کراچی کے نیو کلئیر پاور پلانٹ سے شاندار کارنامے کی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کراچی کے نیو کلیئر پاور پلانٹ میں ایندھن بھرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔اگر تمام مراحل خوش اسلوبی سے طے ہو جاتے ہیں تو اس طرح کے تین مزید پلانٹ کراچی اور چشمہ کے مقامات پر لگائے جائیں گے۔ پاکستان کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ بھارت کو

نامور مضمون نگار بریگیڈئیر (ر) سیمسن سائمن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوہری سپلائی گروپ کی طرف سے سہولیات کے معاہدے اور پاکستان کو اس سہولت سے محروم رکھنے کے باجود پاکستان اپنے پرامن جوہری پروگرام کو چین کی مدد سے بڑھا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان چین کے تعاون سے عالمی معیارات کے مطابق اپنے پرامن جوہری پروگرام کو ترقی دینے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول میں کامیاب ہوا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اب پاکستان فورتھ جنریشن ہائبرڈ پاور ری ایکٹر ٹیکنالوجی حاصل کر چکا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ موثر، محفوظ اور کسی بھی ہنگامی حالت میں آسانی سے بند کی جا سکتی ہے ، چرنوبل اور فوکوشیما ایسے حالات سے بچا بھی جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو دو مقاصد، بحری جہازوں کے آئس بریکر اور جوہری آبدوزوں کے ایندھن، میں بھی استعمال کیا جا تا ہے ۔جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے پاس بہت سے آپشن کھلے ہیں۔ ۔ ۔پاکستان نے گو یہ پراجیکٹ دھائیوں پہلے شروع کئے تھے مگر ایندھن بھرنے کی صلاحیت کا حصول اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان ری ایکٹرز ٹیکنالوجی کی جدید سطح پر پہنچ چکا ہے ۔مستقبل میں اس طرح کے کئی ایک پاور پلانٹس ملکی تعمیر و ترقی کے لئے سستی بجلی فراہم کر رہے ہوں گے۔ پاکستان اپنے سول اور عسکری جوہری منصوبوں میں پلوٹونئیم جبکہ بھارت یورینیم ذرائع کی کمی کی وجہ سے تھیوریم استعمال کر رہا ہے۔ایک طویل جدوجہد کے بعد بھارت کے جوہری سائنسدان تھیوریم سے پلوٹونیم آئسوٹوپ حاصل کرتے ہیں بھارت کی اس سست رفتاری نے ہی پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے وقت فراہم کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.