کس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں ؟ خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔استعفوں کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کا ایک موقع مسلم لیگ (ن)کے گزشتہ دورِ حکومت میں تب آیا جب تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی بطور احتجاج استعفے جمع کروانے کے بعد بند گلی میں پہنچ گئے۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور نہ کئے جائیں۔اسپیکر ایاز صادق نے سیاسی مصلحت کے تحت اس معاملے کو دبائے رکھا۔ شاہ محمود قریشی کی طرف سے پی ٹی آئی کے 31ایم این ایز کے استعفے جمع کروائے گئے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اعتراض اُٹھایا کہ استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کے بجائے چیئرمین پی ٹی آئی کے نام بھجوائے گئے ہیں، چنانچہ سب کو نوٹس بھیجا گیا کہ وہ انفرادی طور پر چیمبر میں آکر ان استعفوں کی تصدیق کریں۔اب ایک بار پھر اپوزیشن استعفے دیکر استعفے لینے کی چال چل رہی ہے۔یہ منصوبہ بھی زیر غور ہے کہ سندھ اسمبلی تحلیل کرکے سینیٹ کے انتخابات کا راستہ روک دیا جائے۔ اُدھر حکومت یہ حکمت عملی تیار کر رہی ہے کہ سینیٹ الیکشن مارچ کے بجائے فروری میں کروا دیاجائے۔یہ کھیل مارچ 2018ء میں سینیٹ انتخابات سے ہی شروع ہوا تھا جب طاقتور لوگ کہا کرتے تھے مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ کا الیکشن نہیں جیتنے دیں گے، لگتا ہے سیاسی شطرنج کا یہ کھیل مارچ میں سینیٹ انتخابات کے موقع پر ہی ختم ہوگا۔

Comments are closed.