کسی نے وجہ پوچھی تو بولے ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک شخص چرچ کا کلاک چوری کرنے کی غرض سے اسے اکھاڑ رہا تھا کہ اسے عقب میں آہٹ سنائی دی، اس نے مڑ کر دیکھا کہ ایک شخص جوتوں سمیت چرچ میں گھسا چلا آرہا ہے، جس پر وہ

اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے بولا ’’میں فارغ نہیں ہوں ورنہ تمہیں چرچ کی بےحرمتی کا مزا چکھاتا‘‘۔میرا دوست (ن) کبھی کسی کے کام نہیں آیا مگر اس کا تکیہ کلام ہے کہ آسانیاں تقسیم کیجئے ورنہ مشکلیں جمع ہو جائیں گی، کئی بار کہا، قبلہ بہت ہو گیا اب کسی کیلئے ایک آدھ آسانی پیدا بھی کردیں، ہنس کر کہے، آج کہہ رہا ہوں کل کر بھی دوں گا۔شیخو کا کہنا، پاکستانی مرد اندر سے منٹو باہر سے اشفاق احمد ہوتا ہے۔شیخو کا ہی کہنا، اگر 30سال کی عمر تک آپ کا کوئی جانو نہیں تو سمجھ لیں آپ صرف مردم شماری کیلئے پیدا ہوئے ہیں، ایک دن جب میں نے کہا، ہم پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کیلئے امریکی اسکول ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جبکہ امریکہ پہنچ کر اپنے بچوں کیلئے اسلامی اسکول کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ہم کتنے کنفیوژ ہیں، شیخو بولا، یہ کنفیوژن نہیں منافقت ہے، ویسے سچ ہی کہا شیخو نے، ہم نہ صرف منافق بلکہ ایسے چکر باز منافق کہ وہ سردار یاد آجائے جو سامنے جلیبیاں رکھ کر آواز لگا رہا تھا آلو لے لو، آلو لے لو، کسی نے پوچھا،سردار جی، یہ کیا، سامنے جلیبیاں اور آوازیں آلوؤں کی، سردار جی غصے سے بولے، چپ کرو، میں مکھیوں کو دھوکہ دے رہا ہوں، بلاشبہ یہ بھی سچ کہ جیسے کوئی انسان خوبیوں کا مجموعہ نہ خرابیوں کا پتلا، ویسے ہی اگر کچھ چیزیں ہم میں بری تو کچھ اچھی بھی۔جیسے حالات جتنے بھی خراب ہوں، ہم کوئی نہ کوئی رستہ نکال لیں، جیسے ہم مشکل ترین لمحوں میں مسکرا دینے والے،

جیسے بغلول سے بغلول شخص بھی ایسا فقرے باز کہ کچھ نہ پوچھیں، ابھی اس عید پر میرا پڑوسی قصائی اوردوستوں کی مدد سے بیل کو ذبح کرنے کیلئے لٹا چکا تھا کہ پاس سے گزرتے ہوئے میں کہہ بیٹھا، قربانی ہو رہی ہے۔اس سے پہلے پڑوسی کوئی جواب دیتا، اس کا بیٹا بول پڑا، نہیں انکل، بیل دا کورونا ٹیسٹ کرن لگے آں، ابھی پچھلے مہینے میں آم چوس رہا تھا کہ شیخو آگیا، مجھے دیکھ کر بولا، کچھ لوگ تو ایسے آم چوستے ہیں کہ گھٹلیاں شرما شرما کر کہہ رہی ہوتی ہیں، اب چھوڑ دیجئے نا، بس کیجئے۔سب دیکھ رہے ہیں، اس عید پر ایک دوست کو گوشت دینے گیا، مجھے دیکھتے ہی بولا، بابا جی فرماتے ہیں، پتر اصل دوست وہ نہیں ہوتا جو چھوٹے شاپر میں بڑا گوشت لائے بلکہ اصل دوست وہ ہے جو بڑے شاپر میں چھوٹا گوشت لائے۔ہمارے ایک دوست سے دوموٹر سائیکل سوار موبائل چھین کر لے گئے، یہ کئی دن ہمیں ہنس ہنس کر بتاتا رہا، سالے موبائل کا کیا کریں گے۔چارجر تو میرے پاس ہے، اسی طرح ایک دوست نے اپنے گاؤں کے میراثی کا قصہ سنایا، کہنے لگا، ہمارے گاؤں کے میراثی کے گھر لٹیرے آئے، انہوں نے میراثی کو قابوکیا، ہاتھ باندھے، صحن میں ایک دائرہ بناکر اور اسے دائرے میں کھڑا کرکے کہا، اگراس دائرے سے نکلے تو شوٹ کر دیں گے، لٹیرے سب کچھ لوٹ کر چلتے بنے۔صبح ہر اظہار ہمدردی کرنے والے کو میراثی فخریہ بتارہا تھا، وڈے لٹیرے بنے ہوئے سن، ایہہ وی پتا نہ لگا کہ میں کئی واری دائرے توں باہر نکلیا(بڑے لٹیرے بنے پھرتے تھے، انہیں یہ بھی پتا ہی نہ چلا کہ میں کئی بار دائرے سے باہر نکلا)۔

Comments are closed.