کس دبنگ شخصیت کو نیا کمانڈر مقرر کر دیا گیا ؟

جدہ (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز نے سعودی فوج کے نائب چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل مطلق بن سالم العظیمہ کو یمن میں سعودی عرب کی زیرِقیادت اتحادی افواج کا کمانڈر تعینات کر دیا ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل ہی سعودی شاہ سلمان نے مالی بدعنوانی کے الزام میں اس فوج کے

کمانڈر شہزادہ فہد بن ترکی کو اس عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ان کے صاحبزادے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن ترکی کو بھی الجوف کے نائب گورنر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق جنرل العظیمہ کی تعیناتی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تجویز پر کی گئی ہے۔سعودی وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی معلومات کے مطابق جنرل العظیمہ ایک ’قابل افسر‘ ہیں اور تازہ شاہی حکم سے قبل بھی وہ مختلف فوجی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔جنرل العظیمہ نے شاہ عبد العزیز ملٹری کالج سے بکتربند گاڑیوں میں مہارت کے ساتھ جنگی سائنس میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد انھوں نے سعودی مسلح افواج کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے فوجی علوم میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔جنرل العظیمہ مصر میں بھی وقت گزار چکے ہیں اور سعودی فوج میں انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز شیلڈ فیکشن میں بطور افسر کیا۔ پھر وہ سپلائی اور مینٹینئنس ڈویژن کے کمانڈر رہے۔انھوں نے فوج کی انتظامیہ کے علاوہ انٹیلیجنس کے شعبے میں بھی کام کیا ہے۔دوسری گلف وار کے دوران وہ کویت کو آزاد کروانے کے لیے کیے گئے ’آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ‘ میں رائل سعودی لینڈ فورس کے چوتھی بریگیڈ کا حصہ تھے اور پھر اسی بریگیڈ کے اسسٹنٹ کمانڈر اور پھر بٹالین کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ہمسایہ ملک بحرین میں بدامنی کے دوران وہ وہاں تعینات شیلڈ فورس کی قیادت کرتے رہے۔ وہاں کامیابی کے بعد انھیں سعودی عرب کے جنوبی خطے اور پھر مشرقی خطے میں فوج کی کمان سونپی گئی۔

چند روز قبل سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے شاہی حکم جاری کرتے ہوئے شہزادہ فہد بن ترکی بن عبد العزیز آل سعود کو اتحادی فوج کے کمانڈر کے عہدے سے برخاست کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن ترکی کو بھی الجوف کے نائب گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔59 سالہ شہزادہ فہد بن ترکی بن عبد العزیز آل سعود کا تعلق سعودی شاہی خاندان کی تیسری نسل سے ہے۔ وہ سلطنت کے بانی عبد العزیز آل سعود کے پوتے ہیں اور ان کے اکیسویں بیٹے ترکی دوم بن عبدالعیز السعود کی اولاد ہیں۔ ان کی والدہ شہزادی نورا بنت عبد اللہ بن عبد الرحمن ہیں۔شہزادہ فہد نے سابق بادشاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کی بیٹی سے شادی کی اور ان کا ایک بیٹا (برطرف ہونے والے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد بن ترکی) اور تین بیٹیاں ہیں۔شہزادہ فہد نے 1983 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد وہ کئی فوجی عہدوں پر فائز رہے۔شہزادہ فہد بن ترکی کا نام یمن کی لڑائی سے وابستہ رہا ہے۔ انھوں نے فروری 2018 میں اتحادی افواج کی مشترکہ کارروائیوں کی کمان سنبھالی اور حوثی باغیوں کے خلاف سعودی اتحاد کے ذریعے کیے جانے والے فوجی آپریشنوں کی نگرانی کی تھی۔شاہی فرمان میں شہزادہ فہد بن ترکی کی ریٹائرمنٹ کے احکامات جاری کئے گئے اور ان کے خلاف تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ تحقیقات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایما پر کی جا رہی ہیں جو اس وقت سعودی عرب کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع بھی ہیں اور انسداد بدعنوانی کمیشن کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔یہ تحقیقات وزارت دفاع میں مالی بدعنوانی کے شبہے کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں۔برطرف کی جانے والی دوسری اہم شخصیت شہزادہ عبد العزیز بن فہد بن ترکی سن 1990 میں پیدا ہوئے اور وہ برطرف کیے جانے والے شہزادہ فہد بن ترکی کے بیٹے ہیں۔ ان کی والدہ شہزادی عبیر سابق بادشاہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی بیٹی ہیں۔انھوں نے برطانیہ میں سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور متعدد نجی کاروباروں میں کام کیا جس کے بعد سنہ 2017 میں ان کے اردن کی سرحد پر سعودی عرب کے شمال مغرب میں الجوف خطے کا نائب گورنر مقرر کیے جانے کا شاہی حکم جاری ہوا۔تازہ شاہی فرمان میں انھیں اسی عہدے سے برخاست کرنے اور بدعنوانی کی کارروائی میں شامل تفتیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔حالیہ برسوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی حکومت میں بدعنوانی کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Comments are closed.