کمرے میں پڑے ٹی وی کی آواز فل کردی اور آہستہ سے بولے : بھٹی صاحب :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پہلے یہ پڑھیے، ہم نے محسن پاکستان سے ان کی زندگی میں کیا سلوک کیا۔پرویزمشرف دور، افواہیں زوروں پرکہ ڈاکٹر اے کیو خان کیخلاف کچھ ہونے والا، ان دنوں ڈاکٹر صاحب کا دفتر پرائم منسٹر سیکرٹریٹ میں تھا۔

ایک دن میں ان سے ملنے گیا، اسٹاف نے مجھے خلاف معمول ڈاکٹر صاحب کے دفتر سے ملحقہ کانفرنس روم میں بٹھا کر کہا، ڈاکٹر صاحب یہیں ملیں گے، تھوڑی دیر بعد ہلکے گرے رنگ کے سفاری سوٹ میں ملبوس ڈاکٹر صاحب آگئے، آتے ہی خلافِ معمول انہوں نے کانفرنس روم کے ٹی وی کی آواز اونچی کی۔ایک کرسی گھسیٹ کر میرے قریب آکر بیٹھے، بڑی آہستگی سے حال احوال پوچھا، یہ سب دیکھ کر میں نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب یہ احتیاط کیوں، آہستہ سے بولے، دفترمیں اس لئے نہیں ملا، ٹی وی کی آواز اس لئے اونچی کی، قریب آکر اس لئے بیٹھا، مجھ پر نظر رکھی جارہی، میرا سب کچھ کہیں سنا جارہا۔ڈاکٹر صاحب جو پریشان، تھکے تھکے لگ رہے تھے، چند لمحے خاموش رہ کربولے، ارشاد میاں،شکریہ تم آئے، پچھلے 5دنوں سے مجھے تو کوئی ملنے ہی نہیں آیا، سب نے ملاقاتیں کینسل کر دی ہیں بلکہ اب تو یہ نوبت آگئی ہے کہ نہ کوئی فون کرتا ہے نہ میرے فون کا جواب دیتا ہے۔میں نے حیران ہوکر پوچھا، سر ایسا کیوں؟ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب بولے، میاں سب کو پتا چل چکاکہ پرویز مشرف میرے خلاف ہو چکے، اب بھلا کوئی مجھے مل کر، فون کرکے اپنا نقصان کیوں کروائے گا، میں نے پریشان ہوکر پوچھا، سر یہ سب کیوں؟ بولے، یہ تو پتا نہیں کیوں، لیکن لگ رہا یہ مجھے گرفتار کر لیں گے، میں نے گھر بتادیا ہے، دفتر سے ضروری سامان بھی گھر بھجوا دیا ہے، میں نے کہا، سر یہ

کیسے ممکن کہ کوئی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کو گرفتار کرے؟ڈاکٹر صاحب ایک قہقہہ لگا کر بولے۔جب کم ظرفوں کو طاقت مل جائے تو پھر سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے اور پاکستان میں بھلاکب کسی نے محسنوں کی قدر کی، مجھے یا د اس دن میں کوئی گھنٹہ بھر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رہا، انہوں نے ایسی ایسی باتیں، ایسی ایسی کہانیاں سنائیں کہ کانوں سے دھواں نکل آیا، باتوں باتوں میں ایک موقع پرانہوں نے بازو آگے کرکے کہا، ذرا ہاتھ لگاؤ، میں نے ہاتھ لگایا، بازو تپ رہا تھا، بولے ایک سو دوبخار ہے۔میں نے کہا، سر آرام کریں، دکھی انداز میں بولے، اب آگے آرام ہی آرام ہے اور پھر دودن بعد وہی ہوا، ڈاکٹر صاحب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، ان کا دفتر سیل کر دیا گیا اور ان کے اسٹاف سے تفتیش شروع ہوگئی، باقی آگے جو کچھ ہوا، ٹی وی پر معافی منگوانا، انہیںامریکہ کے حوالے کرنے کی کہانی، ظفراللہ جمالی کا کردار اور بہت کچھ یہ سب کو معلوم۔دوست اور سینئر صحافی جاوید چوہدری ڈاکٹر اے کیو خان سے اپنی ملاقات کے احوال میں بتاتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، آپ کا سب سے زیادہ دل کس نے دکھایا، جواب دیا، پرویز مشرف اور نواز شریف نے، نواز شریف مجھے صدر بنانے کا کہہ کر مکر گئے (بقول ڈاکٹر صاحب انہیں بعد میں پتا چلا کہ نواز شریف نے صدارت کا ’لارا‘ رانا بھگوان داس، سرتاج عزیز اور عبدالستار ایدھی کو بھی لگایا ہوا تھا)۔ (ش س م)