کشیدگی کے خاتمے کی طرف بڑا قدم :

قاہرہ (ویب ڈیسک) پیغمبر اسلام سے متعلق متنازعہ خاکوں کے حوالے سے کئی مسلم ممالک میں فرانس کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے مصر کے دورے کے دوران اسلام کے لیے ‘اعلی احترام’ پر زور دیا ہے۔    فرانس کے وزیر خارجہ زاں ایف لو دریان نے اسلام کے تعلق سے

اپنے ملک کے موقف کی وضاحت کے لیے اتوار آٹھ نومبر کو مصر کا دورہ کیا۔ یہ دورہ فرانس کے ایک جریدے شارلی ایبدو میں پیغمبراسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد ہورہا ہے۔ اس حوالے سے فرانس کے صدر کے بیانات پر مسلم ممالک میں کافی نکتہ چینی بھی ہورہی ہے۔فرانس کے وزیر خارجہ نے مصر پہنچ کر کہا، ”ہمارا پہلا اصول یہ ہے کہ ہم میں اسلام کے تئیں اعلی احترام ہے۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ فرانس میں مسلمان مکمل طور پر معاشرے کا حصہ ہیں۔” لو دریان نے اپنے مصری ہم منصب سامح حسن شکری سے ملاقات کے ساتھ ساتھ مصری صدر عبد الفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی۔ان ملاقاتوں کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مسلم برادری میں فرانس کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے۔ مسلم ممالک کے بعض حکمرانوں نے آزادی اظہار کے حقوق کے تعلق سے ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے ان بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جبکہ اسی تناظر میں بہت سے مسلم اکثریتی ممالک میں فرانس کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ”ہمیں اپنی سرزمین پر ہی نہیں بلکہ دوسرے مقامات پر بھی بدامنی کے خطرات کا سامنا ہے، اور یہ لڑائی سب کی لڑائی ہے۔”صدر سے ملاقات کے بعد فرانس کے وزیر خارجہ نے مصر کے معروف اسلامی ادارے جامع اظہر کے امام شیخ احمد الطیب سے ملاقات کی۔ مفتی احمد طیب مصر کی معروف اسلامک یونیورسٹی جامع اظہر کے شیخ الجامعہ بھی ہیں۔ جامع اظہر کو عالمی سطح پر سنی مسلمانوں کا ایک بڑا اسلامی ادارہ مانا جاتا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امام سے ان کی بات چیت بڑے کھلے ماحول میں ہوئی اور انہوں نے تجویز بھی دی کہ ”ہمیں اس مشترکہ ہم آہنگی کو  مزید مضبوط کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔”

Sharing is caring!

Comments are closed.