرلیا ہے۔

Comments are closed.