کل صبح یہ پیشگوئی کس نے کی تھی جو رات کو 100 فیصد درست ثابت ہوئی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) منقسم رائے عامہ کی وجہ سے وفاق کی جماعت کو خلاف توقع جی بی کے الیکشن میں غیر متوقع نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ تحریک انصاف گلگت بلتستان میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کا کریڈٹ صرف اور صرف تبدیلی کے نعرے کو ہی نہیں

بلکہ امیدواروں کی ذاتی کوششوں کو بھی جائے گا۔ نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے 15 نومبر کے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس سارے منظرنامے میں ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والی جماعت مسلم لیگ ن بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی حکومت ختم ہوتے ہی پارٹی بکھر گئی اور ایک ایک کرکے اہم ترین پارٹی عہدیداروں اور سابق وزیروں نے سیاسی قبلہ تبدیل کرلیا۔ ایک ماہ قبل حفیظ الرحمن کی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ایک ویڈیو کال وائرل ہوئی، جس میں وہ نواز شریف سے شکوہ کررہے تھے کہ ایجنسیوں نے ہماری پارٹی کے ارکان اسمبلی کو توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کروا دیا ہے۔ حفیظ الرحمان کے تخفظات اپنی جگہ، مگر ان کے متعلق مقامی افراد کی رائے یہ ہے کہ اپنے 5 سالہ دور حکومت میں حفیظ الرحمن نے پارٹی پر بالکل توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت ختم ہوتے ہی گلگت بلتستان میں ن لیگ کا شیرازہ بکھر گیا۔ الیکٹ ایبلز کے چلے جانے سے اکثر حلقوں میں صرف خانہ پری کے لئے ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔ ناقدین کی رائے میں پارٹی چھوڑ کرجانے والوں کو ن لیگ کے ساتھ مستقبل محفوظ نہیں لگ رہا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مرکزی قیادت خود اپنا سیاسی کیریئر بچانے کیلئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے، نواز شریف لندن جبکہ شہباز شریف قید میں ہیں۔ مریم نواز پی ڈی ایم کے محاذ پر بچی کھچی قیادت کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہیں۔ بادی النظر میں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن 2 سے 3 سیٹوں کے علاوہ کوئی بڑی کامیابی سمیٹتی نظر نہیں آتی۔ مسلم لیگ ن کا اصل قلعہ پنجاب ہے جو ابھی کسی نہ کسی طرح بچا ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مریم نواز تن تنہا اس کو زیادہ دیر ہولڈ نہیں کر سکیں گی۔ اس کے لئے انہیں ن لیگ میں پنجاب کی سیاست کو سب سے زیادہ سمجھنے والے بازو اور اپنے چچا زاد بھائی حمزہ شہباز کی اشد ضرورت ہے‘ لیکن یہ ساتھ مریم نواز کو ان کی اپنی شرائط پر نہیں مل سکتا۔ اس کے لئے دونوں کو برابر کا سٹیک ہولڈر بننا پڑے گا۔ ورنہ پنجاب میں بھی اگلا مقابلہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہو سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *