کس صوبے میں لاک ڈاؤن کریں گے اور کس میں نرمی ۔۔۔؟ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں اموات بڑھیں گی جبکہ ایس او پیز کی خود نگرانی کروں گا، جس صوبے میں ایس اوپیزپرعملدرآمد نہیں ہوگا ایکشن لیں گے اور مکمل بند کردیا جائے گا،عوام ڈیوٹی سمجھ کر ایس او پیز پر

عمل کریں اور دوسروں کی جانیں بچائیں،طبی عملے کے لئے خصوصی پیکیج لارہے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس پھیلتا جارہا ہے چند مخصوص لوگ چاہتے ہیں کہ ملک میں اموات زیادہ سے زیادہ ہوں اور ملک لاک ڈاؤن کی طرف جائے۔ گزشتہ تین ماہ میں میری ٹیم نے بہت اچھا کام کیا۔ پہلے دن سے کہہ رہا تھا غریب لوگوں کا سوچنا ہو گا، ہم اس لیے بچے کیونکہ ہم نے پوری طرح لاک ڈان نہیں کیا۔ احساس کیش پروگرام میں 120ارب روپیہ تقسیم کیا، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں لوگوں کو غربت سے بچانا ہے۔ اپوزیشن نے پہلے 4ہفتے بہت تنقیدکی۔ لاک ڈان کے اثرات غریب پرپڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وائرس اوپرجارہا ہے، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دنیا بھر کے حالات کو دیکھنے کے بعد سمارٹ لاک ڈان کو ترجیح بنایا۔وزیراعظم نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگ ایس اوپیزپرسب عمل کریں۔ اگرہم احتیاط نہیں کریں گے تو ہسپتالوں پرپریشربڑھتا جائے گا۔ نیویارک کے ہسپتالوں میں بھی وینٹی لیٹرزکی کمی ہوگئی ہے۔ اگر ایک محلے میں وائرس پھیلے گا تواس پورے محلے کوبند کردیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے ملک کے ایس اوپیز کا جائزہ لوں گا، وزیراعظم ہاس سے صورتحال کو مانیٹرکرونگا۔ میرے پاس روزانہ کی بنیاد پررپورٹ آئے گی، حکومت اب ایس اوپیز پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی سے کام لے گی۔جن صنعتوں، مقامات یا علاقوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہوگا اسے بند کردیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے عوام بڑی لاپرواہی کر رہے ہیں، خطرناک سوچ ہے، اگلے ماہ کورونا کی صورتحال عروج پرجاسکتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،اللہ کا شکرہے ہمارے مغرب سے بہترحالات ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.