کل تک جہانگیر ترین کے شدید مخالف پرویز خٹک نے اچانک چپ کیوں سادھ لی ۔۔۔۔۔اب ان کے ساتھ کیا ہونیوالا ہے ؟ عارف نظامی کا خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے اقتصا دی امور خسر و بختیا ر نے اعتراف کیا ہے کہ خو راک کی کمی پو را کر نا ہما ری اولین تر جیح ہے لیکن وہ تسلیم کرنے کو تیا ر نہیں کہ گند م کی خرید اری میں کو ئی کو تا ہی ہو ئی بلکہ سب اچھا ہے

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب اچھا ہے تو پھر رو نا کس بات کا ؟۔ وزیر اعظم کو تو ریاست مدینہ کے حکمران ہو تے ہو ئے بھیس بدل کر نکل جا نا چا ہیے تھاتا کہ اپنے مشیروں کے فراہم کردہ اعداد وشمار پر یقین کرنے کے بجائے حقا ئق ان تک پہنچتے رہتے ۔ لیکن نہ جانے وزیر اعظم کس ریا ست میں رہتے ہیں جہاں حکمرانوں کی عینک سے دیکھیں تو سب ٹھیک ہی نظر آتا ہے۔وزیر اعظم مسلسل یہ ڈفلی بجا ئے جا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے ترجمانوں کے سامنے پیش گوئی کی ہے کہ چینی ، آٹا سستا ہو جا ئے گا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم گلگت بلتستان کا الیکشن جیت رہے ہیں نیز یہ کہ اپو زیشن ملک دشمن پراتر آ ئی ہے ،ترجمان ہر محاذ پر اپوزیشن کا جا رحانہ طر یقے سے مقا بلہ کریں اور قومی بیانیہ فرنٹ فٹ پر آ کر پیش کریں ۔ سٹیٹ بینک کی رپو رٹ کے مطابق قر ضوں کا حجم رواں ما لی سال میں جی ڈی پی کے 98.3فیصد کی سطح تک جا پہنچا ہے گویا کہ اگران اعدا دوشما ر کے پیچھے حقا ئق کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو ہم دیو الیہ ہو چکے ہیں ۔ بجا ئے تما م سٹیک ہولڈرز مل کر اس تشو یشناک صو رتحال پر ٹھنڈ ے دل اور سنجید گی کے سا تھ غور کر یں ،حکمرانوں کا مسلسل اصرار ہے سب ا شاریے بہتر ین اور قیمتیں بھی نیچے آ رہیں

اور چیز یں ما رکیٹ میں سستے داموں وافر مقدار میں میسر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نا ئب صدر محتر مہ مر یم نو از عوام کو مسلسل جل دے رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) ڈٹی ہوئی ہے اور حکومت نئے سال کے شر وع ہو نے تک چلی جا ئے گی ۔ حکومت جانے کے اپو زیشن کے دعوے نقش برآب ہیں ۔حکومت تو پو ری طر ح ڈٹی ہو ئی ہے اور اپوزیشن کے دعو ؤں کے مطابق چند ہفتوں میں اس کی چھٹی ہونے کی کوئی دجہ سمجھ نہیں آ تی۔ اگر مر یم نو از کے پاس جا دو کا چر اغ ہے تو انہیں اپو زیشن کے سا تھ شیئر کرنا چاہیے کیونکہ پا ور سٹر کچرکی مو جو دہ ہیت ترکیبی کے مطابق حکومت کہیں نہیں جا رہی بلکہ مشیر بر ائے احتساب شہزاد اکبر کے بیانا ت کا جائز ہ لیا جا ئے تو ان کے مطابق اپو زیشن کی مبینہ مالی بدعنوانی کے بارے میں تمام الزاما ت سچ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فر د جر م عائد ہونے کے بعدتما م دا ستا نیں صحیح ثابت ہوئیں ۔ شہزاد اکبر طر ح طر ح کے بے بنیا د الزاما ت عا ئد کر نے کے ما ہر ہیں ۔ہزما سٹر وا ئس کی طر ح وہ کل تک جہا نگیر تر ین کے پیچھے ہا تھ دھو کر پڑ ے ہو ئے تھے اوراپنی پٹاری سے بے بنیا د الزاما ت لگا کر تر ین صا حب کو مطعون کر رہے تھے اب یکدم اس معاملے میں

چپ سا دھ لی ہے۔ اب کچھ بور ہو نے کے بعد انہوں نے اپنی توپوں کا رخ دوبا رہ شہبا ز شر یف کی طرف موڑ لیا ہے۔ بجا ئے اس کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پر لگا ئے گئے الزاما ت کی صحت کی تصد یق کریں ،وہ فرما تے ہیں کہ ان سے جب حساب مانگا جا ئے تو انہیں کمر درد کا عا رضہ شر وع ہو جا تا ہے ۔حمز ہ شہبا ز نے کہا کہ جس گاڑی میں مجھے لایا گیا اس کی بر یکیں فیل تھیں،گاڑی دو دفعہ حادثے سے بچی ۔ دوسری طرف پیپلز پا رٹی کے چیئر مین بلا ول بھٹو بڑ ی ذہا نت سے اپنے سیاسی پتے کھیل رہے ہیں۔ پہلے توانہوں نے فر ما یا کہ وہ نو از شر یف کے جا رحانہ مو قف سے اتفا ق نہیں کرتے لیکن بعدازاں انہوں نے موقف میں تر میم کر لی کہ میں نے ایسے نہیں کہا ۔ بلا ول بڑ ی مہا رت کے ساتھ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں ۔انہوں نے اپنے تمام آ پشن کھلے رکھے ہو ئے ہیں ۔ بلا ول نے وہ غلطی نہیں کی جو نو از شر یف مسلسل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے را ستے بندنہیں کئے، ان کے عسکر ی قو توں سے بھی خو شگوار تعلقات ہیں اورنو ازشر یف کے ساتھ بھی ورکنگ ریلیشنز قا ئم ہیں ۔ سیا ست میں تمام آ پشن کھلے رکھنا ہی درست حکمت عملی ہے نہ کہ نو از شر یف کی طرح کھلے راستے بھی اپنے لئے بند کر لیں ۔بلا ول کو یہ بات پہلے سمجھ آ گئی تھی کہ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر لینا سیاست میں گھا ٹے کا سودا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *