کل جمعرات کا دن عمران حکومت کے لیے کیسے بہت اچھا اور نیک ثابت ہوا ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کیلئے جمعرات کا دن اس سے زیادہ اچھا ثابت نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ 24؍ گھنٹے قبل ہی ان کی حکومت طوفان کی طرف بڑھتی نظر آ رہی تھی۔ اسلام آباد کے ریڈ زون پر وفاقی حکومت کے ملازمین موجود تھے اور بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے

تنخواہوں میں نمایاں اضافہ مانگ رہے تھے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اِن مظاہرین پر حد سے زیادہ آنسو گیس استعمال کرتے نظر آئے اور حکومت بے بس نظر آ رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر دیکھا گیا کہ ریڈ زون پر دھوئیں کے بادل منڈلا رہے تھے جبکہ ٹی وی چینلوں پر اس قدر سخت کارروائی کی ضرورت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ کچھ ہی فاصلے پر سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت کر رہی تھی کہ انتظامیہ کے سینئر ترین لاء افسر نے ارکان پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز کے نام پر فی کس پچاس کروڑ روپے جاری کیے وہ بھی متنازع سینیٹ الیکشن سے قبل۔ معاملہ یہ تھا کہ کچھ سال پرانی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں خیبر پختونخوا کے ارکان پارلیمنٹ کو گزشتہ سینیٹ الیکشن سے قبل ’’رشوت‘‘ کے طور پر لاکھوں روپے وصول کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم اب یہ معاملہ بھی غیر واضح ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور معاملہ بھی تھا جس میں تحریک لبیک نے آئندہ ہفتے اسلام آباد مارچ کی وارننگ دے رکھی تھی۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت نے 16؍ نومبر 2020ء کو جو وعدہ کیا تھا وہ اب اس سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس کے بین الاقوامی سطح پر نتائج سامنے آ سکتے تھے۔ لیکن جمعرات کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے وزیراعظم کے دستخط شدہ اس بیان کو منظور کرلیا جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت ارکان پارلیمنٹ میں سرکاری فنڈز تقسیم نہیں کر رہی اور میڈیا میں اس حوالے سے آنے والی اطلاعات درست نہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ترقیاتی اسکیموں کیلئے ارکان پارلیمنٹ کو کوئی رقم نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد عدالت نے اس کیس میں مزید کارروائی نہیں کی۔ وزیراعظم کو ملنے والا ایک اور ریلیف یہ بھی تھا کہ ان کے متعلق ایک کیس نمٹا دیا گیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ، جو اس کیس کی سماعت کر رہے تھے، کو نامعلوم ذریعے سے کورٹ کے ریکارڈ کیلئے چند دستاویزات موصول ہوئیں۔ عدالت نے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی ان دستاویزات کے بارے میں اٹارنی جنرل سے بات کی اور اس کے بعد فیصلہ کیا کہ ان دستاویزات کی بنیاد پر کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ کوئی بھی شخص ان دستاویزات کے درست اور ان کے مندرجات کے مصدقہ ہونے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا کہ عدم تعصب اور شفافیت کے اصول کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ جسٹس عیسیٰ ایسے کیسز کی سماعت نہ کریں جو وزیراعظم پاکستان سے متعلق ہوں اور یہ انصاف کے تقاضوں کیلئے ضروری ہے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی وزیراعظم پاکستان کیخلاف ایک پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ بدھ کی رات دیر سے حکومت کے تین مذاکرات کاروں (شیخ رشید، پرویز خٹک اور علی محمد خان) نے بھی سرکاری ملازمین کا معاملہ نمٹا دیا اور تنخواہوں کے مسئلے پر قابل قبول معاہدہ کر لیا۔ اس کے بعد شیخ رشید اور وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے ممکنہ خطرے کو بھی زائل کر دیا اور ان کے ساتھ معاہدے کی تجدید کرلی جس سے حکومت کو 20؍ اپریل 2021ء تک سکون کی سانس لینے میں مدد ملے گی۔ لہٰذا، فی الحال عمران خان کیلئے معاملات بہتر ہوگئے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *